Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5632

Chapter on the Night Journey

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Night Journey

Zujajat al-Masabih 5632Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7303Noor 7304
حضرت قتادہ حضرت انس بن مالک سے اور وہ مالک سے اور وہ مالک بن صعصعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس رات کے بارے میں بیان فرمایا(1) جس میں آپ کو معراج میں بلایا گیا تھا، کہ میں حطیم میں اور بعض دفعہ فرمایا میں حجر میں لیٹا ہوا تھا(2) ایک آنے والا میرے پاس آیا اور یہاں تک یعنی سینہ کی گنڈی سے آپ کے بالوں(3) (ناف کے نیچے) کے درمیان تک چاک کیا اور میرے دل کو نکالا(4) پھر ایک سونے کا طشت ایمان سے بھرا ہوا میرے پاس لایا گیا(5) اور میرے قلب کو غسل دیا گیا پھر اسکو بھر دیا گیا پھر اس کو اس کی جگہ لوٹا دیا گیا۔ اور ایک روایت میں ہے پھر بطن مبارک کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا پھر ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا پھر میرے پاس ایک چوپایہ لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور دراز گوش سے بڑا اور سفید روش تھا۔ اس کو براق کہا جاتا ہے(6) وہ اپنا قدم حد نظر پر رکھتا تھا۔ مجھے اس پر سوار کرا دیا گیا اور جبرئیل مجھے لیکر چلے حتی کہ آسمان دنیا تک پہنچے(7) اور دروازہ کھولنے کو کہا تو پوچھا گیا کون ہے تو کہا جبرئیل ہے کہا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہیں تو جبرئیل نے کہا(8) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں تو کہا گیا ان کی طرف بھیجا گیا تھا(9) تو اس نے کہا ہاں تو کہا گیا ان کیلئے خوش آمدید(10)۔ وہ تشریف لائے کیا خوب تشریف آوری ہے، پس دروازہ کھولا گیا اور جب میں دیکھا اس میں آدم علیہ السلام تھے تو اس نے کہا یہ آپ کے والد ہیں آپ ان کو سلامتی کی دعا دیں(11) تو میں ان کو سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا (ابن صالح اور نبی صالح) کے لئے خوش آمدید۔ پھر وہ مجھے لے کر اوپر چڑھے یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا تو کہا گیا: کون ہیں؟(12) تو کہا جبریل ہے تو کہا آپ کے ساتھ کون ہیں تو جبریل نے کہا حضرت محمد ہیں تو کہا گیا کیا ان کے پاس بلانے کے لئے بھیجا گیا تھا تو اس نے کہا ہاں تو کہا گیا ان کے لئے خوش آمدید، وہ تشریف لائے کیا خوب تشریف آوری ہے اور دروازہ کھولا گیا پس جب میں اندر پہنچا تو دیکھا کہ حضرت یحییٰ(13) اور حضرت عیسیٰ ہیں اور وہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں، اس نے کہا یہ یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام ہیں آپ ان دونوں کے لئے سلامتی کی دعا دیجئے تو میں نے سلام کیا اور ان دونوں نے جواب دیا پھر ان دونوں نے کہا مرحبا بالاخ الصالح و النبي الصالح (صاحب صلاحیت بھائی اور صاحب صلاحیت نبی کے لئے خوش آمدید) پھر وہ مجھے اوپر تیسرے آسمان کی طرف لے کر چلے اور دروازہ کھلوایا تو کہا گیا یہ کون ہیں تو اس نے کہا جبریل ہوں تو کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہیں تو اس نے کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تو کہا گیا کیا ان کو بلانے کے لئے بھیجا گیا؟ تو اس نے کہا ہاں تو کہا گیا خوش آمدید وہ تشریف لائے ان کا تشریف لانا کس قدر خوب ہے پس دروازہ کھولا گیا اور جب میں اس میں پہنچا تو دیکھا یوسف ہیں تو اس نے کہا یہ حضرت یوسف ہیں آپ ان کے لئے سلامتی کی دعاء دیجئے میں ان کو سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا اے خوش آمدید اخ صالح نبی صالح کے لئے پھر وہ مجھے اوپر چوتھے آسمان کی طرف چڑھائے اور دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو کہا گیا کون ہیں تو کہا میں جبریل ہوں تو کہا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہیں تو اس نے کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو کہا گیا کیا ان کی طرف بلانے کے لئے بھیجا گیا تھا؟ تو اس نے کہا ہاں تو کہا گیا خوش آمدید وہ تشریف لائے، ان کی تشریف آوری کس قدر خوب ہے پس دروازہ کھولا گیا جب میں اس میں پہنچا تو ادریس علیہ السلام کو دیکھا تو اس نے کہا یہ حضرت ادریس ہیں آپ ان کو سلام کیجئے تو میں ان کو سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا پھر انہوں نے کہا خوش آمدید(14) اخ صالح اور نبی صالح کے لئے پھر وہ مجھے اوپر لے چلے یہاں تک کہ پانچویں آسمان پر پہنچے پھر اس نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو کہا گیا کون ہے تو کہا جبرئیل ہوں کہا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہیں تو کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو کہا گیا کیا ان کی طرف بلانے کے لئے بھیجا گیا تھا؟ تو اس نے کہا ہاں تو کہا گیا خوش آمدید وہ تشریف لائے کیا خوب ان کی تشریف آوری ہے دروازہ کھولا گیا(15) پس جب میں اس میں پہنچا تو ہارون کو دیکھا تو انہوں نے کہا یہ ہارون ہیں آپ ان کو سلام کریں میں ان کو سلام کیا تو وہ جواب دیئے پھر فرمایا اے اخ صالح اور نبی صالح کے لئے خوش آمدید پھر مجھے اوپر لے کر چلے یہاں تک کہ چھٹے آسمان پر آئے اور دروازہ کھولنے کیلئے کہا تو کہا گیا کون ہے تو کہا جبرئیل ہوں تو کہا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہیں تو کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو کہا گیا ان کی طرف بھیجا گیا؟ تو کہا ہاں تو کہا گیا خوش آمدید کیا خوب تشریف آوری ہے اور دروازہ کھولا گیا اور جب اس میں پہنچا تو موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو اس نے کہا یہ موسیٰ ہیں اور ان کے لئے سلامتی کی دعا فرمائیں تو میں ان کو سلام کیا تو وہ جواب دیئے پھر فرمایا اخ صالح نبی صالح (صاحب صلاحیت بھائی اور صاحب صلاحیت نبی) کیلئے خوش آمدید اور جب میں آگے بڑھا تو وہ روئے(16) ان سے کہا گیا آپ کو کیا چیز رلا رہی ہے تو فرمایا میں اس لئے رو رہا ہوں کہ یہ نوجوان(17) میرے بعد مبعوث ہوئے ان کی امت کے لوگ میری امت کے مقابلہ میں زیادہ جنت میں جائیں گے پھر مجھے ساتویں آسمان پر چڑھایا گیا اور جبرئیلؑ نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا۔ تو کہا گیا کون ہے تو کہا جبرئیل ہے تو کہا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں تو کہا گیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور کیا ان کی طرف بلانے کے لئے بھیجا گیا تھا؟ تو کہا گیا ہاں تو کہا گیا خوش آمدید(18) وہ تشریف لائے کتنی اچھی تشریف آوری ہے جب میں وہاں پہنچا تو ابراہیمؑ کو دیکھا تو جبرئیل نے کہا یہ آپ کے والد ابراہیم ہیں آپ ان کو سلام کیجئے(19) تو میں ان کو سلام کیا تو وہ سلام کا جواب دیئے پھر فرمایا: ابن صالح و نبی صالح (صاحب صلاحیت صاحبزادے اور صلاحیت والے نبی) کے لئے خوش آمدید۔ پھر مجھے اوپر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا (20) تو میں بیر دیکھا جو مقام ہجر کے مٹکوں کے مثل تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے مثل ہیں اس نے کہا یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے اور چار نہروں کو دیکھا دو باطنی نہریں اندر جاری ہیں تو اس نے کہا باطنی (21) دو نہریں جنت کی نہریں ہیں اور ظاہری دو نہریں تو نیل اور فرات ہیں، پھر میرے لئے بیت المعمور دکھایا گیا(22) پھر میرے سامنے ایک برتن شراب کا ایک برتن دودھ کا اور ایک برتن شہد کا لایا گیا تو میں دودھ کو لے لیا(23) تو اس نے کہا یہ فطرت ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے پھر(24) مجھ پر ہر دن کیلئے پچاس نمازیں فرض کی گئیں پس میں واپس ہوا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا(25) آپ کو کس چیز کا حکم ملا ہے تو میں نے کہا مجھے ہر روز پچاس نمازوں کا حکم ملا ہے تو انہوں نے کہا آپ کی امت روزانہ پچاس نمازوں کی طاقت نہیں رکھے گی اور میں خدا کی قسم آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کیا ہوں اور بنی اسرائیل کے ساتھ تو شدت سے تجربہ کیا ہوں آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے(26) اور اس سے اپنی امت کے لئے تخفیف کا سوال کریں تو میں واپس گیا تو رب نے مجھ سے دس کم کیا(27) میں موسیٰ کے پاس واپس آیا تو موسیٰ نے پہلے کے جیسا ہی فرمایا تو میں واپس ہوا تو رب نے مجھ سے دس کم کیا اور میں موسیٰ کے پاس سے گزرا تو موسیٰ نے پھر ویسی ہی بات فرمائی تو میں پھر واپس گیا تو اس نے مجھ سے پھر دس کم کر دیا اور میں موسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پھر وہی بات فرمایا پھر میں واپس گیا تو رب تعالیٰ نے مجھ سے دس کم کیا اور مجھے ہر روز کے لئے دس نمازوں کا حکم دیا گیا تو میں موسیٰ کی طرف واپس آیا تو پھر انہوں نے ویسی ہی بات کہی تو میں پھر رب کے پاس واپس ہوا تو مجھے ہر روز کے لئے پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا تو موسیٰ نے کہا آپ کو کیا حکم ملا ہے تو میں بتایا کہ مجھے ہر روز کے لئے پانچ نمازوں کا حکم ملا ہے تو انہوں نے کہا آپ کی امت روزانہ پانچ نمازوں کی طاقت نہیں رکھے گی اور میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کیا ہوں(28)اور بنی اسرائیل سے تو خوب آزمایا ہوں اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اپنی امت کے لئے تخفیف کے لئے سوال کریں۔ تو میں نے کہا میں اپنے رب سے سوال کرتا رہا یہاں تک کہ مجھے شرم آگئی ہے اور لیکن میں راضی ہوں(29)اور(میرا اور میری امت کا) معاملہ(اللہ تعالیٰ کے) حوالے کر دیتا ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں آگے بڑھا تو ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا میں اپنے فریضہ کو نافذ کر دیا ہوں(30) اور میرے بندوں سے تخفیف کر دیا ہوں۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3887 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 164a (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (62)

