Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 955

(یہ باب مسجدوں اور نماز کی جگہوں کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب مسجدوں اور نماز کی جگہوں کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 955Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1071
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین ہی مساجد کی جانب فضیلت مسجد حاصل کرنے کی غرض سے سفر کیا جاسکتا ہے، مسجد الحرام (یعنی کعبہ اللہ) اور مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) اور میری یہ مسجد (یعنی مسجد نبوی ﷺ)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1197 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ مسجد الحرام کی ایک نماز فضیلت میں ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ میں ایک نماز پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور اسی طرح مسجد نبوی میں بھی ایک نماز پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے، اس لئے جو شخص فضیلت اور ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ ان تینوں مسجدوں کی طرف سفر کرسکتا ہے۔ اب رہی دوسری مسجدیں تو ان تینوں مسجدوں کے سوا دنیا بھر کی تمام مسجدیں فضیلت میں ایک دوسرے کے برابر ہیں، اس لئے ان تینوں مسجدوں کے سوا کسی اور مسجد کی طرف فضیلت حاصل کرنے کی نیت سے سفر کرنا ایک لوفعل ہوگا، اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی مسجد کی طرف سفر نہ کرو اور صرف انہی تین مسجدوں کی طرف سفر کرو۔ بعض حضرات نے اس حدیث کے الفاظ ”لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلٰى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ“ سے استدلال کیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور اولیائے کرام کے مقابر اور مشاہد کی زیارت کیلئے سفر کرنا ناجائز و ممنوع ہے، حالانکہ اس حدیث کے ان الفاظ سے مقابر اور مشاہد کی زیارت کیلئے سفر کی ممانعت کسی طرح ثابت نہیں کی جاسکتی کیوں کہ اس حدیث سے صرف یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ ان تین مسجدوں کے سوا سفر کے فضیلت اور برکت حاصل کرنے کے قابل کوئی اور مسجد نہیں علاوہ ازیں ”لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ“ میں جو حصر موجود ہے وہ مساجد سے متعلق ہے نہ کہ مقابر سے۔ چنانچہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے شرح عین العلم میں اس حدیث کا ذکر کر کے صراحت فرمائی ہے: ”لَا يَمْنَعُ هٰذَا زِيَارَةَ قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأَوْلِيَاءِ لِأَنَّ النَّهْىَ فِى حَقِّ الْمَسَاجِدِ دُونَ سَائِرِ الْمَشَاهِدِ“ (اس حدیث سے انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کے قبور کی زیارت سے منع نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حصر مسجدوں سے متعلق ہے نہ کہ زیارت گاہوں سے) تو اس حدیث میں جو حصر مساجد سے متعلق ہے اس حصر کو عام کرکے شد رحال سے متعلق سفر مراد لیا جائے تو پھر نہ صرف مقابر اور مشاہد بلکہ تجارت اور سوداگری اور اسی طرح ہر قسم کے سفر کی ممانعت ثابت کرنا پڑے گی اور اسی صورت میں حدیث ناقابل عمل قرار پائے گی۔ تو شد رحال سے جب عام سفر کی ممانعت ثابت نہیں کی جاسکتی تو پھر کس بناء پر اس حدیث سے مقابر انبیاء اور اولیاء کی زیارت کیلئے سفر کو ناجائز قرار دیا جاسکتا ہے؟ بالخصوص جب کہ دوسری حدیث میں مذکور ہے ”كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ أَلَا فَزُورُوهَا“ (میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روک رکھا تھا اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو) حدیث کے الفاظ ”أَلَا فَزُورُوهَا“ عام ہیں جس سے نہ صرف مقامی بلکہ دور دراز کے مقابر کی زیارت کا حکم حاصل ہوتا ہے پس ثابت ہوا کہ زیارت قبور کیلئے سفر مامور بہ ہے اور نہی عنہ نہیں ہے، چنانچہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ قبر سیدنا موسیٰ الكاظم رضى الله عنه ترياق مجرب الاجابة الدعاء (امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی قبر شریف اجابت دعا کیلئے تریاق مجرب ہے۔) اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”مَنْ يُسْتَمَدُّ فِى حَيَاتِهِ يُسْتَمَدُّ بَعْدَ مَمَاتِهِ“ (جس سے زندگی میں مدد طلب کی جاتی تھی اس کی وفات کے بعد بھی اس سے مدد طلب کی جاسکتی ہے۔) اس کے علاوہ اس حدیث میں ان تین مسجدوں کے سوا کسی اور مسجد کی زیارت کیلئے سفر اس لئے ممنوع قرار دیا گیا ہے کہ ان مساجد ثلاثہ کے سوا جتنی مسجدیں ہیں وہ ثواب اور فضیلت میں ایک دوسرے کے مساوی ہیں تو ان تین مسجدوں کے سوا جس کسی مسجد کی طرف سفر ہوگا وہ فعل عبث ہوگا اس کے برخلاف مقابر اور مشاہد فضیلت اور برکت میں مساوی نہیں ہوتے بلکہ متفاوت ہوتے ہیں۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب مناسک میں لکھا ہے کہ مکہ معظمہ میں کئی مشاہد ہیں جن کی زیارت علماء نے مستحب قرار دی ہے مگر مولد سیدتنا فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا یعنی ام المؤمنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے مسکن مبارک کے متعلق سب کا اتفاق ہے۔ جس کو طبرانی نے نقل کیا ہے: ”هُوَ أَفْضَلُ مَوَاضِعِ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْمَسْجِدِ“، یعنی مولد فاطمہ رضی اللہ عنہا مسجد حرام کے بعد مکہ معظمہ کے تمام مقامات متبرکہ میں افضل ترین مقام ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی گھر میں تشریف فرما رہے اور یہیں سے آپ نے ہجرت فرمائی تو جب ثابت ہوا کہ مقابر اور مشاہد برکت میں متفاوت ہیں تو جس علت سے مساجد ثلاثہ کے سوا کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ علت مقابر اور مشاہد میں نہیں پائی جاتی تو ان مساجد کا حکم بھی ان مقابر اور مشاہد سے متعلق نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام مشاہد اور مقابر فیض رسانی میں مساوی نہیں ہوتے ہیں اس لئے ایک کی زیارت کی وجہ سے دوسرے کی زیارت سے استغنا حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف مسجدیں کہ یہ ثواب میں یکساں ہوتے ہیں کہ جو ثواب ایک مسجد میں ہے وہی دوسری مسجد میں پایا جاتا ہے اس لئے اس حدیث میں ان مساجد ثلاثہ کے سوا کسی اور مسجد کی طرف سفر کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، اس طرح ثابت ہو گیا کہ ”لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلٰى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ“ سے مقابر اور مشاہد کی زیارت کیلئے سفر کو ممنوع قرار دینا غلط ہے اور بیجا استدلال ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات، فصل الخطاب۔)12