اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7290
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول
اللہ کیا آپ پر ایسا کوئی دن آیا جو احد کے دن سے بھی زیادہ سخت تھا؟ تو آپ نے فرمایا: میں تمہاری
قوم سے مصیبتیں جھیلا ہوں (35) اور سب سے سخت مصیبت جو مجھے ان سے پہنچی وہ عقبہ کا دن ہے
جب کہ میں بن عبد یالیل بن کلال پر اپنے آپ کو پیش کیا تو میں نے جو چاہا اس کو وہ قبول نہیں کیا تو
میں فکر مند ہو کر اپنے رخ پر چلتا رہا اور میں نشاط میں نہیں آیا مگر مقام قرن الثعالب میں اور میں نے اپنا
سر بلند کیا تو اچانک ابر دیکھا جو مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا، اور اس میں جبریل تھے اور انہوں نے مجھے آواز
دی اور کہا اللہ نے آپ کی قوم کی بات اور آپ کو اس نے جو جواب دیا اس کو سنا اور آپ کی خدمت میں
پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے تا کہ آپ ان لوگوں کے بارے میں جو چاہیں حکم فرمائیں، حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پہاڑوں کے فرشتوں نے آواز دی اور مجھے سلام کیا: پھر عرض کیا: اے محمد! اللہ
نے آپ کی قوم کی باتوں کو سن لیا اور میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں، آپ کے رب نے مجھے آپ کی
خدمت میں بھیجا ہے تا کہ آپ مجھے اپنا حکم سنائیں، اگر آپ چاہیں تو میں ان پر دو سخت پہاڑوں
کو ملا دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی پشتوں سے
ایسے لوگوں کو پیدا کرے گا جو اللہ وحدہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں
گے۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3231 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1795 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “I have endured”: meaning what was harder than the day of Uhud, and I endured what I endured from your people, with the vague object omitted to allow full comprehension. His statement: “the hardest I endured from them was the day of Al-Aqabah”: The commentator said: “Hardest” is the predicate of “was,” and “what I endured from them” is the subject in the nominative, with “the day of Al-Aqabah” as a temporal adverb for “endured.” The meaning is: What I endured from them was on the day of Al-Aqabah. His statement: “Ibn Abd Yalil”: He was a prominent figure among the people of Ta’if. His statement: “So I set out, grieved”: a circumstantial clause inserted between the verb and its object, “aimless,” meaning I went grieving in my direction. At-Tibi said: Meaning I set out bewildered, wandering, not knowing where to go due to the intensity of that sorrow and the weight of that grief. His statement: “Qarn Ath-Tha’alib”: “Qarn” is a mountain, and Qarn Ath-Tha’alib is a specific mountain between Makkah and Ta’if. His statement: “shading me”: meaning more than usual. His statement: “to obey your command”: meaning concerning your matter. His statement: “the two mountains”: two mountains, one toward Makkah and another toward Mina, treated as one, as the commentator noted. His statement: “Rather”: meaning I do not want that, even though they deserve it for their disbelief, but rather I hope, etc. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: لقد لقيت من قومك أي ما هو أشد من يوم أحدا ولقيت من قومك ما لقيت فحذف المفعول المبهم ليذهب الوهم كل المذهب في الفهم. وقوله : وكان أشد ما لقيت منهم يوم العقبة قال شارح: أشد بالنصب خبر كان وما لقيت منهم في محل الرفع اسمه ويوم العقبة ظرف لقيت» والتقدير وكان ما لقيته منهم يوم العقبة. وقوله: ابن عبد ياليل هو من أكابر أهل الطائف. وقوله: فانطلقت وأنا مهموم جملة حالية معترضة بين الفعل ومتعلقه، وهو قوله: «على وجهي أي فذهبت مهموما على جهتي. قال الطيبي: أي فانطلقت حيرانا هائما، لا أدري أين أتوجه من شدة ذلك الغم وصعوبة ذلك الهم. وقوله: «قرن الثعالب والقرن جبل وقرن الثعالب جبل بعينه بين مكة والطائف. وقوله: قد أظلتني أي بالزيادة على العادة. وقوله: «بأمرك أي بشأنك. وقوله: «الأخشبين» وهما جبلان أيضًا، فإن إلى مكة مرة وإلى منى أخرى هما واحد ذكره شارح. وقوله: «بل» أي لا أريد ذلك وأن استحقوا لكفرهم، بل أرجوا إلخ. كذا في «المرقاة».
Note 1
(35) قوله: لقد لقيت قومك (میں تمہاری قوم سے مصیبتیں جھیلا ہوں) یعنی مجھے جنگ احد کے دن سے زیادہ سخت مصیبت پہنچی ہے یا مجھ سے وہ مصیبت پہنچی جو پہنچی مفعول حذف کر دیا گیا تا کہ خیال ہر قسم کی مصیبت کی طرف جائے۔ وقوله: وكان اشد ما لقيت منهم يوم العقبة. ایک شارح نے کہا ”اشد“ زبر کے ساتھ کان کی خبر ہے، اور ”ما لقيت منهم“ حالت رفعی میں ہے یہ کان کا اسم ہے اور يوم العقبة مفعول فیہ ہے اور اس کی تقدیری عبارت یوں ہے: وكان ما لقيته منه يوم العقبة اشد مما لقيته منهم فى سائر الايام. میں جو مصیبت تمام دنوں میں ان سے جھیلا ہوں اس سے بڑھ کر شدید مصیبت ان سے عقبہ کے دن پہنچی ہے۔ عقبہ سے مراد وہ مقام ہے جس کی طرف جمرہ کی نسبت کر کے جمرۃ العقبہ کہا جاتا ہے۔ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) قوله: ابن عبد ياليل یہ طائف کے بڑے لوگوں میں سے تھا۔ وقوله: فانطلقت وانا مهموم۔ میں چلا حالانکہ میں فکر مند تھا۔ یہ جملہ حالیہ ہے اور فعل اور اس کے متعلق على وجهى کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ میں اپنے رخ پر فکر مند حالت میں چلا۔ علامہ طیبی نے فرمایا: یعنی میں حیران و پریشان چلتا رہا، شدت غم اور مصیبت کی کثرت کی وجہ سے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کدھر جا رہا ہوں۔ قوله: قرن الثعالب۔ مکہ اور طائف کے درمیان ایک پہاڑ کا نام ہے۔ وقوله: قد اظلتنى (مجھ پر بادل سایہ فگن تھا) یعنی معمول سے زائد مجھ پر سایہ فگن تھا۔ وقوله: بل (نہیں بلکہ) یعنی میں ان کے لئے یہ عذاب نہیں چاہتا اگرچہ وہ اپنے کفر کی وجہ سے اس کے مستحق ہو گئے ہوں۔ بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی پشتوں سے اللہ وحدہ کی عبادت کرنے والے لوگ پیدا کرے گا۔ (مرقات)۔