Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5562

Chapter on the Names of the Prophet (ﷺ) and His Attributes (Sifat)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Names of the Prophet (ﷺ) and His Attributes (Sifat)

Zujajat al-Masabih 5562Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7225Noor 7226
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے(17) اور آپ کے دونوں شانوں کے درمیان کا فاصلہ زیادہ تھا، آپ کے گیسو آپ کے دونوں کانوں کی لو کو چھوتے تھے۔ میں نے آپ کو سرخ جوڑے میں دیکھا(18) اور آپ کے جیسا حسین تو میں کبھی نہیں دیکھا۔ (متفق علیہ)۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے میں نے شانوں کے قریب زلفوں والے سرخ جوڑا پہنے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سا کوئی حسین نہیں دیکھا۔ آپ کے گیسو مبارک آپ کے دونوں شانوں کو چھوتے تھے(19)، آپ کے دونوں شانوں کے درمیان کا فاصلہ لمبا تھا آپ نہ لمبے تھے اور نہ پست قد تھے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3551 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2337a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2337b (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (8)

Note 1

of medium height

(1) His statement: “of medium height”: Meaning close to it, though he was taller than that. His statement: “broad-shouldered”: Narrated with both large and small forms, and as a predicate or subject with an omitted topic. His statement: “hair reaching the lobes of his ears”: Meaning it touched them. In a narration by Ibn Majah and At-Tirmidhi in Ash-Shama’il from Aisha: His hair was between a jammah and a wafrah. A jammah is hair falling to the shoulders, and a wafrah is hair reaching the earlobes. The variation in narrations may reflect different states. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

I saw him in a red garment

(2) His statement: “I saw him in a red garment”: Meaning with red stripes, as Ibn Al-Malik stated. Ibn Al-Humam said: It refers to two Yemeni garments with red and green stripes, not purely red. Al-Asqalani said: They are garments with stripes. Mirak said: This does not support those who permit wearing pure red. I say: Even if taken literally, it does not prove permissibility, as it could be specific to him, before a prohibition, or to show permissibility, indicating that the prohibition of red is for dislike, not forbiddance. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

with long hair

(3) His statement: “with long hair”: With an open lam and stressed mim, as in An-Nihayah: Long hair is shorter than a jammah, named so because it reaches the shoulders. If it extends further, it is a jammah. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله مربوعا

(۱) قوله مربوعا: أي قريبا منه، وإلا فهو أطول منه. وقوله: بعيد ما بين المنكبين روي مكبرا ومصغرا، وروي منصوبا على أنه خبر ثان لـ «كان» ومرفوعا على حذف المبتدأ. وقوله: «له» شعر بلغ شحمه أذنيه أي وصلها. وفي رواية ابن ماجه والترمذي في الشمائل عن عائشة : كان شعره دون الجمة وفوق الوفرة. والجمة من شعر الرأس ما سقط على المنكبين، والوفرة شعر الرأس؛ إذ وصل إلى شحمة الأذن. ولعل اختلاف الروايات باعتبار اختلاف الحالات التقطته من المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : رأيته في حلة حمراء: أي فيها خطوط حمر، ذكره ابن الملك. وقال ابن الهمام: هي عبارة عن ثوبين من اليمن فيها خطوط حمر وخضر، لا أنه أحمر بحت. وقال العسقلاني : هي ثياب ذات خطوط قال ميرك: فلا دليل فيه لمن قال بجواز لبس الأحمر. أقول: ولو حمل على ظاهره فلا دلالة أيضًا؛ إذ يحتمل أنه من باب الاختصاص أو قبل النهي، أو لبيان الجواز فيفيد أن النهي عن الحمرة للكراهة لا للحرمة. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: ذي لمة : بكسر اللام وتشديد الميم، في النهاية: اللمة من شعر الرأس دون الجمة، سميت بذلك؛ لأنها ألمت بالمنكبين، فإذا زادت فهو الجمة. كذا في «المرقاة».

Note 1

(17) قوله: مربوعا۔ یعنی تقریباً میانہ قد تھے۔ فی الحقیقت آپ اس سے بھی لمبے تھے، قولہ بعید مابین المنکبین، دونوں شانوں کے درمیان کا فاصلہ زیادہ تھا۔ لفظ بعید بے فوقیہ کے ساتھ مکبر اور ب کو پیش کے ساتھ مصغر بھی ہے۔ (یعنی تھوڑا زیادہ فاصلہ) اور ”دال“ کو زبر کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اس وقت کان کی خبر دوم ہے۔ اور پیش کی صورت میں مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ قوله: له شعر بلغ شحمة أذنيه (آپ کے گیسو دونوں کانوں کی لو تک چھوتے تھے)۔ یعنی کانوں کی لو کو تھے۔ اور ابن ماجہ اور ترمذی باب الشمائل میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت میں ہے آپ کے گیسو جُمّہ سے کم اور وَفرہ سے زیادہ تھے، جُمّہ وہ گیسو ہیں جو شانوں پر لٹکتے ہوں اور وَفرہ گیسو ہیں جو کان کی لو تک ہوتے ہیں، اور ان روایات میں اختلاف حالات کے اختلاف کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ (18) قوله: رأيته فى حلة حمراء۔ (آپ کو میں سرخ جوڑا زیب تن کئے ہوئے دیکھا ہوں) علامہ ابن مالک نے کہا ہے کہ سرخ لباس سے مراد اس میں سرخ دھاریاں تھیں۔ علامہ ابن ہمام نے فرمایا اس میں مراد یمن کے ایسے دو کپڑے مراد ہیں جس میں سرخ اور سبز دھاریاں ہوتی ہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ بالکل سرخ رنگ کے تھے۔ اور علامہ قسطلانی نے فرمایا: یہ دھاریاں دار لباس تھا۔ اور علامہ میرک نے فرمایا جو حضرات سرخ لباس جائز قرار دیتے (حاشیہ پچھلے صفحے سے) ہیں ان کے لئے اس میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اس کے ظاہری معنی (خالص سرخ لباس) بھی لئے جائیں تو تب بھی سرخ لباس جائز ہونے کے لئے اس میں کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص ہو یا یہ سرخ لباس کی ممانعت کے حکم سے پہلے کا واقعہ ہو، یا بیان جواز کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ اسی صورت میں حرام نہیں بلکہ مکروہ (تنزیہی) ہوگا۔ (مرقات)۔

Note 2

(19) قولہ: ذی لمۃ۔ (شانوں تک گیسو والے) لمہ لام کو کسرہ ”زیر“ اور میم کو تشدید کے ساتھ۔ نہایہ میں ہے لمہ (بالوں کا کانوں تک ہونا) یہ جمّہ سے کم ہوتا ہے اس کو لمہ اسلئے کہا جاتا ہے یہ بال شانوں تک لگتے ہیں۔ (مرقات)۔