Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 3

(بعض نمازوں کو تاخیر کر کے مستحب وقت میں اور بعض نمازوں کو جلدی کر کے

63 narrations · In source reading order

Hadith 841

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 945
ابراہیم نخعی (رضی اللہ عنہ سے روایت ہے) کہ اُن سے (صاحب ترتیب) شخص کے متعلق (دریافت کیا گیا) جو نماز ظہر بھول گیا ہو اور عصر کی نماز میں شریک ہو گیا اور اس کو نماز عصر میں ظہر کی نماز یاد آگئی تو ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ عصر کو توڑ دے اور ظہر کی نماز پہلے پڑھ لے اس کے بعد عصر ادا کرے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 842

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 946
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز وتر نہ پڑھ کر سو جائے اور رات میں ادا نہ کرسکے اور وہ صاحب ترتیب ہے) تو وہ وتر کو صبح صادق ہونے کے بعد (نماز فجر کے پہلے) پڑھ لے۔ (اس کی روایت ترمذی نے مرسلاً کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 466 (unverified) 87% confidence · Validation similarity: 0.561

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ صاحب ترتیب کیلئے جس طرح فرض نمازوں کی قضاء کے موقع پر قضاء اور وقتیۂ نمازوں کے درمیان ترتیب کا قائم رکھنا فرض ہے (کہ وہ پہلے قضاء ادا کرے پھر وقتیہ نماز) اسی طرح صاحب ترتیب کیلئے یہ بھی فرض ہے کہ وہ وتر اور فرض نمازوں کے درمیان ترتیب قائم رکھے، مثلاً کسی صاحب ترتیب کی نماز وتر فوت ہوگئی اور فجر کا وقت شروع ہوگیا تو ایسے صاحب ترتیب کیلئے ضروری ہے کہ وہ پہلے وتر کی قضاء پڑھے پھر فجر کے فرض ادا کرے۔ یہ مضمون شرح وقایہ سے ماخوذ ہے۔12

Hadith 843

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 947
ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین نے خندق کی لڑائی کے موقع پر چار نمازوں سے روک رکھا تھا (اس لئے چار نمازیں ادا نہ کرسکے) یہاں تک کہ اللہ کی مشیت میں جہاں تک منظور تھا رات کا کچھ حصہ گزر گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر ادا فرمائی پھر اقامت ہوئی اور نماز عصر ادا فرمائی پھر اقامت ہوئی اور مغرب ادا فرمائی پھر اقامت ہوئی اور عشاء کی نماز ادا فرمائی۔ (اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے اور ابن حبان اور بزار نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 179 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 662 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ہمارے علماء نے ان احادیث سے استدلال کیا ہے کہ صاحب ترتیب کیلئے وقتیّہ نمازوں اور قضا نمازوں کے درمیان ترتیب کا قائم رکھنا فرض ہے اس طرح کہ پہلے قضا نماز ادا کی جائے پھر وقتیّہ اور اسی طرح قضا نمازوں کے درمیان بھی ترتیب کا لحاظ رکھنا فرض ہے اگر کسی صاحب ترتیب کی نمازِ صبح فوت ہو جائے اور وہ ظہر تک اسکو ادا نہ کر سکے تو وہ ظہر کے وقت پہلے نمازِ فجر ادا کرے اور اس کے بعد نمازِ ظہر ادا کرے اور اسی طرح کسی صاحب ترتیب کی فجر اور ظہر دونوں قضا ہوں تو اس کو چاہئے کہ پہلے فجر کی قضا ادا کرے پھر ظہر کی قضا ادا کرے۔ صاحب ترتیب کے بارے میں مزید توضیح یہ ہے کہ کسی شخص کی دو یا تین یا چار یا پانچ نمازیں قضا ہو گئیں اور ان نمازوں کے سوا اس کے ذمہ کسی اور نماز کی قضا باقی نہیں ہے۔ یعنی عمر بھر میں سن بلوغ سے کبھی کوئی نماز فوت نہیں ہوئی اور اگر فوت ہوئی تو اس کی قضا کر لی، ایسا شخص صاحب ترتیب ہے اور ایسے شخص کیلئے ادا نماز کا پڑھنا اس وقت تک درست نہیں جب تک وہ ان پانچوں فوت شدہ نمازوں کی قضا نہ پڑھ لیوے اور ایسا شخص ان فوت شدہ نمازوں میں بھی لازماً ترتیب رکھے گا یعنی جو نماز سب سے اول فوت ہوئی ہے، پہلے اس کی قضا پڑھے، پھر اس کے بعد والی، پھر اس کے بعد والی اس طرح ترتیب سے پانچوں کی قضا پڑھے مثلاً کسی سے دن بھر کی پانچوں نمازیں فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء فوت ہو گئیں تو یہ صاحب ترتیب ہونے کی وجہ سے پہلے فجر، پھر ظہر، پھر عصر، پھر مغرب اور پھر عشاء ترتیب سے پڑھے اگر اس نے پہلے فجر کی قضا نہیں پڑھی بلکہ ظہر قضا پڑھ لی یا عصر کی قضا تو کی یا ان پانچوں نمازوں میں سے بلا لحاظ ترتیب کوئی اور نماز ادا کر لی تو یہ نماز درست نہیں ہوئی اور اس شخص کیلئے اس نماز کو پھر پڑھنا ضروری ہوگا البتہ کسی شخص کی چھ نمازیں فوت ہو جائیں تو ایسا شخص صاحب ترتیب نہیں رہا، اب وہ ان فوت شدہ نمازوں کی قضا سے پہلے ادا نماز پڑھ سکتا ہے اور ایسے شخص کیلئے فوت شدہ نمازوں میں بھی ترتیب ضروری نہیں ہے۔12