اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7629
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے فرمایا: میں نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کو ایک دن نصف النہار کے وقت خواب میں بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود دیکھا(21)
کہا آپ کے دست مبارک میں ایک شیشی ہے جس میں خون ہے میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ
آپ پر قربان، یہ کیا ہے؟ تو فرمایا: ”یہ حسین اور ان کے اصحاب کا خون ہے میں صبح سے اس کو اٹھا لیتا
رہا“۔ پس میں نے اس وقت کا حساب رکھا تو قتل حسین کو ٹھیک اسی وقت میں پاتا ہوں۔ (بیہقی دلائل
النبوۃ، احمد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 6172 (unverified) 60% confidence
- Candidate: Musnad Ahmad 2553 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 6172
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “I saw the Prophet (ﷺ)”: Meaning, after his departure. The statement “I have been collecting it since today”: At-Tibi said: This is the Prophet’s statement, either as a second report or as an appositive to “this.” The statement “I noted that time”: From Ibn Abbas, meaning I recorded the date of that dream. The statement “found that he was killed at that time”: Meaning, I found he was killed at that time. The shift from past to present tense emphasizes the vividness of the event. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: رأيت النبي ﷺ: أي بعد موته . وقوله: ولم أزل ألتقطته منذ اليوم قال الطيبي: هذا من كلام الرسول الله يجو أن يكون خبرا بعد خبر لقوله: «هذا ويجوز أن يكون خبرا ودم الحسين» بدل من «هذا». وقوله: فأحصي ذلك الوقت من كلام ابن عباس أي حفظ تاريخ ذلك الوقت من زمن الرؤيا وقوله: «فأجد قتل ذلك الوقت أي فوجدته قتل في ذلك الوقت والعدول عن الماضي إلى المضارع؛ لاستحضار الحال الغريبة. كذا في المرقاة».
Note 1
(21) قوله: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم. یعنی آپ کے وصال کے بعد دیکھا وقوله: لم ازل التقطه منذ اليوم. علامہ طیبی نے فرمایا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہذا کی خبر کے بعد خبر ہو (حاشیہ پچھلے صفحے سے) اور ہوسکتا ہے یہ خبر ہو اور ”دم الحسين“ ”هذا“ کا بدل ہو۔ وقوله: فاحصى ذلك الوقت یہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا کلام ہے۔ یعنی خواب کے زمانہ سے اس وقت کی تاریخ کو یاد رکھا۔ وقوله: فاجد قتل ذلك الوقت تو شہادت حسین اسی وقت میں ہوئی اور ”اجد“ کو ماضی سے مضارع کی طرف عدول جو کیا گیا وہ اس عجیب واقعہ کے استحضار کے لئے ہے۔ (مرقات)