Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5721

Chapter on Karamat

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on Karamat

Zujajat al-Masabih 5721Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7403Noor 7404
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سعید بن(24) زید بن عمرو بن نفیل کے خلاف اروی بنت اوس نے مروان بن حکم کے پاس اپنا مقدمہ پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ آپ نے اس کی زمین کا کچھ حصہ لے لیا ہے تو حضرت سعید نے فرمایا کیا میں اس کی زمین سے کچھ لوں گا جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اس نے کہا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنے ہیں فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہوں: جو کوئی شخص ظلماً ایک بالشت بھر زمین بھی لے لے تو اس کو سات (طبق) زمین کا طوق ڈالا جائے گا(25)، تو مروان نے کہا میں اس کے بعد تم سے دلیل نہیں پوچھتا(26)، تو حضرت سعید نے فرمایا: اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کو اندھی کر دے اور اسی کی زمین میں اس کو مار دے (27)، انہوں نے کہا اس کو موت نہیں آئی یہاں تک کہ اس کی بینائی چلی گئی اور اس دوران کہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی ایک گڑھے میں گر گئی اور مر گئی۔ (متفق علیہ)۔ اور امام مسلم کی ایک روایت میں ہے محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر سے اسی معنی میں حدیث ہے کہ انہوں نے اس خاتون کو دیکھا کہ وہ اندھی ہو گئی اور چلنے کے لئے دیواروں کا سہارا تلاش کرتی تھی اور کہتی تھی مجھے سعید کی بد دعا لگ گئی اور وہ اس کے گھر کے اندر کے اس کنویں کے پاس سے گزر رہی تھی جس کے تعلق سے وہ آپ سے جھگڑا کی تھی پس وہ اس میں گر گئی اور (وہی کنواں) اس کی قبر بن گیا۔ (مسلم)۔

[Narrated by At-Tirmidhi, who said: This is a good, strange Hadith]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1610b (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

Did Anas hear

(1) His statement “Did Anas hear”: omitting the interrogative hamzah, meaning did Anas hear Hadiths from the Prophet (ﷺ)? After his death, some doubted him. His statement “served him”: meaning Anas served the Prophet (ﷺ) for ten years, when he was ten years old. The Prophet (ﷺ) prayed for him with blessing in his life, children, and wealth. He was the last companion to die in Basrah in 93 AH, aged one hundred and three. It is said he had one hundred children. The answer is that one with this status, companionship, and long service, how could he not hear and narrate from him? (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: سيعد بن زيد هو أحد العشرة المبشرة بالجنة. وقوله: «خاصمته أروى بفتح الهمزة والواو مقصورا، أي أنها رافعته في الخصومة إلى مروان بن الحكم قال مؤلف المشكاة»: يكنى أبا عبد الملك القرشي الأموي جد عمر عبد العزيز، كان واليا في المدينة. وقوله: «وأدعت أي أرواى أنه أي سعيد أخذ شيئًا من أرضها أي ظلما. التقطته من المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: طوقه إلى سبع أرضين وفي الحديث تصريح بأن الأرض سبع طباق، وهو موافق لقوله تعالى: ﴿اللهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَوَاتِ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ (الطلاق: (۱۲) ، ومن قال: «المراد بالسبع الأقاليم، فقد وهم؛ لأنه لو كان كذلك لم يطوق الظلم بشبر من كل إقليم بخلاف طباق الأرض؛ فإنها تابعة لهذا الشبر. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله : لا أسألك بينة بعد هذا: أي بعد إيرادك هذا الحديث، والمعنى: أصدقك في باطن الأمر أنك غير ظالم، أو لا أشك في نقلك الحديث، ولا احتاج لرواية أخرى؛ فإنك بمنزلة راويين وأكثر. وقال الطيبي وكان سعيدا لما أنكر توجه عليها البيئة وعند فقدها توجه إليه اليمين، فأجرى مروان هذا الكلام منه مجرى اليمين. وقال: لا أسألك بيئة بعد هذا. ولا يخفى أن اعتبار مثل هذا غير شرعي في باب الدعوى، فالصواب ما ذكره الكرماني من أن سيعدا ترك لها ما ادعته كما يشهد له نقل عروة. كذا في «المرقاة».

