Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5567

Chapter on the Names of the Prophet (ﷺ) and His Attributes (Sifat)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Names of the Prophet (ﷺ) and His Attributes (Sifat)

Zujajat al-Masabih 5567Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7231
ان ہی سے روایت ہے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لمبے تھے نہ پست قد تھے۔ عظیم سر اور گھنی داڑھی تھی۔ ہتھیلیاں اور دونوں قدم پُر گوشت تھے رنگت سرخی مائل تھی۔ جوڑوں کی ہڈیاں بڑی تھیں(25)۔ اور سینہ تا ناف بالوں کی ہلکی قطار تھی، اور آپ جب چلتے تو قوت کے ساتھ جھک کر چلتے گویا نشیب کی طرف اتر رہے ہیں(26)۔ میں نے آپ سا حسین نہ آپ سے پہلے دیکھا اور نہ آپ کے بعد دیکھا(27)۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(ترمذی)۔

[Narrated by At-Tirmidhi, who said: This is a good, authentic Hadith]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3637 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Note 1

prominent joints

(1) His statement: “prominent joints”: Meaning large bones, the plural of kurdus, which is where two bones meet at a joint, like shoulders, knees, or hips, or bone ends. His statement: “line of hair”: With an open mim, silent sin, and open ra, meaning straight hair from chest to navel. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

as if descending a slope

(2) His statement: “as if descending a slope”: In Sharh As-Sunnah: A slope is a decline, meaning he walked strongly, lifting his feet distinctly, unlike one who walks delicately with short steps. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

I have not seen anyone like him before or after

(3) His statement: “I have not seen anyone like him before or after”: This may be a metaphor for never seeing his equal, regardless of before or after, expressing inability to fully describe his qualities. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : ضخم الكراديس: أي عظيم الأعظاء، وهو جمع الكردوس، وهو كل عظمين التقيا في مفصل نحو المنكبين والركبتين والوركين. وقيل: رؤوس العظام. وقوله: المسربة بفتح الميم وسكون السين وضم الراء الشعر المسدتق الذي يأخذ من الصدر إلى السرة. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(٢) قوله: كأنما ينحط من صبب وفي شرح السنة: الصبب الحدور، وهو ما ينحدر من الأرض، يريد به أنه كان يمشي مشيا قويا، يرفع رجليه من الأرض رفعا باثنا، لا كمن يمشي اختيالا ويقارب خطاه تنعما. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله : لم أر قبله ولا بعده مثله ربما يكون هذا الكلام كناية عن عدم رؤية المماثل له مطلقا مع قطع النظر عن القبلية والبعدية، فهذه فذلكة مشتملة على إظهار العجز عن غاية وصفه ونهاية نعته. كذا في «المرقاة».

Note 1

(25) قولہ: ضخم الكراديس۔ آپ کے اعضاء بدن عظیم تھے کرادیس کردوس کی جمع ہے کردوس ان دو ہڈیوں کو کہتے ہیں جو کسی جوڑ میں ملتی ہیں، جیسے دو شانے، دو گھٹنے، دو سرین اور ہڈیوں کے سروں کو بھی کردوس کہا جاتا ہے۔ قولہ المسربہ۔ م مفتوحہ (زبر) سین کو جزم اور راء کو پیش ہے۔ باریک بالوں کی ایک ڈوری جو سینہ سے ناف تک ہوتی ہے۔ (مرقات)۔ (26) قولہ: كأنما ينحط من صبب۔ کتاب شرح السنہ میں ہے صبب کے معنی زمین کے نشیب۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ طاقت و قوت سے دونوں پیروں کو زمین سے اچھی طرح اٹھا کر چلتے تھے۔ آپ اس آدمی کی طرح نہیں چلتے تھے جو ناز و انداز سے پاؤں کو قریب قریب ڈال کر چلتا ہے۔ (مرقات)۔ (27) قوله: لم ار قبله ولا بعده مثله. اکثر اوقات اس طرح کا کلام یہ بتانے کے لئے ہوتا ہے کہ آپ کے جیسا کبھی بھی کہیں بھی نہیں ہو سکتا۔ اس میں پہلے اور بعد کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ یہ مطلق ہے، یہ فصاحت و بلاغت نظام کلام ہے اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ کے اوصاف اور آپ کی نعت کے بیان کا حق ادا کرنے سے سب عاجز ہیں۔(مرقات)۔