ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مقیم پر قربانی واجب
ہے (مسافر پر واجب نہیں) مگر حاجیوں پر قربانی واجب نہیں ہے (اس لئے کہ عموماً حاجی مسافر ہوتے
ہیں، اگر اہل مکہ جو مکہ میں مقیم ہیں وہ حج کریں تو ان پر بھی قربانی واجب ہوگی اس لئے کہ وہ مقیم
ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کی ہے۔)
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما
فرماتے ہیں کہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ عید قربانی ہوتی ہے اس دن قربانی کی جاتی ہے اس کے بعد
اور دو دن یعنی گیارہ اور بارہ تاریخ کو بھی قربانی کرسکتے ہیں (بارہ تاریخ کے سورج ڈوبنے سے قربانی
کرنے کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
(اس حدیث کی روایت امام مالک نے کی ہے اور امام مالک نے کہا ہے کہ مجھے حضرت علی بن
ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی روایت پہنچی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ قربانی کرنے کی
دن صرف تین ہیں۔ ایک تو یوم النحر یعنی عید کا دن ہے اور عید کے دن کے بعد دو دن اور یعنی
گیارہویں اور بارہویں ذی الحجہ کو بھی قربانی کرسکتے ہیں (اس طرح قربانی کرنے کے جملہ تین دن
ہوئے۔ (اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے جیّد سند کے ساتھ کی ہے۔)
اور ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ
سے اس کی روایت کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ دسویں ذی الحجہ کو قربانی
کرنے کا دن ہے اس کے بعد گیارہ اور بارہ کے غروب تک بھی قربانی کر سکتے ہیں، بارہ کے غروب
کے بعد پھر قربانی کرنے کا وقت باقی نہیں رہتا)۔ (اس حدیث کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)
Note 3
(3) The statement: "For the residents of cities, etc." This indicates that the Udhiyah is obligatory for residents but not for travelers.
Note 3
(۳) قوله: على أهل الأمصار إلخ ويستفاد منه أن الأضحية واجبة على المقيم لا تجب على المسافر.