Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5724

Chapter

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter

Zujajat al-Masabih 5724Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7409
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے(6)اور فرمایا کہ اللہ نے ایک بندہ کو دو باتوں کا اختیار دیا ہے ایک تو اس بات کے درمیان کہ وہ بندہ دنیا کی جتنی بہاریں چاہے گا اس کو عطا کرے گا اور ان نعمتوں کے درمیان جو اس کے پاس ہیں تو بندہ نے اس کو اختیار کرلیا جو اس کے پاس ہے حضرت ابوبکر رونے لگے عرض کیا آپ پر ہمارے ماں باپ قربان تو ہم نے ان پر تعجب کیا لوگوں نے کہا ان بزرگ کو دیکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بندے کے بارے میں خبر دے رہے ہیں کہ اس کو اللہ نے اس بات کے درمیان اختیار دیا ہے کہ اس کو دنیا کی بہار عطا کرے اور اس بات کے درمیان کہ وہ نعمتیں عطا کرے جو اس کے پاس ہیں تو یہ کہہ رہے ہیں آپ پر ہمارے ماں باپ قربان بعد میں پتہ چلا کہ وہ بندہ جن کو اختیار دیا گیا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور حضرت ابوبکر ہم میں سب سے زیادہ علم والے تھے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3904 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2382a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

sat on the pulpit

(1) His statement “sat on the pulpit”: meaning during the illness in which he passed away. His statement “whatever he wished”: the postponed object of its specifier, meaning the length of life, remaining in the world, and enjoying it as he wished. His statement “Abu Bakr wept”: due to his perfect understanding, knowing their parting from the world. His statement “we were amazed at him”: meaning at Abu Bakr, ransoming him without a cause requiring it, only due to not understanding the indication from the apparent wording. His statement “about a servant”: meaning an unspecified unknown. His statement “the Messenger of Allah (ﷺ) was the chosen one”: in the accusative, the subject of the sentence, meaning it became clear to us later that he was the chosen servant. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: جلس على المنبر: أي في مرضه الذي مات فيه. وقوله: ما شاء» مفعول مؤخر عن مبينه، والمعنى: مقدار ما أراد من طول العمر والبقاء في الدنيا والتمتع بها. وقوله: فبكى أبو بكر أي لكمال فهم وإدراكه حيث عرف مفارقته من الدنيا. وقوله: «فعجنبا له أي لأبي بكر حيث يفديه ولا هناك باعث يقتضيه وما ذلك إلا لعدم فهمهم ما فهمه من الإشارة؛ لتقيدهم بظاهر العبارة. وقوله: عن عبد أي منكر غير معين. وقوله: «فكان رسول الله هو المخير بالنصب، وهو ضمير الفصل، والمعنى: فظهر لنا في آخر الأمر أنه كان العبد المخير. التقطته من «المرقاة».

Note 1

(6) جلس على المنبر۔ یہ آپ کی بیماری کے زمانہ کا واقعہ ہے جس میں آپ کی وفات ہوئی۔ وقوله: ما شاء اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بندہ جسقدر طویل عمر اور جتنے دن دنیا میں رہنا اور اس سے جسقدر فائدہ اٹھانا چاہے گا اس کو عطا کیا جائے گا۔ وقوله: فبكى ابو بكر یہ رونا ان کی کمال سمجھ اور کمال ادراک کی وجہ سے ہے وہ جان گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو چھوڑ رہے ہیں۔ وقوله: فعجبنا له۔ تو ہم کو تعجب ہوا کہ اس پر حضرت ابوبکر اپنے ماں باپ قربان کر رہے ہیں حالانکہ یہاں اس کی ایسی کوئی بات نہیں۔ دراصل یہ حضرات وہ بات نہیں سمجھ سکے جو آپ سمجھ چکے تھے۔ وقوله: فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو المخير۔ اس کو نصب ہے، اور هو ضمیر فصل ہے مطلب یہ ہے کہ آخر کار ہم کو اس کے بعد پتہ چلا کہ وہ بندہ جن کو اختیار دیا گیا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ (ماخوذ از مرقات)