Note 1

told them about the night he was taken on the Isra'

(1) His statement: told them about the night he was taken on the Isra': Al-Zuhri said: This was five years after his mission, and this view is the most likely. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

lying down

(2) His statement: lying down: This qualifies both narrations and could imply sleep or wakefulness. In Sharh al-Sunnah, Qadi Iyad said: People differed regarding the Isra' of Allah's Messenger (ﷺ). Some said it was entirely in a dream, but the truth, upheld by most people, the majority of the Salaf, and the generality of later scholars among jurists, hadith scholars, and theologians, is that he was taken bodily. In Imam Ahmad ibn Hanbal’s Musnad, Ibn Abbas said: What the Prophet (ﷺ) was shown, he saw with his eyes in wakefulness, because Quraysh denied it, and a group who had embraced Islam apostatized upon hearing it. Denial occurs only if it was in wakefulness, as dreams are not denied even if they are more far-fetched. The truth is that the Mi'raj happened twice: once in a dream and once in wakefulness. Ali al-Qari said: Few hold that the Isra' occurred multiple times in sleep and wakefulness, and this reconciles the differing evidences. Al-Khayali said: It is more appropriate to say the Mi'raj was repeated, once with his body and once with his soul, and Aisha’s statement refers to the latter. Muhyi al-Sunnah said: It was a vision shown by Allah before the revelation, as some said he awoke in the Sacred Mosque, then ascended in wakefulness after the revelation to fulfill the vision, like seeing the conquest of Makkah in a dream in the sixth year of Hijrah, fulfilled in the eighth year. In Al-Aqa’id al-Nasafiyyah: The Mi'raj of Allah’s Messenger (ﷺ) was in wakefulness with his body to the heavens, then to wherever Allah willed of the lofty realms, and this is the truth.

Note 3

to his pubic hair

(3) His statement: to his pubic hair: With a kasra on the shin, meaning his pubic region. Some said: The origin of the hair. (As stated in Al-Nihayah, cited in Al-Mirqat)

Note 4

then he extracted my heart

(4) His statement: then he extracted my heart: The commentator said: This splitting is different from that in his childhood, as that was to remove the inclination of desire from his heart, while this was to instill the perfection of knowledge and recognition in his heart. I say: This hints at purification and adornment. Know that this is a miracle, as it is ordinarily impossible for someone to survive having their belly split and heart extracted. Some interpreted it metaphorically, but Al-Turbishti said: What is mentioned in the hadith about splitting the throat, extracting the heart, and the like should be accepted without attempting to reinterpret it from one form to another with strained explanations to reconcile the narrated with the rational, fearing it might be deemed impossible. By Allah’s grace, we see no need to shift from the literal to the metaphorical in the report of the truthful one, as there is no impossibility in it given divine power. (As stated in Al-Mirqat)

Note 5

a basin of gold

(5) His statement: a basin of gold: Perhaps its use was before the prohibition, or it was specific to him (ﷺ). His statement: filled with faith (Iman): In Sharh Muslim, it means placing something in the basin that leads to faith, so it is metaphorical. The first commentator said: Nothing prevents taking it literally. I say: Meanings can materialize, as established in weighing deeds, slaughtering the ram of death, and the like. (As stated in Al-Mirqat)

Note 6

called the Buraq

(6) His statement: called the Buraq: It was named for its speed like lightning (Barq). Some said: From Bariq, meaning shining. Others said: For having two colors, like a sheep called Barqa’ with black patches in its white wool. It may not be derived. (As stated in Al-Mawahib, cited in Al-Lama’at) In Al-Mirqat: It is said: The most correct view is that it was prepared for the prophets to ride. Some said: Each prophet had a separate Buraq, fitting their ranks. In Sharh Muslim: They said: It is the name of the mount ridden by Allah’s Messenger (ﷺ) on the night of the Isra'.

Note 7

until he came to the lowest heaven

(7) His statement: until he came to the lowest heaven: It appears he continued on the Buraq until ascending to the heaven. Those who claim the Mi'raj was on a different night from the Isra' to Bayt al-Maqdis rely on this. In other narrations, the Mi'raj was not on the Buraq but via a ladder (Mi'raj), as explicitly stated, per Al-Asqalani. I say: It is more likely the narrator abbreviated, summarizing what was previously mentioned about tying the Buraq to the ring used by prophets. It is possible he rode the Buraq to Bayt al-Maqdis, then was taken to the heaven via the ladder (Mi'raj). Allah knows best. The narrator condensed the narration, causing confusion in understanding. The wisdom in the Isra' to Bayt al-Maqdis before ascending to the heavens was to manifest the truth to the deniers, as ascending directly from Makkah to the heavens would not allow clarifying the truth as describing Bayt al-Maqdis and the caravans encountered did. It also gained the virtue of traveling to it, as it was the place of migration for most prophets, and it is narrated that the heaven’s gate, called the Ascent of the Angels, faces Bayt al-Maqdis, so he was taken there for a straight ascent without deviation, per Al-Suyuti. (As stated in Al-Mirqat)

Note 8

He said

(8) His statement: He said: Jibril: Implying 'It is I, Jibril.' Qadi Iyad said: This shows the heavens have real gates and guardians assigned to them. It affirms seeking permission, and one should say, 'I am Zayd,' for example, not just 'I,' as is custoMaryam (Mary), as there is a prohibition against it. They said: Souls are four types: First, souls clouded by human traits, those of common people dominated by animalistic forces, unable to ascend. Second, souls with perfect intellectual capacity through acquired knowledge, those of scholars. Third, souls with perfect bodily management through acquired noble traits, those of ascetics who strengthen their bodies through discipline. Fourth, souls with perfection in both capacities, the ultimate human souls, those of prophets and the righteous. As their souls’ strength increased, their bodies’ elevation from the earth increased. Thus, prophets, with their strengthened souls, ascended to the heavens, and the most perfect was our Prophet (ﷺ), who ascended to two bows’ length or nearer. (As stated in Al-Mirqat)

Note 9

And has he been sent for

(9) His statement: And has he been sent for: The waw is for conjunction, and the interrogative is implied, meaning: Is it sought and has he been sent for the ascent? It does not question the mission itself, as that is not hidden from the angels after this time. This is the correct view. Some said: Their question was out of amazement at Allah’s favor upon him or joy at his ascent, as it was clear to them no human ascends to the heavens’ thresholds without Allah’s permission and command to His angels to raise him. Jibril does not ascend with someone not sent for, nor does he seek the opening of the heavens’ gates for him. (As stated in Al-Mirqat)

Note 10

how excellent is the coming

(10) His statement: how excellent is the coming: Meaning his coming has come. 'Has come' is a past verb used to indicate time or state, and 'coming' is the subject of 'excellent,' with the praised object omitted, meaning his coming. Some said: It means how excellent is the coming that has come, omitting the relative pronoun and sufficing with the clause. His statement: 'passed through' means arrived. (As stated in Al-Mirqat)

Note 11

so greet him

(11) His statement: so greet him: Al-Turbishti said: He was commanded to greet the prophets because he was passing by them, in the position of one standing, while they were as if seated. The standing one greets the seated, even if superior, as the hadith shows he was of higher rank, stronger state, and more complete ascent. His statement: 'returned the greeting' means returned it beautifully. This proves the prophets are truly alive. His statement: 'Welcome to the righteous son and the righteous prophet': They limited it to this description because righteousness encompasses all good qualities and noble traits. Hence, it is said: The righteous is one who fulfills Allah’s rights and those of His servants. Thus, the prophets’ supplication was: Let me die a Muslim and join me with the righteous. His statement: until he came to the second heaven: It is narrated that the distance between each heaven is five hundred years. (As stated in Al-Mirqat)

Note 12

It was said

(12) His statement: It was said: Who is this, etc.: The repetition of this question and answer at each gate indicates that time was expanded for him, space was folded, his speech was facilitated, and his status was elevated in that moment by the aid of the Merciful. (As stated in Al-Mirqat)

Note 13

there were Yahya and Eesa (Jesus)

(13) His statement: there were Yahya and Eesa (Jesus): Ibn al-Malik said in Sharh al-Mashariq: The prophets’ souls were embodied in their forms, except Eesa (Jesus), who was present bodily. Al-Turbishti preceded, saying: Seeing the prophets in the heavens and Bayt al-Maqdis ambiguously refers to seeing their spiritual forms in their earthly shapes, except Eesa (Jesus), whose sighting could be either or both. I say: It was previously stated that prophets do not die like others but transition from the perishable world to the eternal one, as narrations confirm they are alive in their graves, superior to martyrs who are alive with their Lord, and each has a known station like the angels. (As stated in Al-Mirqat)

Note 14

Welcome to the righteous brother

(14) His statement: Welcome to the righteous brother: Qadi Iyad said: This contradicts historians who say Idris was among his ancestors. It is possible Idris said this out of courtesy and etiquette, as he is also a brother, even if a father, since prophets are brothers. (As stated in Sharh Muslim, cited in Al-Mirqat)

Note 15

So it was opened

(15) His statement: So it was opened: This implies that the heaven’s gate opens only for those preceded by the quality of loftiness and loyalty, while enemies find no gate opened until a camel passes through a needle’s eye. (As stated in Al-Mirqat)

Note 16

he wept

(16) His statement: he wept: Scholars said: Musa’s weeping was not envy—God forbid—as envy is removed from believers’ hearts in that world, let alone those chosen by Allah. Rather, it was regret for the reward he missed, which raises ranks due to the multitude of followers. Ibn Abi Hamzah said: Allah placed greater mercy in prophets’ hearts than others, so he wept out of mercy for his nation. (Summarized from Al-Tawshih)

Note 17

a youth

(17) His statement: a youth: Al-Kirmani said: Mentioning 'youth' is not for belittlement but to magnify Allah’s favor upon His Messenger, granting him in that age what was not given to those older before him. 'Youth' can mean a strong, vibrant young man, as the people of Madinah called him a youth when he migrated, while calling Abu Bakr, though younger, an elder. (Summarized from Al-Mirqat)

