اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 859
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری چھوٹی عمریں تم سے پیشتر کے امتوں کی عمروں کے
مقابلہ میں اتنی ہیں جتنا وقت عصر سے لے کر غروب آفتاب تک ہوا کرتا ہے اور تمہاری اور یہود و
نصاریٰ کی مثال (اللہ تعالیٰ کے ساتھ) ایسی ہے کہ ایک شخص نے چند کام کرنے والوں کو کام میں اُجرت
پر لگایا اور یہ کہا کہ کون میرا کام صبح سے دوپہر تک ایک ایک قیراط اُجرت پر کرے گا؟ تو یہود صبح سے
دوپہر تک ایک ایک قیراط اُجرت پر کام انجام دیتے رہے، پھر اس شخص نے کہا دوپہر سے لے کر نماز
عصر تک ایک ایک قیراط اُجرت پر کون میرا کام کرے گا؟ تو نصاریٰ دوپہر سے لے کر نماز عصر تک
ایک ایک قیراط کی اُجرت پر کام کرتے رہے، پھر اس شخص نے کہا کہ کون میرا کام نماز عصر سے لے کر
آفتاب کے ڈوبنے تک دو دو قیراط کی اُجرت پر انجام دے گا؟ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)
خوب سن لو کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک عمل کرتے ہیں، پھر سن لو کہ تم ہی
دوہرے اجر کے مستحق ہو، یہود و نصاریٰ اس پر ناراض ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہم تو زیادہ عمل کریں اور
اُجرت کم پائیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے حق کے ادا کرنے میں تم پر کچھ ظلم کیا ہے؟
یہود و نصاریٰ نے جواب دیا کہ نہیں! بس اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ دوگنا اجر دینا میرا فضل ہے
جس کو چاہوں دیدوں۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3459 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ہمارے علماء نے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں استدلال کیا ہے کہ نماز عصر کا ابتدائی وقت اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہر شئے کا سایہ (سایہ اصلی چھوڑ کر) اس شئے کے دو مثل ہوجائے کیونکہ اگر عصر کا وقت ایک مثل پر قرار دیا جائے تو ایک مثل سے غروب تک زیادہ مدت ہوتی ہے اور دوپہر سے ایک مثل تک تھوڑی مدت حالانکہ اس حدیث میں جو مثال دی گئی ہے اس میں نصاریٰ کی مدت جو دوپہر سے عصر تک ہے اس کو زیادہ بتایا گیا ہے اور عصر سے مغرب تک کی مدت کو جو اس امت کی مدت ہے کم بتایا گیا ہے اس طرح 7 اس سے ثابت ہوا کہ عصر کا وقت دو مثل کے بعد شروع ہوتا ہے اور یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔12