Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5749

باب ”قریش کے مناقب کا بیان اور قبائل کا ذکر“ ختم ہوا

In this book

Current reading

the Virtues

باب ”قریش کے مناقب کا بیان اور قبائل کا ذکر“ ختم ہوا

Zujajat al-Masabih 5749Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7437Noor 7438
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے میں نے سنا ہے اسلام غالب رہے گا بارہ خلفاء(6) تک وہ تمام قریش سے ہوں گے۔ اور ایک روایت میں ہے: لوگوں کے دین کا معاملہ جاری رہے گا(7) جب تک قریش کے بارہ(12) حضرات صاحب اقتدار ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ دین ہمیشہ قائم رہے گا جب تک قیامت قائم ہو یا ان پر بارہ(12) خلیفہ ہوں گے جو سب کے سب قریش سے ہوں گے۔(متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7222 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1821a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

until twelve caliphs

(1) His statement “until twelve caliphs”: Some scholars said: Four of them have passed, namely the Rightly Guided Caliphs, and the number must be completed before the Hour. Others said: They will be in one era, with people divided among them. At-Turbashti said: The way with this Hadith and similar ones is to interpret it as referring to the just among them, as they are truly deserving of the title of caliph. If they are assumed to be consecutive, it is metaphorical. In An-Nawawi’s commentary on Muslim, Qadi Iyad said: A question arises here, as it was said: “The caliphate after me is thirty years, then it becomes a tyrannical monarchy,” which contradicts this Hadith. The response is that the thirty years refer to the caliphate of prophethood, as some narrations specify: “The caliphate of prophethood after me is thirty years, then it becomes a monarchy,” and this condition is not required for the twelve. Others said: The twelve refer to those deserving of the caliphate among the just. Some have passed, as is known, and the number must be completed before the Hour. I say: The Shi‘ah interpret the twelve as being from the Prophet’s household consecutively, whether they hold actual caliphate or are entitled to it: Ali, Hasan, Husayn, Zayn al-Abidin, Muhammad al-Baqir, Ja‘far as-Sadiq, Musa al-Kazim, Ali ar-Rida, Muhammad at-Taqi, Ali an-Naqi, Hasan al-Askari, and Muhammad al-Mahdi (may Allah be pleased with them all), as detailed by Khwaja Muhammad Parsa in Fasl al-Khitab and followed by Mawlana Nur ad-Din Abd ar-Rahman al-Jami in the latter part of Shawahid an-Nubuwwah, mentioning their virtues, merits, miracles, and stations generally. This refutes the Rafidah, who assume Ahl as-Sunnah hate the Prophet’s household due to their corrupt belief and baseless assumption. In truth, Ahl as-Sunnah love all the companions and the Prophet’s household, unlike the Khawarij, enemies of the prophetic household, or the Rafidah, adversaries of most companions and the community’s great figures. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

The affair of the people continues to prosper

(2) His statement “The affair of the people continues to prosper”: meaning their religious affair remains correct and true. His statement “until the Hour comes” and “or” means “and” for general conjunction, i.e., and until twelve caliphs rule over them, meaning over the people, all of them from Quraysh. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: إلى اثني عشر خليفة: قال بعض المحققين قد مضى منهم الخلفاء الأربعة، ولا بد من تمام هذا العدد قبل قيام الساعة. وقيل: إنهم يكونون في زمان واحد يفترق الناس عليهم. وقال التوربشتي: السبيل في هذا الحديث وما يعتقبه في هذا المعنى أن يحمل على المقسطين منهم، فإنهم هم المستحقون لاسم الخليفة على الحقيقة، ولا يلزم أن يكونوا على الولاء وإن قدر أنهم على الولاء، فإن المراد منه المسمون بها على المجاز. وفي شرح مسلم للنووي قال القاضي عياض: توجه هنا سؤال، وهو أنه قد جاء الخلافة بعدي ثلاثون سنة، ثم تكون ملكا عضوضا». وهو مخالف لهذا الحديث، وأجيب بأن المراد بـ ثلاثون سنة خلافة النبوة. وقد جاء مفسرا في بعض الروايات خلافة النبوة بعدي ثلاثون سنة، ثم يكون ملكا، ولم يشترط هذا في الاثني عشر. وقيل : المراد باثني عشر أن يكونوا مستحقي الخلافة من العادلين. وقد مضى منهم من علم، ولا بد من تمام هذا العدد قبل قيام الساعة. قلت: وقد حمل الشيعة الاثني عشر على أنهم من أهل بيت النبوة متوالية، أعم من أن تكون لهم خلافة حقيقة أو استحقاقا، فأولهم علي، فالحسن، فالحسين، فزين العابدين فمحمد الباقر، فجعفر الصادق فموسى الكاظم، فعلي الرضاء، فمحمد التقي، فعلي النقي، فحسن العسكري، فمحمد المهدي، رضوان الله عليهم أجمعين، على ما ذكره زبدة الأولياء خواجه محمد بارسا في كتاب فصل الخطاب مفصلة، وتبعه مولانا نور الدين عبد الرحمن الجامي في أواخر شواهد النبوة، وذكر فضائلهم ومناقبهم وكراماتهم ومقاماتهم مجملة. وفيه رد على الروافض حيث يظنون بأهل السنة أنهم يبغضون أهل البيت باعتقادهم الفاسد ووهمهم الكاسد وإلا فأهل الحق يحبون جميع الصحابة وكل أهل البيت، لا كالخوارج الأعداء لأهل بيت النبوة، ولا كالروافض المعادين الجمهور الصحابة وأكابر الأمة. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : لا يزال الناس: أي أمر دينهم ماضيا» أي جاريا مستمرا على الصواب والحق. وقوله: «حتى تقوم الساعة» و«أو» بمعنى الواو لمطلق الجمع، أي وحتى يكون عليهم أي على الناس متوليا اثنا عشر خليفة، كلهم من قريش». كذا في «المرقاة».

Note 1

(6) قوله الى اثنى عشر خليفة. بعض محققین نے فرمایا ہے کہ ان میں سے چار خلفاء راشدین ہیں جو گزر گئے اور قیامت سے پہلے یہ بارہ کی تعداد ضرور مکمل ہو جائے گی اور ایک قول سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سب ایک ہی زمانہ میں ہوں گے اور مختلف لوگوں میں (مختلف ملکوں میں) ہوں گے۔ علامہ تورپشتی نے فرمایا: یہ حدیث شریف اور اس معنی میں جو احادیث شریفہ آئے ہیں اس میں توفیق کا راستہ یہ ہے کہ ان حکام سے مراد انصاف کرنے والے حکام مراد ہوں کیونکہ حقیقت میں خلیفہ کا نام ان ہی پر صادق آتا ہے اور اگر ان سے محض حکام مراد لیں گے تو اس سے مراد مجازی معنی ہوں گے۔ جن کو خلفاء کا نام دیا گیا ہے اور امام نووی کی شرح مسلم میں ہے۔ قاضی عیاض نے فرمایا یہاں ایک سوال ہے کہ حدیث شریف میں ہے میرے بعد تیس(30) سال خلافت رہے گی پھر کاٹ کھانے والی حکومت آئے گی اور یہ حدیث اس حدیث شریف کے خلاف ہے تو اس کے جواب میں کہا گیا ہے تیس سال کی خلافت سے مراد خلافت نبوت (یعنی علی منہاج النبوت) مراد ہے چنانچہ بعض روایات میں وضاحت کے ساتھ ہے خلافة النبوة بعدى ثلاثون سنة ثم يكون ملكا. میرے بعد تیس(30) سال خلافت نبوت ہوگی پھر ملوکیت ہوگی یہ بارہ کے عدد میں مشروط نہیں ہے اور اس کے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے بارہ(12) خلفاء سے مراد انصاف کرنے والے، حکام جو خلافت کے مستحق ہیں ان میں سے بعض گزر چکے ہیں جو معلوم ہیں اور قیامت سے پہلے یہ عدد پورا ہو کر رہے گا۔ میں کہتا ہوں کہ شیعہ حضرات نے بارہ(12) خلفاء کو اہل بیت کے مسلسل اور پے در پے آنے والے بارہ(12) حضرات پر محمول کیا ہے خواہ وہ حقیقت میں خلیفہ بنائے گئے ہوں یا وہ خلافت کا استحقاق رکھنے والے ہوں اور ان میں سے پہلے امام علی رضی اللہ عنہ پھر امام حسن اور امام حسین پھر امام زین العابدین اور امام محمد باقر پھر امام جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم، امام علی رضا پھر امام محمد تقی اور امام علی نقی اور حسن عسکری اور امام محمد مہدی رضوان اللہ علیہم اجمعین مراد ہیں اسی طرح زبدۃ الاولیاء خواجہ محمد پارسا نے کتاب فصل الخطاب میں تفصیل سے ذکر کیا ہے اور اسی طرح حضرت مولانا نورالدین عبدالرحمن جامی نے بھی شواہد النبوۃ کے آخر میں ذکر کیا ہے، اور ان کے فضائل مناقب اور ان کی کرامات و مقامات کو بھی اجمالاً ذکر کیا ہے۔ اس میں روافض کا رد ہے، جو اپنے فاسد خیال میں یہ سمجھتے ہیں کہ اہل سنت اہل بیت سے بغض رکھتے ہیں، یہ ان کا فاسد خیال اور باطل وہم ہے۔ اہل حق جو تمام اہل سنت ہیں تمام صحابہ اور سارے اہل بیت رضی اللہ عنہم اجمعین سے محبت رکھتے ہیں۔ اہل سنت نہ خوارج کی طرح ہیں جو اہل بیت کے دشمن ہیں، اور روافض کی طرح بھی نہیں ہیں جو جمہور صحابہ اور اکابر امت سے دشمنی رکھتے ہیں۔ (مرقات)

Note 2

(7) قوله: لا يزال الناس سے لوگوں کا دین کا کام مراد ہے۔ ماضيا سے مراد ہے حق پر ٹھیک طریقہ سے مسلسل (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) جاری رہیگا۔ قوله: حتى تقوم الساعة او میں او بمعنی واو مطلق جمع کے ہے، یعنی اور یہاں تک کہ ان پر بارہ(12) خلیفہ ہوں گے اور وہ سب قریش سے ہوں گے۔(مرقات)