Note 18

how excellent is the coming

(18) His statement: how excellent is the coming: Their unanimous praise in identical words indicates that the tongues of creation are the pens of truth. The word 'opened' is absent in the sources, as if omitted by the narrator or sufficed by prior mention and indicated by 'When I passed through, there was Ibrahim,' etc. (As stated in Al-Mirqat)

Note 19

so greet him

(19) His statement: so greet him: It is as if our Prophet (ﷺ) was in complete absorption, witnessing the ultimate aim, unaware of people, as Allah indicated: His sight did not waver, nor did it transgress (Al-Najm: 17). Thus, he needed Jibril’s guidance at each station. Al-Suyuti said: It is problematic that the prophets’ bodies are in their graves, yet they were seen in the heavens. It is answered that their souls took their bodily forms, or their bodies were brought to meet him that night to honor him. The wisdom in assigning specific prophets to each heaven varies by their ranks. I say: Other prophets were likely present in the heavens at stations befitting them, but only the prominent were mentioned, sufficing for the rest. (As stated in Al-Mirqat)

Note 20

Then I was raised to Sidrat al-Muntaha

(20) His statement: Then I was raised to Sidrat al-Muntaha: Meaning he was raised to it, ascended, and it was shown to him. Raising to something means approaching it. Al-Nawawi said: It is called Sidrat al-Muntaha because the angels’ knowledge ends there, and none passed it except Allah’s Messenger (ﷺ). Abdullah ibn Mas’ud said: It is so named because what descends from above it and ascends from below it, of Allah’s command, ends there. Al-Suyuti said: It is attributed to al-Muntaha because it is where the deeds and knowledge of creation end, and none but the Prophet (ﷺ) pass it among angels and messengers. It is in the seventh heaven, with its trunk’s base in the sixth. His statement: like the jars of Hajar: Qilal (jars) is plural of qullah, a jar, and Hajar is a place where jars are made abundantly. 'Elephants' is plural of fil. This is a simile for people’s understanding, not literal. (Summarized from Al-Mirqat and Al-Lama’at)

Note 21

As for the hidden ones

(21) His statement: As for the hidden ones: Ibn al-Malik said: One is called Al-Kawthar, the other the River of Mercy, as in a narration. They are hidden because their nature is unclear, beyond minds’ description, or unseen until they flow into Paradise. His statement: the apparent ones are the Nile and the Euphrates: Qadi Iyad said: The hadith indicates Sidrat al-Muntaha’s root is on earth, as the Nile and Euphrates emerge from it. Ibn al-Malik said: It may mean what is known among people, their water coming from its root, though its manner is unknown, or it is metaphorical, likening them to Paradise’s rivers in purity and sweetness, or a coincidence of names. In Sharh Muslim, Muqatil said: The hidden are Al-Salsabil and Al-Kawthar, and the apparent, the Nile and Euphrates, emerge from its root, flow where Allah wills, then emerge on earth. This is not contradicted by reason or Shariah, and as it is the apparent meaning, it must be followed. (As stated in Al-Mirqat)

Note 22

Then the Bayt al-Ma'mur was raised for me

(22) His statement: Then the Bayt al-Ma'mur was raised for me: Meaning it was brought near and shown for my sake. It is a house in the seventh heaven aligned with the Ka’bah, its sanctity in the heavens like the Ka’bah’s on earth. (As stated in Al-Mirqat)

Note 23

I took the milk

(23) His statement: I took the milk: Ibn al-Malik said: Milk, being the first nourishment for a newborn, represents in the sacred realm guidance and the natural disposition (Fitrah) that perfects spiritual strength, beginning with submission to Shariah and ending with reaching Allah. His statement: This is the Fitrah: The pronoun is feminine, referring to the milk’s implication, though milk is masculine, for the sake of the context. (As stated in Al-Mirqat)

Note 24

Musa said

(24) His statement: Musa said: It may be that Musa spoke in this station due to his distinction of speaking with Allah in this world among prophets, showing utmost sincerity and compassion for this nation, unlike other prophets. (As stated in Al-Lama’at)

Note 25

So return to your Lord

(25) His statement: So return to your Lord: Al-Khattabi said: Consulting Allah about prayer was permissible for our Messenger Muhammad (ﷺ) and Musa because they knew the initial command was not absolutely binding, as their consultation indicates. An absolutely binding command does not allow reduction. I say: What is not binding needs no reduction request. The correct view is that Allah initially prescribed fifty, then out of mercy abrogated it to five, like the breastfeeding verse or the waiting period for widows, per some. This proves abrogation before implementation is permissible, as held by the majority, and it is correct. The Mu’tazilah and some scholars said it is not permissible, per Al-Nawawi. (As stated in Al-Mirqat)

Note 26

He reduced it by ten

(26) His statement: He reduced it by ten: This implies the reduction was by ten, then five, but another narration suggests it was by five each time. A third vessel, honey, is mentioned here, so perhaps two reductions were combined, and omission does not negate existence. The five was expressed as ten for brevity. (Summarized from Al-Mirqat and others)

Note 27

dealt with the Children of Israel

(27) His statement: dealt with the Children of Israel: Meaning tested them and faced difficulty in their obedience. (As stated in At-Tibi) In Al-Qamus: Dealt with means increased effort and care. (As stated in Al-Mirqat)

Note 28

I am content

(28) His statement: I am content: Meaning with what my Lord decreed and apportioned. And I submit: Meaning I surrender my affair and theirs to Allah and comply with His judgment. At-Tibi said: If you say 'but' implies contrasting statements, what is its role here? I say: The implication is: I asked until I was ashamed, so I will not return, for if I did, I would not be content or submissive, but I am content and submissive. (As stated in Al-Mirqat)

Note 29

I have established My obligation

(29) His statement: I have established My obligation: The hadith of the Mi'raj is used as evidence for the prescription of five prayers and their establishment without change by those who say the Witr is not obligatory. The response: The intended is the definitive prescription in practice and belief, and the obligation of Witr is not like that; it is established by the Sunnah with evidence that has ambiguity. Therefore, our greatest Imam said it is obligatory in this sense, without its prescription in that sense. Moreover, it is possible that the meaning of establishing the prescription of the five and its non-change is the abrogation of its prescription entirely or partially, not the prevention of addition to it, so it is permissible that another prayer be revealed after the prescription of the five. (As stated in Al-Lama’at)

Note 1

قوله

(۱) قوله: حدثهم عن ليلة أسري به قال الزهري: كان ذلك بعد مبعثه الله بخمس سنين هذا القول أشبه الأقوال. كذا في «المرقاة».

قوله

(۱) قوله : ثم : يعني بعد وصوله إلى مقام، ﴿ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى (النجم : ۸). فرضت علي الصلاة وفي الحديث الآتي على أمتي، ولا منافاة. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: مضطجعا قيد للروايتين، وهو يحتمل النوم واليقظة. وفي شرح السنة : قال القاضي عياض: اختلف الناس في الإسراء برسول الله ﷺ ، فقيل : إنما كان جميع ذلك في المنام، والحق الذي عليه أكثر الناس ومعظم السلف وعامة المتأخرين من الفقهاء والمحدثين والمتكلمين أنه أسري بجسده. وفي مسند الإمام أحمد بن حنبل عن ابن عباس قال: شيء أريه النبي الله في اليقظة رآه بعينه، ولأنه قد أنكرته قريش وارتدت جماعة ممن كانوا سلموا حين سمعوه، وإنما ينكر إذا كانت في اليقظة، فإن الرؤيا لا ينكر منها ما هو أبعد من ذلك على أن الحق أن المعراج مرتان مرة بالنوم وأخرى باليقظة. وقال علي القاري ومن القليل من قال بتعداد الإسراء نوما ويقظة، وبه يجمع بين الأدلة المختلفة. وقال الخيالي له الأولى أن يجاب بأن المعراج كان مكررا مرة بشخصه ومرة بروحه. وقول عائشة حكاية الثانية. وقال محيي السنة رؤيا أراه الله قبل الوحي بدليل قول من قال: فاستيقظ وهو في المسجد الحرام، ثم عرج به في اليقظة بعد الوحي تحقيقا لرؤياه، كما أنه رأى فتح مكة في المنام سنة ست من الهجرة، ثم كان تحقيقه سنة ثمان. وفي «العقائد النسفية»: والمعراج الرسول الله ﷺ في اليقظة بشخصه إلى السماء، ثم إلى ما شاء الله تعالى من العلى حق.

Note 3

قوله

(۳) قوله: إلى شعرته : بكسر الشين، أي عانته. وقيل: منبت شعرها. كذا في النهاية» قاله في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: فاستخرج قلبي: قال شارح وهذا الشق غير ما كان في زمن الصبا؛ إذ هو لإخراج مادة الهوى من قلبه. وهذا لإدخال كمال العلم والمعرفة في قلبه. قلت: وفيه إيماء إلى التخلية والتحلية، ثم اعلم أن هذا معجزة، فإن من المحال العادي أن يعيش من ينشق بطنه ويستخرج قلبه، وكان بعضهم حملوها على المعاني المجازية، ولذا قال التوربشتي: ما ذكر في الحديث من شق النحر واستخراج القلب وما يجري مجراه، فإن السبيل في ذلك التسليم دون التعرض بصرفه من وجه إلى وجه بنقول متكلف ادعاء للتوفيق بين المنقول والمعقول هربا مما يتوهم أنه محال، ونحن بحمد الله لا نرى العدول عن الحقيقة إلى المجاز في خبر الصادق عن الأمر لعدم المحال به على القدرة. كذا في «المرقاة».

Note 5

قوله

(٥) قوله: بطست من ذهب لعل الاستعمال كان قبل التحريم أو القضية من خصوصياته عليه الصلاة والسلام. وقوله: «مملوء إيمانا في شرح مسلم»: معنى جعل الإيمان في الطست جعل شيء فيه يحصل به الإيمان، فيكون مجاز وقد قال الشارح الأول: مانع من إرادة الحقيقة. أقول: والحاصل أن المعاني قد تتجسم كما حقق في وزن الأعمال، وذبح كبش الموت ونحوهما. كذا في «المرقاة».

Note 6

قوله

(٦) قوله: يقال له البراق: سمي به لسرعة سيره كالبرق. وقيل: هو من البريق بمعنى اللمعان. وقيل: لكونه ذا لونين يقال: شاة برقاء إذا كان في خلال صوفها الأبيض طاقات سود. ويحتمل أن لا يكون مشتقا. كذا في «المواهب» قاله في اللمعات». وقال في المرقاة». قيل: الأصح أنه كان معدا لركوب الأنبياء. وقيل: لكل نبي براق على حدة، وهو مناسب لمراتب الأصفياء. وفي شرح مسلم: قالوا: هو اسم للدابة التي ركبها رسول الله ﷺ ليلة الإسراء.

