اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7430
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارا کوئی وارث نہیں (8) ہوتا، ہم نے جو چھوڑا (9) وہ صدقہ ہے۔
(بخاری، مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3092 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1759a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement “We do not leave inheritance”: with sukoon on waw and fathah on ra, meaning we, the company of prophets, do not leave inheritance. Al-Baji said: The people of the Sunnah agree this applies to all prophets. Ibn Aliyah said: It is specific to our Prophet (ﷺ). The Imamiyyah said: All prophets leave inheritance, as noted by As-Suyuti. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “what we leave”: the pronoun refers to “what.” “Is charity” is a new sentence, as if, when it was said, “We do not leave inheritance,” it was asked, “What do you do with what you leave?” The response was: “What we leave is charity,” as At-Tibi noted. The Shi‘ah’s claim that “what” is negative and “charity” is the object of “we leave” is false and baseless, refuted by the pronoun in “we leave it” in most narrations, “it is charity” in some, and clear statements in other Hadiths, like: “We, the company of prophets, do not leave inheritance,” due to the contradiction that would arise between earlier and later statements. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: لا نورث بسكون الواو وفتح الراء، أي نحن معاشر الأنبياء لا نورث. وقال الباجي: أجمع أهل السنة أن هذا حكم جميع الأنبياء. وقال ابن علية: إن ذلك لنبينا ، وقالت الإمامية : إن جميع الأنبياء يورثون، ذكره السيوطي. التقطته من المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: ما تركناه الضمير راجع إلى «ما» الموصولة. صدقة» بالرفع جملة مستأنفة، كأنه لما. قيل: لا نورث، فقيل: ما تفعلون بتركتكم؟ فأجيب ما تركناه صدقة، ذكره الطيبي. وأما قول الشيعة أن «ما» نافية وصدقة» مفعول «تركنا» فبهتان وزور، ويرده وجود الضمير في تركناه في أكثر الروايات، ووجود فهو صدقة في بعضها، وصرائح بعض الأحاديث، كقوله: «إنا معاشر الأنبياء لا نورث لما يلزم من التناقض بين السابق واللاحق. كذا في «المرقاة».
Note 1
(8) قولہ: لا نورث (ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا) واو کو جزم اور راء کو زبر ہے یعنی ہم انبیاء کرام کا کوئی وارث نہیں ہوتا، علامہ باجی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اہل سنت اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ تمام انبیاء کرام کا حکم ہے اور علامہ ابن علیہ نے کہا کہ یہ حکم ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے، مگر امام قدامہ نے کہا کہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے اُن کے وارث ہوتے ہیں، یہ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا۔ (ماخوذ از مرقات) (9) قولہ: ما ترکنا (ہم نے جو چھوڑا) ضمیر ”ما“ موصول کی طرف لوٹنے والی ہے ”صدقة“ کو پیش ہے، یہ نیا جملہ ہے، گویا جب فرمایا گیا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا تو عرض کیا گیا: آپ انبیاء کرام اپنے ترکہ کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ ہم نے جو چھوڑا وہ صدقہ ہے، اسے علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا۔ اب رہا شیعہ کا یہ کہنا کہ ”ما“ نافیہ ہے اور صدقة ”ترکنا“ کا مفعول ہے تو یہ بہتان اور جھوٹ ہے، اکثر روایتوں میں مذکور ”ترکناه“ میں ضمیر کی موجودگی اور بعض روایتوں میں ”فهو صدقة“ کے الفاظ اسے غلط قرار دیتے ہیں اور بعض احادیث شریفہ کے صریح جملے اُس کا رد کرتے ہیں جیسے ارشاد مبارک کہ ہم انبیاء کی جماعت وارث نہیں بناتے کیونکہ شیعہ کا بیان کردہ معنی لینے کی صورت میں حدیث پاک کے آگے اور پیچھے والے جملوں میں تضاد لازم آتا ہے۔ (مرقات)