اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 680
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سودہ بنت زمعہ
رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مرگئی، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ مرگئی ہے
یعنی بکری، آپ نے ارشاد فرمایا کیوں تم نے اس کے چمڑے کو نہیں لیا، سودہ رضی اللہ عنہا نے جواب
دیا کہ ہم کیسے ایسی بکری کے چمڑے کو لے سکتے تھے جو مردار ہوگئی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ انعام کی آیت (پ:8، سورہ انعام، ع18، آیت نمبر:145 میں)
(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں سے کہو کہ کوئی (ان چیزوں میں سے جن کو تم حرام
کہتے ہو) کچھ کھالے تو میری طرف جو وحی آئی ہے اس میں تو میں اس پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا مگر یہ کہ
وہ چیز مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت ہو کہ یہ چیزیں بے شک ناپاک ہیں،) اس لئے اگر تم اس
کو (یعنی مری ہوئی بکری کے چمڑے کو) دباغت دے دیتے اور اس سے نفع اٹھاتے تو کوئی حرج نہیں
تھا۔ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آدمی روانہ کردیا اور کھال کھچوا کر منگالی اور اس کو دباغت
دلوا کر اس سے مشکیزہ بنوالیا اور وہ استعمال میں رہا یہاں تک کہ وہ پھٹ گیا۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے
کی ہے، اور امام احمد نے اسناد صحیح سے روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Musnad Ahmad 3027 (unverified) 30% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.