Note 7

قوله

(٧) قوله: حتى أتى السماء الدنيا: ظاهره أنه استمر على البراق حتى عرج إلى السماء، وتمسك به من زعم أن المعراج كان في ليلة غير ليلة الإسراء إلى بيت المقدس، فأما المعراج فعلى غير هذه الرواية من الأخبار أنه لم يكن على البراق بل رقي في المعراج وهو السلم، كما وقع به مصرحا، ذكره العسقلاني. أقول: الأظهر أن هذا اقتصار من الراوي، وإجمال لما سبق أنه ربط البراق بالحلقة التي يربط بها الأنبياء. نعم، يمكن أن يكون سيره على البراق إلى بيت المقدس ثم إسراءه إلى السماء بالمعراج الذي هو السلم، والله أعلم. فكان الراوي طوى الرواية، فاختل به أمر الدراية، ثم. قيل: الحكمة في الإسراء إلى بيت المقدس قبل العروج إلى السماء إظهار الحق للمعاندين؛ لأنه لو عرج به عن مكة إلى السماء أولا لم يكن سبيل إلى إيضاح الحق للمعاندين كما وقع الإخبار بصفة بيت المقدس، وما صادفه في الطريق من العير مع ما في ذلك من حيازة فضيلة الرحيل إليه؛ لأنه محل هجرة غالب الأنبياء، ولما روي أن باب السماء الذي يقال: له مصعد الملائكة يقابل بيت المقدس، فأسري إليه ليحصل العروج مستويا من غير تعويج ذكره السيوطي. كذا في «المرقاة».

Note 8

قوله

(۸) قوله : قال جبريل بتقدير هو وأنا. قال القاضي عياض وفيه أن للسماء أبوابا حقيقة وحفظة موكلين بها. وفيه إثبات الاستئذان، وأنه ينبغي أن يقول: أنا زيد مثلا يعني لا يكتفي بقوله : أنا، كما هو المتعارف؛ إذ قد ورد به النهي. وقالوا: الأرواح أربعة أقسام : الأول: الأرواح المكدرة بالصفات البشرية، وهي أرواح العوام غلبتها القوى الحيوانية لا تقبل العروج والثاني: الأرواح التي لها كمال القوة النظرية باكتساب العلوم، وهذه أرواح العلماء. والثالث: الأرواح التي لها كمال القوة المدبرة للبدن باكتساب الأخلاق الحميدة، وهذه أرواح المرتاضين؛ إذ كبروا قوى أبدانهم بالارتياض والمجاهدة والرابع: الأرواح الحاصلة لها كمال القوتين، وهذه غاية الأرواح البشرية، وهي للأنبياء والصديقين، فلما ازداد قوة أرواحهم ازداد ارتفاع أبدانهم عن الأرض، ولهذا لما كان الأنبياء عليهم السلام قويت فيهم هذه الأرواح عرج بهم إلى السماء وأكملهم قوة نبينا ، فعرج به إلى قاب قوسين أو أدنى. كذا في «المرقاة».

Note 9

قوله

(٩) قوله : قيل: وقد أرسل إليه : الواو للعطف وحرف الاستفهام مقدر ، أي أطلب وأرسل إليه بالعروج، وليس مراده الاستفهام عن أصل البعثة والرسالة، فإن ذلك لا يخفى على الملائكة إلى هذه المدة. وهذا هو الصحيح. وقيل: كان سؤالهم للاستعجاب بما أنعم الله عليه أو للاستبشار بعروجه إليه؛ إذ كان من البين عندهم أن أحدا من البشر لا يترقى إلى أسباب السماوات من غير أن يأذن الله له ويأمر ملائكته بإصعاده، فإن جبريل لم يصعد بمن لم يرسل إليه، ولا يستفتح له أبواب السماء. التقطته من «المرقاة».

Note 10

قوله

(١٠) قوله: فنعم المجيء: أي مجيئه جاء» فعل ماض وقع استئناف بيان زمانا أو حالا، والمجيء فاعل «نعم» والمخصوص بالمدح محذوف، أي مجيئه. وقيل: تقديره : نعم المجيء الذي جاء، فحذف الموصول واكتفى بالصلة. وقوله: «خلصت» أي وصلت. كذا في «المرقاة».

Note 11

قوله

(١١) قوله: فسلم عليه : قال التوربشتي : أمر بالتسليم على الأنبياء؛ لأنه كان عابرا عليهم، وكان في حكم القائم وكانوا في حكم القعود والقائم يسلم على القاعد، وإن كان أفضل منهم، وكيف لا والحديث دل على أنه أعلى مرتبة وأقوى حالا وأتم عروجًا. وقوله: «فرد السلام أي ردا جميلا. وفيه دليل على أن الأنبياء أحياء حقيقة. وقوله: «مرحبا بالابن الصالح والنبي الصالح. قيل: وإنما اقتصر الأنبياء على هذا الوصف؛ لأن الصلاح صفة تشتمل جميع خصائل الخير وشمائل الكرم، ولذا قيل: الصالح من يقوم بما يلزمه من حقوق الله وحقوق عباده، ولذا ورد في الدعاء على ألسنة الأنبياء: توفني مسلما ألحقني بالصالحين. وقوله: حتى أتى السماء الثانية وقد ورد أن بين كل سماء وسماء مسافة خمس مائة عام. كذا في «المرقاة».

Note 12

قوله

(١٢) قوله: قيل: من هذا إلخ في تكرار هذا السؤال والجواب في كل من الأبواب إشعار بأنه بسط له الزمان وطوي له المكان واتسع له اللسان وانتشر له الشأن في ذلك الآن بعون الرحمن. كذا في «المرقاة».

Note 13

قوله

(١٣) قوله : إذا يحيى وعيسى: قال ابن الملك: في شرح المشارق المرئي كان أرواح الأنبياء متشكلة بصورهم التي كانوا عليها إلا عيسى؛ فإنه مرثي بشخصه وسبقه التوربشتي حيث قال: ورؤية الأنبياء في السماوات. وفي بيت المقدس حيث أبهم يحمل على رؤية روحانيتهم الممثلة بصورهم التي كانوا عليها غير عيسى؛ فإنه رؤيته محتملة للأمرين أو أحدهما. قلت: وقد قدمنا أن الأنبياء لا يموتون كسائر الأحياء، بل ينتقلون من دار الفناء إلى دار البقاء، وقد ورد به الأحاديث والأنباء، وأنهم أحياء في قبورهم، فإنهم أفضل من الشهداء وهم أحياء عند ربهم، وأن كلا منهم كالملائكة لهم مقام معلوم. التقطته من «المرقاة».

Note 14

قوله

(١٤) قوله : مرحبا بالأخ الصالح: قال عياض: هذا يخالف قول أهل التاريخ: إن إدريس كان من آبائه . ويحتمل أن يكون قول إدريس ذلك تلطفا وتأدبا، وهو أخ أيضًا، وإن كان أبا، فإن الأنبياء إخوة. كذا في شرح مسلم قاله في «المرقاة».

Note 15

قوله

(١٥) قوله: ففتح: فيه إشعار بأنه لم يفتح باب السماء إلا لمن يكون مسبوقا بنعت العلاء ووصف الولاء، وأما الأعداء، فلا تفتح لهم أبواب السماء حتى يلج الجمل في سم الخياط. كذا في «المرقاة».

Note 16

قوله

(١٦) قوله: بكى إلخ : قال العلماء: لم يكن بكاء موسى حسدا معاذ الله، فإن الحسد في ذلك العالم منزوع من أحاد المؤمنين، فكيف بمن اصطفاه الله تعالى، بل كان أسفًا على ما فاته من الأجر الذي يترتب عليه رفع الدرجة بسبب كثرة من اتبعه. وقال ابن أبي حمزة: إن الله تعالى جعل الرحمة في قلوب الأنبياء أكثر مما جعل في قلوب غيرهم، فلذلك بكى رحمة لأمته، ملخص من «التوشيح».

Note 17

قوله

(١٧) قوله: غلاما: قال الكرماني : ذكر الغلام ليس للتحقير والاستصغار به ، بل هو لتعظيم منة الله على رسوله من غير طول العمر؛ إذ أعطي لمن كان في ذلك السن ما لم يعطه أحدا قبله ممن هو أسن منه. وقد يطلق الغلام ويراد به القوي الطري الشاب، ولهذا كان أهل المدينة يسمونه حين هاجر إليهم شابا وأبا بكر مع أنه أصغر منه شيخا. ملتقط من المرقاة».

Note 18

قوله

(١٨) قوله: فنعم المجيء: جاء في أطباق كلمتهم واتفاق جملتهم على هذا المدح المطلق إشعار بأن ألسنة الخلق أقلام الحق، وليس هنا في الأصول لفظ فتح، فكأنه سقط من لفظ الراوي أو اكتفاء بما سبق ودلالة عليه بقوله: «فلما خلصت فإذا إبراهيم إلخ.

Note 19

قوله

(١٩) قوله: فسلم عليه كأن نبينا الله كان في الاستغراق التام ومشاهدة المرام غافلا عن الأنام، كما أشار إليه سبحانه وتعالى بقوله: ﴿ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى ﴾ (النجم : ۱۷) حتى احتاج في كل من المقام إلى تعليم جبريل عليه. قال الحافظ السيوطي: استشكل رؤية الأنبياء في السماوات مع أن أجسادهم مستقرة في قبورهم. وأجيب بأن أرواحهم تشكلت بصورة أجسادهم، أو أحضرت أجسادهم لملاقاته له تلك الليلة تشريفا له، واختلف في حكمة اختصاص من ذكر من الأنبياء بالسماء التي لقيه، والأشهر أنه على حسب تفاوتهم في الدرجات. أقول: بقي الكلام على سائر الأنبياء عليهم السلام، ولعلهم كانوا موجودين في السماوات بما يناسبهم من المقام، ولم يذكر في كل سماء إلا واحد من المشاهير الأعلام، واكتفى بذكرهم عن بقية الكرام. كذا في «المرقاة».