Note 4

(٤) قوله واقتلها في أرضها أي التي ادعت فيها. وفي رواية واجع قبرها في دارها وكان سعيد مجاب الدعوة على ما في التهذيب». كذا في «المرقاة».

Note 1

(24) سعید بن زید۔ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ وقوله: خاصمته أروى. ہمزہ کو زبر (فتح) اور واو پر الف مقصورہ ہے یعنی اس خاتون نے ان کو مقدمہ میں مروان کے پاس لے گئی، الى مروان ابن الحكم. مؤلف مشکوۃ نے فرمایا ⟦?⟧ اس کی کنیت ابوعبداللہ قرشی اموی ہے یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دادا ہے، اور مدینہ منورہ کا گورنر رہا ہے۔ وقوله: وادعت یعنی اروی نے دعویٰ کیا کہ حضرت سعید نے اس کی زمین کا کچھ حصہ ظلم سے لے لیا ہے۔ (ماخوذ از: مرقات)۔ (25) قوله: طوقه الى سبع ارضين. اس حدیث شریف میں زمین کے سات طبق ہونے کی صراحت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ”سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ“، ”۔(65۔ سورۃ الطلاق، آیت نمبر:12) کے موافق ہے اور جس شخص نے یہ کہا کہ اس سے سات اقالیم مراد ہیں اس کو وہم ہو گیا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ظالم کو ہر اقلیم سے ایک بالشت کا طوق نہیں ڈالا جاتا، برخلاف طبق والی زمین کے کیونکہ وہ اس بالشت بھر زمین کے تابع ہے۔ (مرقات)۔ (26) قوله: لا اسألك بينة بعد هذا. یعنی تمہارے اس حدیث کو پیش کرنے کے بعد (میں کوئی دلیل نہیں پوچھوں گا)۔ مطلب یہ ہے کہ میں اس معاملہ کی حقیقت سے متعلق تمہاری تصدیق کرتا ہوں کہ تم ظالم نہیں، یا یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں کہ تمہارے اس حدیث کو نقل کرنے سے متعلق میں شک نہیں کرتا اور مزید کسی دوسری روایت کی مجھے ضرورت نہیں کیونکہ تم دو بلکہ دو سے زیادہ راویوں کے مرتبہ میں ہو۔ علامہ طیبی نے فرمایا: حضرت سعید جب انکار (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) کے تو خاتون کے ذمہ دلیل دینا لازم ہو گیا، اور جب اس خاتون کے پاس دلیل نہیں تھی تو حضرت سعید پر قسم متوجہ ہوئی تو مروان نے ان کی اس گفتگو کو قسم کے قائم مقام قرار دیا اور فرمایا اس کے بعد میں تم سے دلیل نہیں پوچھوں گا۔ اور یہ بات پوشیدہ نہیں دعوی کے بارے میں اس جیسا اعتبار درست نہیں ہے، پس درست بات وہ ہے جسے علامہ کرمانی نے بیان فرمایا کہ حضرت سعید نے اس کیلئے جس کا وہ دعوی کی تھی چھوڑ دیا جیسا کہ حضرت عروہ کا بیان اس کا شاہد ہے۔ (مرقات)۔ (27) قوله : واقتلها في أرضها. یعنی جس (زمین) کے سلسلہ میں وہ مقدمہ ڈالی ہیں اور ایک روایت میں ہے اس کی قبر کو اسی کے گھر میں بنا دے، حضرت سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ مستجاب الدعوات ہیں، جیسا کہ تہذیب میں ہے۔ (مرقات)۔