اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7236
اور ان ہی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی راستہ سے چلتے
اور پھر کوئی اس کے بعد اس راستہ سے گزرتا(33) تو آپ کی خوشبو کی مہک سے یا آپ کے پسینہ کی
خوشبو سے پہچان لیتا کہ آپ اس راستے پر چلتے ہیں۔(دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 5796 (unverified) 40% confidence
- Candidate: Sunan al-Darimi 67 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 5796
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “a path”: meaning an alley. His statement: “the pleasant fragrance of his scent”: with an open ta and a silent ya, meaning his aroma, indicating that the air of that path takes on the quality of pleasant fragrance from him, so it is known that he passed through it. His statement: “or he said, meaning Jabir: due to the aroma of his sweat”: with two open vowels and a qaf, indicating uncertainty from the narrator. The meaning is one, as the intent is to show the natural pleasantness of his sweat, not the custoMaryam (Mary) fragrance, as previously mentioned that Allah distinguished him with pleasant sweat. Ibn Al-Malik said: This is among his unique qualities, not shared by other prophets, peace and blessings be upon him and them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: طريقا أي زقاقا. وقوله: من طيب عرفه بفتح فسكون ففاء، أي رائحته يعني يتكيف هواء ذلك الطريق بكيفية الطيب منه فيعرف منه أنه قد سلك هذا الطريق. وقوله: «أو قال أي جابر. من ريح عرقه بفتحتين فقاف شك من الراوي، والمال واحد؛ إذ المقصود بيان طيب عرقه الخلقي، لا طيب عرفه العرفي، كما سبق من أنه خصه الله بطيب العرق. وقال ابن الملك: هذا من خصائصه دون سائر الأنبياء عليه وعليهم الصلاة والسلام. كذا في المرقاة».
Note 1
(33) قولہ: طريقا. یعنی آپ کسی گلی سے چلتے۔ قولہ: من طيب عرفه. ”ع“ کو زبر اور ”ر“ کو جزم اور اس کے بعد ف(فا) ہے۔ آپ کی خوشبو مطلب یہ ہے کہ اس راستہ کی فضا اور ہوا آپ کی خوشبو کی کیفیت سے معطر ہو جاتی تھی اور پہچان ہو جاتی تھی کہ آپ اس راستے سے گزرے ہیں۔ قولہ: او قال. یعنی حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا آپ کے پسینہ کی خوشبو سے عرق میں ع اور راء دونوں کو زبر ہے اس کے بعد ق ہے راوی کو اس میں شک ہوگیا کہ وہ لفظ عرف ہے یا عرق ہے، دونوں کا مطلب ایک ہی ہے مقصود یہ ہے کہ یہ خوشبو آپ کے پسینہ کی ہے فطری ہے خاص خوشبو ہے، عام خوشبو نہیں ہے، اور اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پسینہ کو خوشبودار بنا دیا ہے یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہے۔ اور علامہ ابن ملک نے فرمایا ہے کہ پسینہ کا خوشبودار ہونا صرف آپ کی خصوصیت ہے دوسرے رسولوں میں یہ بات نہیں تھی۔ صلى الله عليه وعلى جميع الانبياء واله واصحابه وسلم. (مرقات)۔