اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7534
حضرت عبدالرحمن بن خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ جیش عسرت (7) پر ترغیب دلا رہے تھے تو حضرت
عثمان کھڑے ہوئے اور عرض کئے یا رسول اللہ میرے ذمہ اللہ کی راہ میں سو اونٹ اس کے جل۔۔اور
پالان کے ساتھ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ترغیب دلایا تو حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور عرض
کئے میرے ذمہ اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ اس کے۔۔۔راویان کے ساتھ پھر آپ نے ترغیب دلایا تو
حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور عرض کے میرے ذمہ اللہ کے لئے تین سو اونٹ کے جل... اور پالان
کے ساتھ ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اترتے ہوئے فرماتے تھے عثمان کو اس کے بعد وہ
جو بھی کریں کوئی ضرر نہیں ہے عثمان کو اس کے بعد وہ جو بھی کریں کوئی ضرر نہیں ہے(8)۔(ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3700 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement “Army of Hardship”: refers to the expedition of Tabuk, called so due to intense heat, drought, and scarcity of provisions, water, and mounts, making departure difficult. His statement “with their saddles” means with their covers and “packs” means their saddles. His statement “a hundred camels” means distinct from the previous hundred, not combined, as might be assumed. His statement “three hundred camels” totals six hundred, with more to come. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “No harm on Uthman”: “no” negates, meaning “there is no” harm on him, nor does what he does for his entire life after this good deed affect him. It means it atones for past sins and future faults, as stated regarding the reward of congregational prayer. It hints at glad tidings of a good end. Al-Muzhir said: It means he need not perform supererogatory acts after this, only obligations, as this good deed suffices for all supererogatory acts. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: جيش العسرة: أي على ترتيب غزوة تبوك، وسميت جيش العسرة؛ لأنها كانت في زمان اشتداد الحر والقحط وقلة الزاد والماء والمركب، بحيث يعسر عليهم الخروج. وقوله: «بأحلاسها أي مع جلالها وأقتابها»، أي رحالها. وقوله: «مائنا بعير أي غير تلك المائة لا بانضمامها كما يتوهم. وقوله: ثلاث مائة بعير فالمجموع ست مائة، وسيأتي له من الزيادة. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: ما على عثمان: «ما» هذه نافية بمعنى ليس». وفي قوله: ما عمل بعد هذه موصولة اسم «ليس» أي ليس عليه، ولا يضره الذي يعمل في جميع عمره بعد هذه الحسنة، والمعنى أنها مكفرة لذنوبه الماضية مع زيادة سيئاته الآتية، كما ورد في ثواب صلاة الجماعة. وفيه إشارة إلى بشارة له بحسن الخاتمة. وقال المظهر: أي ما عليه أن لا يعمل بعد هذه من النوافل دون الفرائض؛ لأن تلك الحسنة تكفيه عن جميع النوافل. كذا في «المرقاة».
Note 1
(7) قوله جيش العسرة. یعنی غزوہ تبوک کے انتظامات کے لئے اس غزوہ کا نام جیش العسیرۃ اس لئے ہوا کہ اس جنگ کا زمانہ نہایت گرمی قحط سالی ساز و سامان کی تنگی پانی کی قلت اور سواری کی بھی اس قدر کمی تھی کہ جنگ کے لئے نکلنا مشکل تھا۔ وقوله: باحلاسها یعنی ان اونٹوں کے جھل کے ساتھ و اقتابها ان کے کجاوے اور پالانوں کے ساتھ۔ وقوله: مائتا بعير. یہ پہلے سو اونٹوں کے علاوہ ہیں۔ وقوله: ثلاثمائة بعير جملہ چھ سو اونٹ ہوئے اور آپ نے اس کے علاوہ بھی مزید دیا اس کا بیان آئے گا۔ (مرقات) (8) قوله: ما على عثمان اس میں ما نافیہ ہے اور لیس کے معنی میں ہے، وفی قوله: ما عمل بعد هذه. میں ما موصولہ ہے اور لیس کا اسم ہے یعنی ان پر کوئی ضرر نہیں ہے اور اس نیکی کے بعد اپنی تمام زندگی میں وہ جو کام کریں گے ان کو وہ ضرر نہیں دے گا۔ یعنی یہ نیکی ان کے سابقہ ذنوب کا اور آئندہ مزید خطاؤں کا کفارہ ہے جیسا کہ جماعت سے نماز کے ثواب میں ہے اور اس میں ان کے لئے حسن خاتمہ کی خوشخبری ہے اور علامہ مظہر نے فرمایا یعنی اس کے بعد وہ صرف فرائض پر عمل کریں اور نوافل پر عمل نہ کریں تو کوئی ضرر نہیں کیونکہ یہ نیکی تمام نوافل کے لئے کافی ہے۔(مرقات)