اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7554
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: میں جس کا مددگار(5) ہوں علی اس کے مددگار ہیں۔ (احمد، ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3713 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “Whoever’s ally I am, Ali is his ally”: In Sharh al-Masabih by Qadi, the Shia said “ally” means the one in charge. They claimed the Hadith means Ali (may Allah be pleased with him) is entitled to manage everything the Messenger of Allah (ﷺ) is entitled to, including the affairs of the believers, making him their imam. At-Tibi said: It is not valid to interpret “alliance” as imamate, meaning authority over the believers’ affairs, because the one in charge during his lifetime is none but him. It must be understood as love, Islamic loyalty, or similar. It is said: The reason for this Hadith, as narrated by Hafiz Shams ad-Din al-Jazari from Ibn Ishaq, is that Ali spoke to some who were with him in Yemen. When the Prophet (ﷺ) completed his Hajj, he addressed them to clarify Ali’s status and refute those who spoke against him, like Buraydah, as in Bukhari. The reason, as narrated by Adh-Dhahabi and deemed authentic, is that he went with him to Yemen, saw harshness from him, and reported it to the Prophet (ﷺ). His face changed, and he said: “O Buraydah, am I not more entitled to the believers than themselves?” I said: “Yes, O Messenger of Allah.” He said: “Whoever’s ally I am, Ali is his ally.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله من كنت مولاه فعلي مولاه وفي شرح المصابيح للقاضي: قالت الشيعة هو المتصرف، وقالوا: معنى الحديث أن عليا الله يستحق التصرف في كل ما يستحق الرسول الله التصرف فيه، ومن ذلك أمور المؤمنين، فيكون إمامهم. قال الطيبي : لا يستقيم أن تحمل الولاية على الإمامة التي هي التصرف في أمور المؤمنين؛ لأن المتصرف المتسقل في حياته و هو هو لا غيره، فيجب أن يحمل على المحبة وولاء الإسلام ونحوهما. وقيل: سبب ورود هذا الحديث كما نقله الحافظ شمس الدين الجزري عن ابن إسحاق : أن عليا تكلم بعض من كان معه باليمن، فلما قضى النبي ﷺ حجه خطب بها تنبيها على قدره وردا على من تكلم فيه كبريدة كما في البخاري». وسبب ذلك كما رواه الذهبي وصححه أنه خرج معه إلى اليمن، فرأى منه جفوة، فقصه للنبي ، فجعل يتغير وجهه ويقول: يا بريدة ألست أولى بالمؤمنين من أنفسهم. قلت: بلى يا رسول الله، قال: من كنت مولاه فعلي مولاه». كذا في المرقاة والبسط المزيد سيجيء في الحديث الذي يليه فليطالع؛ فإنه نفيس في بابه.
Note 1
(5) قوله من كنت مولاه فعلى مولاه (میں جس کا مددگار ہوں علی اس کے مددگار ہیں) قاضی کی شرح مصابیح میں مذکور ہے: شیعہ نے کہا: مولیٰ کے معنی تصرف کرنے والے کے ہیں، اور انہوں نے کہا: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ ہر اس چیز میں تصرف کے حق دار ہیں جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تصرف کا حق رکھتے اور اس میں ایمان والوں کے معاملات بھی ہیں تو علی رضی اللہ عنہ اُن کے امام ہوئے، علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ بات درست نہیں کہ ولایت کو اُس امامت پر محمول کیا جائے جو دراصل مؤمنین کے امور میں تصرف ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں مستقل تصرف کرنے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں کوئی اور نہیں، تو ضروری ہے کہ اس حدیث شریف کو محبت، اسلامی الفت اور اس جیسے معنی پر محمول کیا جائے الخ، کہا گیا ہے کہ اس حدیث پاک کے وارد ہونے کا سبب جیسا کہ حافظ شمس الدین جزری نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ یمن میں جو علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے کچھ گفتگو کی تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج ادا فرمایا تو خطبہ میں علی رضی اللہ عنہ کے مرتبہ کو بتلانے اور اس شخص کا رد کرنے کے لئے یہ ارشاد فرمایا: جس نے آپ کے بارے میں گفتگو کی جیسے بریدہ رضی اللہ عنہ جو کہ بخاری میں وارد ہے، امام ذہبی کی روایت کے مطابق جس کو انہوں (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) نے صحیح قرار دیا اُس کا سبب یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن روانہ ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ نے اُن کا نامناسب سلوک دیکھا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، جس کی وجہ سے آپ کا چہرہ انور بدلنے لگا اور آپ نے فرمایا: اے بریدہ! کیا میں ایمان والوں کے اُن کی جانوں سے زیادہ قریب نہیں ہوں؟ اُنہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: میں جس کا مددگار ہوں علی اس کے مددگار ہیں۔ (مرقات) مزید تفصیل عنقریب بعد والی حدیث میں آئے گی اُس کا مطالعہ کیا جائے کیونکہ وہ اس مضمون میں عمدہ بحث ہے۔