Note 20

قوله

(٢٠) قوله: ثم رفعت إلى سدرة المنتهى: المراد رفعه إليها، أي ارتقى به وأظهرت له والرفع إلى الشيء يطلق على التقرب منه. قال النووي: سميت سدرة المنتهى؛ لأن علم الملائكة ينتهي إليها ولم يجاوزها أحد إلا رسول الله ، وحكي عن عبد الله بن مسعود أنها سميت بذلك؛ لكونه ينتهي إليها ما يهبط من فوقها، وما يصعد من تحتها من أمر الله تبارك وتعالى. وقال السيوطي: وإضافتها إلى المنتهى؛ لأنها مكان ينتهي دونه أعمال العباد وعلوم الخلائق، ولا تجاوز للملائكة والرسل منها إلا النبي ، وهي في السماء السابعة وأصل ساقها في السادسة. وقوله: مثل قلال هجر، القلال بالكسر جمع قلة بالضم، وهي الجرة و«هجر» بفتحتين اسم موضع يصنع فيه القلال كثيرا، و«الفيلة» بكسر الفاء وفتح التحتية جمع الفيل. وهذا تمثيل على قدر فهم الناس، وليس على حقيقة. ملتقط من «المرقاة» واللمعات».

Note 21

قوله

(٢١) قوله : أما الباطنان فنهران في الجنة : قال ابن الملك: يقال لأحدهما، الكوثر، وللآخر : نهر الرحمة، كما في خبر، وإنما قال باطنان الخفاء أمرهما، فلا يهتدي العقول إلى وصفهما، أو لأنهما مخفيان عن أعين الناظرين، فلا يريان حتى يصبا في الجنة. وقوله: وأما الظاهران فالنيل والفرات قال القاضي الحديث يدل على أن أصل سدرة المنتهى في الأرض لخروج النيل والفرات من أصلها. وقال ابن الملك: يحتمل أن يكون المراد منهما ما عرفا بين الناس، ويكون ماءهما مما يخرج من أصل السدرة، وإن لم يدرك كيفيته، وأن يكون من باب الاستعارة في الاسم بأن شبههما بنهري الجنة في الهضم والعذوبة، أو من باب توافق الأسماء بأن يكون اسما نهري الجنة موافقين لاسمي نهري الدنيا. وفي شرح مسلم: قال مقاتل: الباطنان هو السلسبيل والكوثر، والظاهر أن النيل والفرات يخرجان من أصلها، ثم يسيران حيث أراد الله تعالى، ثم يخرجان من الأرض ويسيران فيها. وهذا لا يمنعه شرع ولا عقل، وهو ظاهر الحديث، فوجب المصير إليه. كذا في «المرقاة».

Note 22

قوله

(٢٢) قوله : ثم رفع لي أي قرب وأظهر لأجلي البيت المعمور، وهو بيت في السماء السابعة حيال الكعبة وحرمته في السماء كحرمة الكعبة في الأرض. كذا في «المرقاة».

Note 23

قوله

(٢٣) قوله : فأخذت اللبن : قال ابن الملك: اعلم أن اللبن لما كان أول ما يحصل به تربية المولود صور به في العالم المقدس مثل الهداية والفطرة التي يتم به القوة الروحانية، وهي الاستعداد للسعادات الأبدية، أولها انقياد الشرع وآخرها الوصول إلى الله تعالى. وقوله: هي الفطرة أنث مرجع اللبن، مع أنه مذكر مراعاة للخبر. كذا في «المرقاة».

Note 24

قوله

(٢٤) قوله : فقال إلخ : قيل : لعل اختصاص موسى بالتكلم في هذا المقام لاختصاصه بكلام الله تعالى في الدنيا من بين سائر الأنبياء، وقد بالغ عليه في النصيحة والشفقة لهذه الأمة في هذه القضية، وظهر منه ما لم يظهر من أحد من الأنبياء. كذا في اللعمات».

Note 25

قوله

(٢٥) قوله: فأرجع إلى ربك قال الخطابي : مراجعة الله في باب الصلاة إنما جازت من رسولنا محمد وموسى عليهما الصلاة والسلام؛ لأنهما عرفا أن الأمر الأول غير واجب قطعا، لما صدرت منهما المراجعة، فصدور المراجعة دليل على أن ذلك غير واجب قطعا؛ لأن ما كان واجبا قطعا لا يقبل التخفيف، ذكره الطيبي، وتبعه ابن الملك، وأقول: وما لم يكن واجبا لا يحتاج إلى سؤال التخفيف قطعا، فالصحيح ما قيل: إنه تعالى في الأول فرض خمسين، ثم رحم عباده و نسخها بخمس، كآية الرضاع عند بعض، وعدة المتوفى عنها زوجها على قول. وفيه دليل على أنه يجوز نسخ الشيء قبل وقوعه، كما قال به الأكثرون، وهو الصحيح، وقالت المعتزلة وبعض العلماء: لا يجوز، ذكره النووي. كذا في «المرقاة».

Note 26

قوله

(٢٦) قوله: فوضع عني عشرا يفهم من هذا أن الحط كان عشرا عشرا، ثم خمسا، وسيأتي ما يدل على أن الحط كان خمسا خمسا، وزيد ههنا إناء ثالث، وهو إناء العسل، فلعله جعلت المرتان مرة، وإن عدم الذكر لا يدل على عدم الوجود وعبر عن الخمس بالعشر اقتصرًا واختصارًا، أخذته من المرقاة» وغيره.

Note 27

قوله

(٢٧) قوله: عالجت بني إسرائيل: أي مارستهم ولقيت الشدة فيما أردت منهم من الطاعة. كذا في «الطيبي». وفي القاموس : عالجه علاجا ومعالجة زاد له ودا واه.

Note 28

قوله

(٢٨) قوله : ولكني أرضى أي بما قضى ربي وقسم. وأسلم أي أمري وأمرهم إلى الله وأنقاد بما حكم. قال الطيبي: فإن قلت: حق لكنّ» أن يقع بين كلامين متغايرين معنى، فما وجهه ههنا؟ قلت: تقدير الكلام هنا حتى استحييت فلا أرجع، فإني إذا رجعت كنت غير راض ولا مسلم، ولكني أرضى وأسلم. كذا في «المرقاة».

Note 29

قوله

(٢٩) قوله: أمضيت فريضتي استدل بحديث المعراج في فرضية خمس صلوات وإمضائها وعدم تبدلها من قال بعدم وجوب الوتر والجواب: أن المراد الفرضية القطعية عملا واعتقادا، ووجوب الوتر ليس كذلك، وهو ثابت بالسنة بدليل فيه شبهة، ولذا قال إمامنا الأعظم بوجوبه بهذا المعنى، دون فرضيته بذلك المعنى، على أنه يجوز أن يكون المراد بإمضاء فرضية الخمس وعدم تبدلها نسخ فرضيتها كلا أو بعضًا، لا عدم الزيادة عليها، فيجوز أن يوحى بعد فرضية الخمس بصلاة أخرى. كذا في «اللمعات».

Note 1

(1) قوله: حدثهم عن ليلة اسرى به. (آپ نے ان کو اس رات کے بارے میں بیان کیا جس میں معراج کرائی گئی) امام زہری نے فرمایا واقعہ معراج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے پانچ سال بعد واقع ہوا اور یہی قول راجح ہے۔ (مرقات)۔ (2) قوله: مضطجعا (لیٹے ہوئے تھے) یہ دونوں روایتوں کے لئے قید ہے اور خواب اور بیداری دونوں کا احتمال ہے۔ اور کتاب شرح السنہ میں قاضی عیاض نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج سے متعلق لوگوں کے مختلف اقوال ہیں ایک قول میں ہے کہ یہ سارا واقعہ منامی ہے مگر حق بات جس پر اکثر لوگ اور بکثرت بزرگان دین اور متاخرین فقہاء محدثین اور متکلمین ہیں کہ آپ کی معراج جسم مبارک کے ساتھ (بیداری میں) ہوئی ہے۔ اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو چیز بھی دکھائی گئی وہ بیداری میں ہے اور آپ نے اس کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے اور اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ قریش نے اس کا انکار کیا اور ایک جماعت جو اسلام لائی تھی واقعہ معراج کو سننے کے بعد مرتد ہوگئی اور یہ انکار اسی وقت متصور ہوگا جب کہ یہ معراج بیداری میں ہو کیونکہ خواب میں اس سے بھی زیادہ بعید بات کا انکار نہیں کیا جاتا۔ اور یہ معراج دو مرتبہ ہوئی ایک مرتبہ خواب میں اور دوسری مرتبہ بیداری میں ہوئی ہے۔ اور علامہ ملا علی قاری نے فرمایا: بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ معراج خواب میں بھی اور بیداری میں بھی متعدد مرتبہ ہوئی ہے اور اس قول سے معراج کے مختلف دلائل کے درمیان جمع کیا جاسکتا ہے۔ اور علامہ خیال رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کا بہتر جواب یہ ہے کہ معراج دو مرتبہ ہوئی ایک مرتبہ آپ کے جسم مبارک کے ساتھ دوسری مرتبہ آپ کی روح مبارک کے ساتھ ہوئی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول میں دوسری روحانی معراج کا بیان ہے۔ اور علامہ محی السنہ نے فرمایا رویا سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نزول وحی سے پہلے خواب میں معراج کرایا تھا اور اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ذکر ہے کہ آپ جب بیدار ہوئے تو مسجد حرام میں تھے۔ اور اس خواب کو پورا کرنے کے لئے نزول وحی کے بعد بیداری کی حالت میں بھی آپ کو معراج کرائی گئی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶ ہجری میں فتح مکہ کا خواب دیکھا پھر اس کو(8) آٹھ ہجری میں پورا کیا گیا۔ اور عقائد نسفیہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت بیداری میں جسم کے ساتھ آسمانوں کی طرف معراج ہوئی پھر اللہ تعالیٰ نے وہاں سے آپ کو جس قدر بلندی پر چاہا معراج میں بلایا یہ معراج حق اور ثابت ہے۔ (3) قوله الى شعرته. ش کو زیر (کسرہ) ہے پیڑو کو کہتے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ شعرۃ سے ناف کے نیچے بال اگنے کا مقام مراد ہے، نہایہ میں ایسا ہی ہے۔ (مرقات)۔ (4) فاستخرج قلبي. (اور اس نے میرے دل کو نکالا) ایک شارح نے بیان کیا قلب مبارک کو شق کرنے کا یہ واقعہ بچپن کے واقعہ کے علاوہ ہے وہ شق کرنا خواہش نفس کے مادہ کو نکال دینے کے لئے ہوا تھا اور یہ شق کرنا کمال علم ومعرفت کو داخل کرنے کے لئے ہوا۔ اور میں کہتا ہوں اس میں تخلیہ اور تحلیہ دونوں کی طرف اشارہ ہے۔ پھر اس بات کو یاد رکھو کہ یہ معجزہ ہے کیونکہ کسی کے بطن کو چاک کرنا پھر اس میں سے دل نکالنا عام طور پر اس کے بعد زندہ رہنا محال ہے۔ بعض حضرات نے اس کو مجازی معنی پر محمول کیا ہے۔ علامہ تورپشتی نے فرمایا حدیث شریف میں ذکر آیا ہے آپ کے سینہ مبارک کو چاک کرنا اور دل کو نکالنا اور اس طرح کے دیگر امور ان کو تسلیم کرنا اور ان کو ماننا ہی واحد راستہ ہے۔ ان کو حقیقی معنی سے ہٹانا اور مجازی معنی کے ذریعہ منقول اور معقول میں توفیق کا دعویٰ کرنا اسکو محال سمجھ کر حقیقی معنی سے فرار اختیار کرنے کے لئے حقیقی معنی سے ہٹانا نہیں چاہئے۔ اور ہم الحمد للہ صادق ومصدوق کے ارشاد میں حقیقی معنی سے عدول کرنا اور مجازی معنی کو اختیار کرنے کو درست نہیں سمجھتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ محال نہیں ہے۔ (مرقات)۔ (5) قوله: بطست من ذهب. (سونے کا طشت لایا گیا) ہوسکتا ہے یہ واقعہ سونے کے برتن کے استعمال کی حرمت سے پہلے کا ہو۔ یا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت سے ہو۔ قوله: مملوء ايمانا. (ایمان سے بھرا ہوا) شرح مسلم میں ہے ایمان کو طشت میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) میں ایسی کوئی شئی رکھی گئی جس سے ایمان حاصل ہوتا ہے۔ یہ مجازی معنی ہیں اور ایک شارح نے کہا اس کے حقیقی معنی مراد لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں خلاصہ کلام یہ ہے کہ معانی کبھی جسم اختیار کرتے ہیں اور اعمال کے وزن کئے جانے کے باب میں اس کی تحقیق گزر چکی ہے نیز موت کو دنبہ کی شکل میں ذبح کرنے کی حدیث میں اور اس جیسے دوسرے واقعات میں بھی اس بات کی تحقیق گزر چکی ہے۔ (مرقات)۔

