Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 20

(یہ باب ان اعمال کے بیان میں ہے جن کا نماز میں کرنا جائز ہے

35 narrations · In source reading order

Hadith 1371

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1565
طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کی نماز میں (عمداً) ریح خارج ہو جائے تو اس پر وضوء کر کے از سر نو شروع سے نماز پڑھنا واجب ہے، اگر بغیر ارادہ کے خود بخود ریح نکلے تو اس کو وضوء کر کے از سر نو نماز پڑھنا مستحب ہے اور جس قدر نماز پڑھ لیا ہے اس پر بناء کرنا بھی جائز ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ترمذی نے بھی کسی قدر زیادتی اور کمی کے ساتھ اس کی روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 205 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1164 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث کے ترجمہ میں جو قیود مذکور ہیں، مرقات سے ماخوذ ہیں اور ان سے مقصود یہ ہے کہ اوپر کی حدیثیں جن میں حدث ہونے پر نماز کے بنا کا حکم ہے، اور یہ حدیث جس میں حدث ہونے پر نماز کو شروع سے لوٹانے کا حکم ہے، تطبیق ہو جائے اور وہ اس طرح کہ اوپر کی حدیثیں جن میں نماز کے بنا کا حکم ہے ان کو غیر اختیاری حدث سے متعلق کیا جائے اور اس حدیث کو جس میں نماز کے لوٹانے کا حکم ہے، حدث اختیاری اور غیر اختیاری دونوں سے متعلق کیا جائے۔ اس حدیث کو دونوں صورتوں یعنی اختیاری اور غیر اختیاری حدث سے اس طرح متعلق کیا جائے گا کہ اگر حدث اختیاری ہو تو نماز کو لوٹانا واجب ہے اور اگر حدث غیر اختیاری ہے تو نماز کا لوٹانا مستحب یعنی افضل ہے۔ (یہ مضمون کچھ زیادتی کے ساتھ مرقات سے ماخوذ ہے۔)

Hadith 1372

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1566
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں کسی ایک نماز کو تکبیر تحریمہ کہہ کر شروع فرمائے (پھر حدث ہونے پر) اپنے دست مبارک سے صحابہ کو اشارہ فرمایا (جس کا مفہوم یہ تھا کہ ٹھیرے رہو) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصلی سے چلے گئے پھر (وضوء فرما کر) ایسی حالت میں واپس ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد مبارک پر پانی کا اثر تھا پھر آپ نے (بناء کر کے) نماز پڑھائی۔ (یعنی تکبیر تحریمہ کہے بغیر جہاں سے نماز چھوڑی تھی وہیں سے نماز شروع فرما کر نماز کی تکمیل فرمائی۔) اس کی روایت امام محمد نے موطاء میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 111 (unverified) 30% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1) امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم اسی حدیث سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ جس کسی کا وضوء نماز کی حالت میں ٹوٹ جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ نماز کی جگہ سے ہٹ جائے اور بات نہ کرے اور وضوء کر کے جو کچھ نماز پہلے پڑھ چکا ہے اسی پر بناء کر کے باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور افضل یہ ہے کہ بات کر لے اور وضوء کر کے نماز کو از سر نو شروع سے پڑھے۔ ف(2) ردالمحتار میں لکھا ہے کہ امام کو نماز میں حدث ہو جائے اور پانی مسجد میں موجود ہو تو وہ نمازیوں کو اشارہ سے ٹھہرا کر کسی کو خلیفہ بنائے بغیر نماز کی جگہ سے ہٹ کر وضو کرے اور واپس آ کر بناء کر کے باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور اگر پانی مسجد میں موجود نہ ہو تو امام کسی کو خلیفہ بنا کر خود وضوء کے لئے چلا جائے لیکن امام کے لئے خواہ پانی مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر ہو نماز میں حدث ہونے پر ہر حالت میں وضوء کے لئے جانے کے واسطے کسی کو خلیفہ بنا لینا افضل ہے۔

Hadith 1373

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1567
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سے کوئی نماز پڑھے اور نماز میں اس کا وضوء ٹوٹ جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ لے (تا کہ لوگوں کو خیال ہو کہ اسے نکسیر آئی ورنہ ممکن ہے کہ وہ شرم کی وجہ سے وضوء ہی نہ کرے اور بلا وضوء ہی نماز پڑھے) پھر نماز کی جگہ سے ہٹ جائے۔(اور وضوء کر کے بنا کرے۔) (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1114 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1374

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1568
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ جب کسی نے لوگوں کی امامت کی اور اپنے پیٹ میں تکلیف کا احساس کیا یا ⟦?⟧ کی آمد کا احساس ہوا یا نکسیر کے چھوٹ جانے کا یقین ہوا تو اپنی ناک پر کپڑا رکھ لے اور مقتدیوں میں سے کسی کے ہاتھ کو پکڑ لے اور اس کو آگے بڑھاوے۔(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: عمدۃ الرعایۃ میں بنایہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب امام کو مقتدیوں میں سے کسی کو خلیفہ بنانے کی ضرورت پیش آئے تو مقتدی کو اپنی جگہ لے جانے کے لئے بات کے بغیر اس کا کپڑا پکڑ کر کھینچے یا ہاتھ سے اشارہ کرے اور اشارہ سے ہی اس کو اپنی باقی ماندہ نماز کی اطلاع کرے اور اگر خلیفہ بناتے وقت بات کر لی تو نماز فاسد ہو جائے گی۔

Hadith 1375

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1569
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اخیر نماز میں قعدہ اخیرہ (بقدر التشہد بیٹھنے کے بعد) سلام پھیرنے سے قبل عمداً وضو توڑ دے تو اس کی نماز ہوگئی (اس واسطے کہ اپنے فعل سے نماز سے باہر آنا فرض ہے، اور یہاں مصلّی عمداً حدث کر کے اپنے فعل سے باہر ہو گیا ہے اور اس کے ذمہ کوئی فرض و واجب باقی نہ رہا اس لئے اس کی نماز ہوگئی۔) (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 408 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.