اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7755
اور ان ہی سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
کفر کے ظاہر ہونے کی جگہ مشرق کی سمت ہے(6) اور فخر(7) و تکبر گھوڑے اور اونٹ والوں میں اور
خیموں میں رہنے والے کاشتکاروں(8) میں ہے اور سکون بکری والوں میں ہے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3301 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 52a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) His statement: “The head of disbelief” means its majority, as Suyuti stated, or more likely, its origin. His statement: “toward the East” indicates that disbelief and trials, like the Dajjal, Gog and Magog, and others, will emerge from there. Ibn al-Malak said: This refers to the greater influence of Satan over the people of the East, which was true in his time and will be when the Dajjal emerges from the East, the source of great trials and disbelief. Suyuti, quoting Al-Baji, said it may refer to Persia or Najd. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “Pride and arrogance are among the owners of horses”: Al-Raghib said: Arrogance is pride based on an imagined virtue one sees in oneself. It is said that no one rides a horse without feeling a sense of pride. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement: “the noisy ones” refers to farmers, in conjunction with horse owners. His statement: “the people of tents” refers to camel hair tents, by way of substitution or clarification, meaning desert dwellers, as their homes are often tents made of hair. It is said that the Prophet (ﷺ) saw a dwelling and farming tools and said: “These do not enter a people’s home without bringing them humiliation.” How then can pride and arrogance be associated with humiliation? I say: Perhaps he foretold what would happen in the end times, where excessive farming leads to pride and arrogance, as seen among worldly people with vast farms among non-Arabs, who take precedence in gatherings over camel and horse owners, gaining great esteem among kings, some becoming ministers and leaders among their subjects. They are called “jagirdar” in our terminology. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: رأس الكفر أي معظمه، ذكره السيوطي، والأظهر أن يقال: منشؤه. وقوله: «نحو المشرق» بالنصب أي ظهور الكفر من قبل المشرق. قال ابن الملك: أي منه يظهر الكفر والفتن كالدجال ويأجوج ومأجوج وغيرهما. وقال النووي: المراد باختصاص المشرق به مزيد تسلط الشيطان على أهل المشرق، وكان ذلك في عهده ويكون حين يخرج الدجال من المشرق؛ فإنه منشأه الفتن العظيمة ومثار الكفر الترك. وقال السيوطي نقلا عن الباجي: يحتمل أن يريد فارس وأن يريد نجدا. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: والفخر والخيلاء في أهل الخيل : قال الراغب الخيلاء التكبر عن تخيل فضيلة تراءت للإنسان من نفسه. قيل: إنه لا يركب أحد فرسا إلا وجد في نفسه نخوة.
Note 3
(۳) قوله: والفدادين بالتشديد ويخفف أي وفي الفلاحين عطف على أهل الخيل. وقوله: «أهل الوبر» بفتح الواو والموحدة شعر الإبل، وهو بالجر بدل أو بيان، والمراد بهم سكان الصحارى؛ لأن بيوتهم غالبا خيام من الشعر. قيل: وقد صح عن النبي له أنه رأى مسكة وشيئا من آلات الحرث، فقال: ما دخل هذا دار قوم إلا دخل عليهم الذل فأين إيقاع الفخر والخيلاء من موقع الذل ؟ قلت: لعله له أخبر عما سيقع في آخر الزمان من كثرة الزراعة تكون سببا للافتخار والتكبر، كما هو مشاهد في أرباب الدنيا من أهل المزارع الكثيرة في العجم، بحيث إنهم يتقدمون في المحافل على أصحاب الإبل والخيل، بل لهم اعتبار عظيم عند الملوك حتى يصير أكثرهم وزراء لهم وكبراء عند سائر رعيتهم. كذا في «المرقاة قلت: لعلهم يقال لهم في محاورتنا جاگيردار.
Note 1
(6) قوله: رأس الكفر۔ یعنی اس کا بڑا حصہ، اور امام سیوطی نے ذکر کیا ہے کہ راجح معنی یہ ہے کہ کہا جائے کہ اس کے نشو نما کی جگہ مشرق ہے۔ وقوله: نحو المشرق۔ کو نصب ہے یعنی کفر کا ظہور مشرق کی جانب سے ہوگا۔ علامہ ابن الملک نے فرمایا کہ اسی جانب سے کفر اور فتن ظاہر ہونگے جیسے کہ دجال اور یاجوج ماجوج وغیرہ اور امام نووی نے بیان کیا کہ مشرق کو اس سے خاص کرنے سے مراد اہل مشرق پر شیطان کے تسلط کی زیادتی ہے، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا اور مشرق کی جانب سے دجال کے نکلنے کے وقت ہوگا کیونکہ وہ بڑے فتنوں کے نشو نما پانے کی اور کفر کے پھیلنے کی جگہ ہے امام سیوطی نے علامہ باجی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس بات کا احتمال ہے کہ اس سے فارس مراد ہو یا نجد مراد ہو۔ (7) قوله: والفخر والخيلاء في اهل الخيل۔ امام راغب نے فرمایا: خیلاء سے مراد تکبر ہے جو تخیل سے ہے اور وہ اس فضیلت کے خیال سے ہے جو انسان کو اپنے نفس میں دکھائی دیتی ہے، اور کہا گیا ہے کہ کوئی (انسان) گھوڑے پر سوار نہیں ہوتا مگر وہ اپنے نفس میں تکبر کو پاتا ہے۔ (8) قوله: والفدادين۔ دال کو تشدید ہے اور تخفیف کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ یعنی کاشتکاروں میں۔ اهل الخيل پر عطف ہے۔ وقوله: اهل الوبر۔ ”واؤ“ اور ”باء“ کو فتحہ ہے یعنی شعر الابل۔ (اونٹ کے بال) اور وہ مجرور ہے بدل یا بیان ہونے کی وجہ سے۔ اور ان سے مراد جنگل و بیابان میں بسنے والے لوگ ہیں کیونکہ اکثر ان (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) کے گھر بالوں سے بنے ہوئے خیمے ہوتے ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحت کے ساتھ مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہل اور کھیتی کے کچھ آلات دیکھے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ کسی قوم کے گھر میں داخل نہیں ہوگا مگر ان پر ذلت داخل کردے گا۔ پس ذلت کے مقام میں فخر و تکبر کہاں سے ہو سکتا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کے بارے میں خبر دی جو آخری زمانہ میں واقع ہوگی کہ جب کثرت زراعت فخر و تکبر کا سبب بن جائے گی جیسا کہ عجم میں بکثرت کھیتوں والے دنیا داروں میں دیکھے جاتے ہیں۔ اس حیثیت سے کہ وہ لوگ محافل میں اونٹ اور گھوڑے والوں سے بھی آگے رہتے ہیں بلکہ بادشاہوں کے پاس ان کا بڑا اعتبار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے اکثر لوگ ان (بادشاہوں) کے وزراء بن جاتے ہیں اور ان کی تمام رعایا کے نزدیک بہت بڑے لوگ سمجھے جاتے ہیں۔ (مرقات) میں کہتا ہوں کہ شاید اسی وجہ سے ان لوگوں کو ہمارے محاورہ میں جاگیردار کہا جاتا ہے۔