Note 2

حضرت شیخ (عبدالحق محدث دہلوی) نے لمعات میں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد میں حطیم میں تھا اور بعض دفعہ آپ نے فرمایا میں حجر میں تھا تو اس میں حنفیہ کے قول کی تائید ہوتی ہے حطیم اور حجر ایک ہی چیز ہے کیونکہ یہ ایک ہی واقعہ ہے اور حضرت ملا علی قاری نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مجھ سے کم کر دیئے گئے، اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ کسی چیز کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس میں نسخ جائز ہے اور اکثر فقہاء نے یہی فرمایا ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ اور حضرت شیخ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی فرضیت کو نافذ کر دینے اور اس میں تبدیلی نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ان نمازوں کی فرضیت میں کلی یا جزوی کسی طور پر بھی نسخ نہیں ہوگا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس میں کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوگی البتہ اس میں یہ جائز ہے کہ ان پانچ نمازوں کی فرضیت کے بعد کسی دوسری نماز کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

Note 3

(6) قوله: يُقَالُ له البراق. (اس کو براق کہا جاتا ہے) اس کا نام براق اس کی برق کی طرح تیز رفتاری کی وجہ سے رکھا گیا یہ اور ایک قول یہ ہے کہ براق برق چمک اور روشنی سے ماخوذ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ دو رنگ والا ہونے سے براق کہا گیا جیسا کہ اس بکری کو جس کے سفید بالوں میں کالے دھبے ہوتے ہیں شاة برقاء کہتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ لفظ مشتق نہ ہو، صاحب لمعات نے کہا ہے کہ یہ تفصیل مواہب میں ہے۔ اور صاحب مرقات نے کہا قول راجح یہ ہے کہ براق کو انبیاء علیہم السلام کی سواری کے لئے رکھا گیا ہے۔ نیز کہا گیا ہے ہر نبی کے لئے الگ الگ براق ہے اور یہ بات انبیاء علیہم السلام کے مراتب کے اعتبار سے مناسب ہے۔ اور شرح مسلم میں ہے براق اس سواری کا نام ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں سواری کی تھی۔ (7) قوله: حتى اتى السماء الدنيا (یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچے) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان تک سوار ہو کر گئے اور اس روایت سے بعض حضرات نے کہا کہ بیت المقدس تک آپ کا سفر ایک الگ رات میں ہوا اور آسمان کا سفر ایک دوسری رات میں ہوا یہ دونوں سفر دو الگ الگ رات میں ہوئے ہیں۔ مگر جو دوسری روایات ہیں اس میں صراحت ہے کہ آسمانوں تک کا سفر معراج براق پر نہیں ہوا بلکہ سُلَّم یعنی سیڑھی کے ذریعہ ہوا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ظاہر اس میں راوی کی طرف سے اقتصار اور گزشتہ تفصیلات کا اجمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو اس حلقہ سے باندھ دیا جس سے انبیاء علیہم السلام باندھتے تھے۔ ہاں ممکن ہے آپ کا سفر بیت المقدس تک براق پر ہوا ہو اور آسمانوں کا سفر سیڑھی کے ذریعہ ہو (واللہ اعلم) پس اس میں راوی نے مضمون کو لپیٹ دیا جس (حاشیہ پچھلے صفحے سے) کی وجہ سے مفہوم کو سمجھنے میں خلل واقع ہو گیا۔ پھر یہ کہ آسمانوں کے سفر سے پہلے بیت المقدس تک کے سفر میں حکمت یہ تھی کہ یہ سفر مخالفین کے سامنے اظہار حق کے راستہ کا تھا۔ اگر مکہ مکرمہ سے سیدھے آسمانوں کا سفر ہوتا تو مخالفین کو حق سمجھانے کے لئے کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا۔ جیسا کہ احادیث شریفہ میں بیت المقدس سے متعلق تفصیلات اور راستہ میں قافلہ کی ملاقات سے متعلق معاندین نے سوالات کئے اور آپ نے ان سب کے جوابات دیئے اور اس کے علاوہ اس میں اس مقام کی طرف سفر کی فضیلت بھی ہے یہ مقام اکثر انبیاء علیہم السلام کی ہجرت گاہ ہے۔ نیز مروی ہے بیت المقدس کے بالکل اوپر ملائکہ کی چڑھنے اترنے کی سیڑھی اور جھولا ہے اور اوپر جانے کا بیت المقدس سے راستہ سیدھا ہے اس میں کوئی موڑ نہیں ہے امام سیوطی نے اس کو ذکر کیا ہے۔ (لمعات)۔ (8) قوله: قال جبرئيل (انہوں نے کہا جبرئیل ہوں) قاضی عیاض نے کہا ہے کہ اس میں ضمیر هو یا أنا مقدر ہے۔ اور اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ آسمان میں دروازے ہیں اور اس کی حفاظت کرنے والے بھی مقرر ہیں اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ داخلہ کے لئے اجازت لینا چاہئے اور جواب میں أنا کے ساتھ اپنا نام مثلا انا زید بولنا چاہئے صرف انا (میں) پر اکتفا نہیں کرنا جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے اور اس کی یعنی صرف انا میں، میں بولنے کی ممانعت آئی۔ اور علماء نے کہا ہے کہ ارواح کی چار قسمیں ہیں (1) وہ ارواح جو صفات بشریہ سے متصف ہو کر کدر ہو گئی ہیں اور یہ عوام کی ارواح ہیں جن پر حیوانی طاقتیں غالب ہیں اس لئے ایسی ارواح عروج نہیں کر سکتیں ان میں عروج کی صلاحیت نہیں ہے۔ (2) وہ ارواح جن میں علوم کے اکتساب کے لئے قوت نظریہ کمال درجہ کی ہوتی ہے اور یہ علماء کی ارواح ہیں۔ (3) وہ ارواح جن کو اخلاق حمیدہ کے ذریعہ بدن کی تدبیر کرنے کی کمال درجہ کی قوت ہوتی ہے یہ خدا کے مرتاضین بندوں کی ارواح ہیں اور جب یہ بڑی عمر کے ہو جاتے ہیں تو ان کے جسم ریاضت اور مجاہدہ کی وجہ سے اور لطیف ہو جاتے ہیں۔ (4) وہ ارواح جن کو دونوں قوتوں کا کمال حاصل ہوتا ہے یہ انتہائی اعلیٰ درجہ کی بشری ارواح ہیں اور یہ انبیاء علیہم السلام اور صدیقین ہوتے ہیں اور جب ان میں یہ قوت زیادہ ہو جاتی ہے تو ان کے بدن زمین سے اوپر اٹھ جاتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام میں چونکہ یہ ارواح زیادہ طاقت ور ہوتی ہیں اس لئے وہ آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں اور تمام پیغمبروں میں ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت سب سے زیادہ کمال درجہ کی ہے، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج قاب قوسین او ادنیٰ تک ہوئی۔ (مرقات)۔ (9) قوله: قد قيل وقد ارسل اليه (کیا معراج کے لئے آپ کے پاس کسی کو بھیجا گیا) اس میں واو عطف کے لئے ہے اور یہاں ہمزہ استفہام محذوف ہے یعنی کیا آپ کو بلایا گیا اور معراج کے لئے آپ کے پاس کسی کو بھیجا گیا۔ اس میں صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی بعثت و رسالت سے متعلق سوال نہیں ہے کیونکہ اس عرصہ تک فرشتوں پر آپ کی رسالت پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی، اور ایک بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ ان کا یہ سوال حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کے انعامات پر انتہائی تعجب اور آپ کی معراج کی خوشی میں ہے کیونکہ ان کے پاس یہ واضح تھا کہ انسانوں میں سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اور ان کو اوپر لیکر آنے کے لئے فرشتوں کو حکم دیئے بغیر اوپر نہیں آسکتے تھے اور جن کی طرف جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا نہیں گیا ان کے ساتھ جبرئیل نہیں چڑھے اور ان کے لئے آسمان کے دروازے بھی کھولے نہیں گئے۔(ماخوذ از مرقات)۔ (10) قوله: فنعم المجيء۔ یہ مجیئہ ہے ان کی تشریف آوری لفظ جاء فعل ماضی ہے اور نیا جملہ ہے، بیان زمان ہے یا بیان حال ہے اور المجيء نعم کا فاعل ہے اور مخصوص بالمدح مجيئه محذوف ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس کی تقدیر یہ نعم المجيء الذي جاء آپ کی تشریف جو آپ تشریف لائے ہیں کتنی اچھی ہے اس میں الذی اسم موصول کو حذف کر کے صلہ کو باقی رکھا گیا۔ قوله خلصت کے معنی وصلت ہے یعنی جب میں پہنچا۔(مرقات)۔ (11) قوله: فسلم عليه۔ علامہ توربشتی نے فرمایا: سلام کرنے کا حکم آپ کو اس لئے دیا گیا کہ آپ ان حضرات کے پاس سے گزر رہے تھے اس لئے آپ قائم یعنی کھڑے ہوئے شخص کے حکم میں تھے اور وہ حضرات بیٹھے ہوئے شخص کے حکم میں تھے۔ اور کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرتا ہے اگرچہ کھڑا ہوا ان سے افضل ہو اور آپ کا ان سب سے افضل ہونا تو ظاہر و باہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اعلیٰ مرتبہ پر اور سب سے قوی حالت پر اور سب سے زیادہ بلندی پر عروج کرنے والے ہیں۔ قوله: فردّ السلام۔ انہوں نے بہت اچھے طریقہ پر سلام کا جواب دیا اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاء علیہم السلام حقیقت میں زندہ ہیں۔ قوله: مرحبا بالابن الصالح والنبي الصالح (ابن صالح اور اخ صالح کے لئے خوش آمدید) کہا گیا ہے کہ صفت صالح انبیاء کے لئے مخصوص ہے۔ کیونکہ صالحیت ایک ایسی صفت ہے جو خیر اور کرم کے جملہ خصائل اور (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) جملہ امور خیر کو شامل ہے اور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ صالح وہ شخص ہے جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے جملہ لوازم ومتعلقات کو پورا پورا کرتا ہے اسی لئے انبیاء علیہم السلام کی زبانوں پر یہ دعا جاری رہتی ہے: ”تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّأَلْحِقْنِيْ بِالصَّالِحِيْنَ“۔ (12- سورۃ یوسف، آیت نمبر:101) اے رب مجھے مسلمان وفات دے اور صالحین میں سے مجھے ملا دے۔ وقولہ: حتی اتی السماء الثانیة. اور روایت میں آیا ہے کہ ایک آسمان سے دوسری آسمان کے درمیان کا فاصلہ پانچ سو(500) سال کا ہے۔(مرقات)۔ (12) قولہ: قیل من ھذا الخ. تمام دروازوں پر اس سوال وجواب کی تکرار اس لئے ہوئی کہ اس سفر میں آپ کے لئے زمان ومکان کو لپیٹ دیا گیا تھا اور حُسن کا خاص کرم تھا کہ ہر زبان پر آپ کی تعریف تھی اور آپ کی شان عالی کا ہر طرف چرچا ہو چکا تھا۔(مرقات)۔ (13) قولہ: اذا یحییٰ وعیسیٰ. (میں یحییٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا) علامہ ابن الملک نے کتاب شرح المشارق میں فرمایا ہے کہ انبیاء کی ارواح اپنی ان شکلوں کو اختیار کئے جس میں وہ تھیں ظاہر ہوئیں تھیں سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وہ بعینہ اپنے اسی جسم کے ساتھ تھے۔ جیسا کہ گزر چکا ہے۔ علامہ تورپشتی نے کہا انبیاء علیہم السلام کو آسمانوں میں اور بیت المقدس میں دیکھنے کو محمول کیا جا سکتا ہے کہ ان کی روحانیت اپنی ان شکلوں کو اختیار کر کے ظاہر ہوئیں تھیں جس میں وہ تھے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے ان کو دیکھنا اس میں دونوں باتوں کا احتمال ہے یا ان میں سے کسی ایک کا بھی احتمال ہو سکتا ہے۔ تو میں کہتا ہوں ہم یہ بات بتا چکے ہیں انبیاء علیہم السلام دوسرے انسانوں کی طرح مرتے نہیں بلکہ وہ دار فناء سے دار بقاء کی طرف منتقل ہوتے ہیں اور احادیث میں آیا ہے اور واقعات شاہد ہیں کہ وہ قبروں میں زندہ ہیں کیونکہ وہ شہداء سے افضل ہیں اور شہداء اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے لئے فرشتوں کی طرح مقامات مقرر ہیں۔(ماخوذ از مرقات)۔ (14) قولہ: مرحبا بالاخ الصالح۔ (اخی صالح کے لئے خوش آمدید) قاضی عیاض نے فرمایا یہ بات مؤرخین کے قول کے خلاف ہے ان کا قول ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد میں سے ہیں تو ممکن ہے آپ کا اخ صالح فرمانا شفقت اور بطور ادب کے ہو۔ علاوہ ازیں وہ ایک طرح سے والد ہیں ایک طرح سے بھائی بھی ہیں اس معنی میں کہ انبیاء علیہم السلام آپس میں نبوت کے لحاظ سے بھائی بھائی ہیں۔ (شرح مسلم و مرقات)۔ (15) قولہ: ففتح۔ (دروازہ کھولا گیا) اس میں اس بات کا اعلان ہے کہ یہ آسمان کا دروازہ صرف ان ہی کے لئے کھولا جاتا ہے جو علو مرتبت اور وصف محبت سے متصف ہو۔ اور دشمنوں کے لئے آسمانوں کے دروازے بالکل نہیں کھولے جاتے سوئی کے ناکے سے جمل گزر بھی جائے تو بھی نہیں کھولے جاتے۔ (مرقات)۔ (16) قولہ: بکی۔ موسیٰ علیہ السلام روئے علماء نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام کا رونا معاذ اللہ حسد کی بناء پر نہیں تھا کیونکہ اس عالم میں حسد ایک ایک مسلمان کے دل سے نکال دیا گیا ہے۔ پھر ان حضرات سے کیسے ہو سکتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ منتخب کر لیا ہے بلکہ یہ رونا اپنی امت پر افسوس کی بناء پر تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے متبعین کی اتنی کثرت نہیں ہوئی جس قدر کثرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی ہے۔ اور علامہ ابن ابی حمزہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے دلوں میں دوسروں سے زیادہ رحمت رکھا ہے اسی لئے ان کا رونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر مہربانی و شفقت کی بناء بطور خوشی ہے۔ (ماخوذ از توشیح)۔ (17) قولہ: غلاما۔ (طاقتور نوجوان) علامہ کرمانی نے فرمایا غلام کا ذکر حقارت یا چھوٹے پن کے لئے نہیں بلکہ اس میں (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی تعظیم اور اس کے خاص کرم کا ذکر ہے کہ عمر کم ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کا آپ پر ایسا کرم ہے جو بڑی عمر والوں پر نہیں ہوا ہے اور کبھی غلام کا ذکر کر کے طاقتور و پھرتیلا نوجوان مراد لیتے ہیں۔ اسی لئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت فرما کر رونق افروز ہوئے تو اہل مدینہ نے آپ کو شاب (نوجوان) سے یاد کیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کم عمر ہونے کے باوجود شیخ سے ذکر کیا۔ (ماخوذ از مرقات ولمعات)۔ (18) قولہ: فنعم المجيء جاء (بہت خوب آنا ہے آپ جو تشریف لائے) یہ جملہ تمام انبیاء علیہم السلام کی زبانوں پر جاری تھا اس میں یہ بتانا ہے ”زبان خلق کو نقارۂ خدا جانو“۔ یہاں فَنِعْمَ کا لفظ نہیں ہے ہو سکتا ہے یہ لفظ راوی سے چھوٹ گیا ہو یا سبق پر اکتفاء کیا گیا ہو اور فلما خلصتُ فاذا ابراہیم سے بھی اس بات پر دلالت موجود ہے۔ (19) قولہ: فسلم عليه. (آپ ان کو سلامتی کی دعا دیجئے) ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حق تعالیٰ کے مشاہدۂ کمال درجہ مستغرق تھے جیسا کہ ”مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى“۔(53- سورۃ النجم، آیت نمبر:17) سے ظاہر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے جبرئیل علیہ السلام کے لئے ہر مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جانب متوجہ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ علامہ حافظ سیوطی نے فرمایا یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے اجساد اپنی قبور میں قرار پائے ہوئے ہیں، تو پھر وہ آسمانوں پر کس طرح آئے تو اس کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کی روحیں ان کے اس جسم کی شکل اختیار کر کے آئیں یا اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تشریف کے لئے ان کے اپنے جسموں کو وہاں آپ سے ملاقات کرنے کی غرض سے بھیج دیا۔ اور اب رہا یہ کہ مختلف آسمانوں میں مختلف انبیاء علیہم السلام سے ملاقات میں کیا حکمت ہے اس میں مختلف اقوال ہیں مشہور بات یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام ان کے اپنے مراتب کے مطابق ہیں، اب ایک بات یہ باقی ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کا ذکر نہیں آیا اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ تمام انبیاء سب کے سب اپنے اپنے مقام کے مناسب آسمانوں میں موجود رہے ہوں اور ان میں سے صرف ایک ایک کے ذکر پر جو مشہور ہیں اکتفاء کیا گیا ہو۔ (مرقات)۔ (20) قوله: ثم رفعت الى سدرة المنتهى (پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ آ گیا) اس سے مراد آپ سدرۃ المنتہیٰ تک چڑھ گئے اور وہ آپ کے سامنے ظاہر ہو گیا رفع الی الشئ کسی چیز سے قریب ہونے کے لئے کہا جاتا ہے۔ علامہ نووی نے فرمایا اس کا نام سدرۃ المنتہیٰ اس لئے ہے کہ فرشتوں کا علم وہیں تک ختم ہوتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی بھی اس سے آگے نہیں گئے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اس کا نام سدرۃ المنتہیٰ اس لئے ہے کہ اوپر سے اللہ تعالیٰ کے جو اوامر آتے ہیں اور نیچے سے جو اوامر اوپر چڑھتے ہیں وہ یہاں آ کر رہتے ہیں، اور امام سیوطی رحمہ اللہ نے فرمایا سدرۃ کی منتہیٰ کی طرف اضافت اس لئے ہے کہ وہ ایسا مقام ہے کہ بندوں کے اعمال اور مخلوق کے علوم سب کے سب اس جگہ رک جاتے ہیں اور انبیاء اور فرشتوں میں سے کوئی بھی ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اس سے آگے نہیں گئے اور یہ سدرہ ساتویں آسمان میں ہے اور اس کی جڑ چھٹے آسمان میں ہے۔ وقوله: مثل قلال هجر (ہجر کے مٹکوں کی طرح) قلال میں ق کو زیر (کسرہ) ہے اور قلة کی جمع ہے اور قلہ کے قاف کو پیش ہے۔ لفظ ہجر ”ہ“ اور جیم دونوں کو زبر (فتحہ) ہے یہ مقام کا نام ہے یہاں مٹکے بکثرت تیار کئے جاتے تھے اور لفظ فیلہ (ہاتھیان) ف کو زیر (کسرہ) اور ی کو زبر (فتحہ) ہے اور یہ فیل کی جمع ہے اور یہ لوگوں کے فہم کے مطابق مثال ہے اس کے حقیقی معنی مراد نہیں ہیں۔ (ماخوذ از مرقات)۔ (21) قوله: أما الباطنان فنهران فى الجنة (دو باطنی نہریں تو وہ دو نہریں جنت میں ہیں) علامہ ابن الملک نے فرمایا جیسا کہ حدیث شریف سے ان میں سے ہر ایک نہر کو کوثر کہا جاتا ہے اور دوسرے کو نہر رحمت کہا جاتا ہے ان کو باطنی نہر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں نہریں عقل سے ماوراء ہیں کہ اس کی حقیقت تک انسانی عقل نہیں پہنچ سکتی یا دیکھنے والوں کی نگاہوں سے وہ پوشیدہ ہیں جنت میں بہنے تک دکھائی نہیں دیتے۔ وقوله: وأما الظاهران (اب رہے ظاہری دو نہریں) یہ دریائے فرات اور دریائے نیل ہیں۔ علامہ قاضی نے فرمایا حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کی جڑ زمین میں ہے کیونکہ دریائے نیل و فرات اس کی جڑ سے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) نکلتی ہیں۔ علامہ ابن الملک نے فرمایا، ہوسکتا ہے ان سے مراد وہ نہریں ہیں جو مشہور ہیں اور ان کا پانی سدرہ کی جڑ سے نکلتا ہو۔ اگرچہ اس کی کیفیت معلوم نہ ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے اس میں استعارہ ہوا اور اس میں نیل فرات کو جنت کی دو نہروں سے اس کے خوشگواری اور مٹھاس میں تشبیہ دی گئی ہو۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے یہ صرف ناموں میں اتفاق ہو یعنی جنت کی دو نہریں دنیا کی ان دو نہروں کا نام ایک ہو۔(مرقات)۔ اور شرح مسلم میں ہے علامہ مقاتل نے فرمایا باطنی دو نہریں سلسبیل اور کوثر اور ظاہری دو نہریں نیل فرات ہواور یہ دو نہریں سدرہ کی جڑ سے نکلتی ہوں پھر اللہ تعالیٰ جہاں ارادہ فرمایا بہتی ہیں پھر زمین سے نکلتی ہیں اور زمین میں بہتی ہیں اور اس میں شرعاً اور عقلاً اس میں کوئی مانع رکاوٹ نہیں ہے۔ اور حدیث شریف سے یہ بات ظاہر ہے اور اس لئے اس کو اختیار کیا جانا ضروری ہے۔(مرقات)۔ (22) قولہ: ثم رفع لي (یعنی میرے واسطے بیت معمور کو قریب کردیا گیا اور ظاہر کردیا گیا اور یہ ساتویں آسمان میں کعبۃ اللہ کے بالکل مقابل میں ہے آسمان میں اس کا احترام ایسا ہی ہے جیسے زمین میں کعبۃ اللہ کا احترام ہے۔ـ (23)قولہ: فاخذت اللبن۔ علامہ ابن الملک نے فرمایا تم اس بات کو جانو! لڑکے کی تربیت سب سے پہلے جب دودھ سے ہوتی ہے تو عالم قدس میں ہدایت وفطرت کو دودھ کی صورت میں پیش کیا گیا۔ جس سے قوت روحانیہ کی تکمیل ہوتی ہے۔ اور یہی ابدی سعادت کی استعداد و تیاری ہے اس کی ابتداء شریعت کی اتباع ہے اور اس کی انتہاء وصول الی اللہ ہے۔ قولہ: هي الفطرة (یہی فطرت ہے) ہی کا مرجع لبن ہے خبری رعایت کرتے ہوئے اس کو مؤنث لایا گیا۔(مرقات)۔ (24)قولہ: ثم (پھر) یعنی مقام دنا فتدلى فكان قاب قوسين او ادنى فاوحى الى عبده ما اوحى کے بعد مجھ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں اور آنے والی حدیث۔ جس میں ہے کہ میری امت پر فرض کیا ان دونوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔(مرقات)۔ (25) قولہ : فقال الخ (اس مقام پر موسیٰ علیہ السلام کے گفتگو کرنے کی خصوصیت اس لئے ہوسکتی ہے دنیا میں تمام پیغمبروں میں صرف موسیٰ علیہ السلام کو رب تعالیٰ سے گفتگو کرنے کی خصوصیت حاصل رہی ہے اور انہوں نے ہماری (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) امت پر اس معاملہ میں خیرخواہی اور شفقت کرنے میں اسقدر مبالغہ کیا کہ یہ کسی دوسرے پیغمبر سے استدعا ہرگز نہیں ہوا۔(لمعات)۔ (26) قولہ: فارجع الی ربک (اپنے رب کی طرف پلٹ کر جائیے) نماز کے بارے میں موسیٰ علیہ السلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بار بار یہ مراجعت اس لئے ہوئی کہ آپ دونوں کو یہ معلوم تھا کہ پہلا حکم واجب اور ضروری نہیں تھا آپ کا مراجعت کرنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم اول واجب نہیں تھا کیونکہ جو چیز واجب ہو جاتی ہے تو وہ تخفیف کو قبول نہیں کرتی اور یہ بات علامہ طیبی نے فرمائی اور علامہ ابن الملک نے بھی اس کی اتباع کی ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ جب کوئی چیز واجب نہیں ہوتی تو اس میں تخفیف کے سوال کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لئے صحیح بات تو وہ ہے جو کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شروع میں پچاس نمازوں کو فرض کیا پھر بندوں پر مہربانی سے منسوخ کر کے پانچ نمازیں قائم رکھ دیا جیسا کہ بعض علماء کے پاس رضاعت کی آیت ہے اور ایک قول کے مطابق بیوہ عورت کی عدت بھی اسی قبیل کی ہے۔ اور اس میں دلیل ہے اس بات کی کہ کسی چیز میں قبل وقوع نسخ جائز ہے۔ اکثر علماء نے یہ بات فرمائی ہے اور یہی صحیح ہے۔ اور معتزلہ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ قبل وقوع نسخ جائز نہیں۔ امام نووی نے اس کا ذکر کیا ہے۔(مرقات)۔ (27) قولہ: فوضع عنی عشرا (اس نے مجھ سے دس کم کر دیئے) اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دس دس کم کئے گئے پھر پانچ کم کئے گئے، اور آگے ایک روایت آ رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ پانچ کم کئے گئے اور اس روایت میں ایک تیسرے بطن کا اضافہ ہے جو شبہ کا بطن ہے، ہو سکتا ہے اس روایت میں دو دو کو ایک دفعہ سے ذکر کیا گیا ہو اور عدم ذکر عدم وجود پر دلالت نہیں کرتا اور اختصار کی غرض سے اسکو پانچ پانچ کے بجائے دس دس کے عدد سے بیان کر دیا گیا ہو۔(ماخوذ از مرقات)۔ (28) قوله: عالجت (میں بہت تجربہ کیا ہوں) میں ان کے ساتھ تجربہ کیا ہوں اور میں نے ان کو جن امور میں فرمانبرداری کرنے کے لئے کہا تو ان سے مجھے سختی ملی طیبی اور قاموس میں ہے عالجه علاجا ومعالجة کے معنی زاولهُ وداواه ہے، زمین کے ساتھ تجربہ کیا۔ (29) قوله: ولكني ارضى۔ یعنی میرے رب نے میرے لئے جو فیصلہ کیا اور تقسیم کیا اس سے میں راضی ہوں اور میں اپنا اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے اور سپرد کرتا ہوں اور اللہ نے جو حکم فرمایا اس کی تابعداری کرتا ہوں۔ علامہ طیبی نے فرمایا لفظ لیکن کے لئے ضروری ہے کہ وہ دو ایسے کلاموں کے درمیان واقع ہو جس میں تغایر معنوی ہوتا ہے اور وہ یہاں نہیں ہے اس کی وجہ کیا ہے تو میں کہتا ہوں کہ یہاں جملہ میں محذوفات ہیں حتى استحييت فلا ارجع فاني اذا رجعت كنت غير راض ولا مسلم ولكني ارضى واسلم۔ یہاں تک کہ مجھے شرم آگئی اب میں واپس نہیں جاؤں گا اگر میں واپس جاؤں گا تو میں راضی نہ رہنے والا اور اللہ کے سپرد نہ کرنے والا ہو جاؤں گا اور لیکن میں راضی ہوں اور اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔(مرقات)۔ (30) قوله: امضيت فريضتى (میں اپنے فرض کو نافذ کر دیا) اس حدیث سے پانچ نمازوں کی فرضیت اور اس میں عدم نسخ پر استدلال کیا گیا ہے اور جو حضرات نماز وتر کو واجب قرار نہیں دیتے وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر فرضیت سے عمل اور اعتقاد دونوں حیثیت سے فرض قطعی ہونا مراد ہے تو وتر کا وجوب (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) ایسا نہیں ہے کیونکہ وتر کا وجوب حدیث سے ثابت ہے جو ظنی الثبوت ہے۔ اسی لئے ہمارے امام اعظم نے وتر کو جس معنی میں واجب قرار دیا ہے وہ فرض قطعی کے معنی میں نہیں ہے۔ اور پانچ نمازوں کی فرضیت کا امضاء اور اس میں عدم تبدیلی سے مراد کلی یا جزئی کسی طور پر بھی اس میں عدم نسخ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں اضافہ بھی نہیں ہوسکتا۔ اس میں یہ ممکن ہے کہ پانچ نمازوں کے بعد ایک اور نماز کے لئے وحی آئے۔ (لمعات)۔