(1) The statement: "Wash it" — The apparent meaning of the hadith about washing clothes from urine once aligns with what Al-Shafi'i said, that it becomes pure by washing once; because water is purifying, and once it is used, it purifies, just as the body is purified from ritual impurity. Our Hanafi scholars considered strong suspicion, and they determined it should be washed three times; because repetition is necessary for extraction, as mentioned in the hadith of the one who wakes up from sleep; he was commanded to wash three times for imagined impurity, so for actual impurity, it is more applicable. Furthermore, squeezing is required in every wash according to the apparent narration, as squeezing is what extracts the impurity. According to Muhammad, if you wash three times and squeeze on the third time, it becomes purified. "Al-Mirqat" and the extract are selected from both of them.
Chapter on the interaction of a person in a state of major impurity (Janabah) and what is permissible for them
And Allah's saying: "None touch it except the purified." (Al-Waqi'ah: 79)
Note 1
قوله
(۱) قوله: فاغسلوه إلخ ظاهر حديث غسل الثوب من البول مرة يوافق ما قاله الشافعي من أنه يطهر بالغسل مرة؛ لأن الماء طهور، فإذا استعمل مرَّةً يطهر ، كما يطهر البدن من النجاسة الحكمية وعلماؤنا الحنفية اعتبروا غلبة الظن، ثم قدروها بالغسل ثلاث مرات؛ لأن التكرار لا بد منه للاستخراج، كما ورد في حديث المستيقظ؛ فإنه أمر بالغسل ثلاث مرات في النجاسة الموهومة، ففي المتحققة أولى. ثم لا بد من العصر في كل مرة في ظاهر الرواية؛ فإن العصر هو المستخرج، وعن محمد: إذا غسلت ثلاثا، وعصرت في المرة الثالثة تطهر. «المرقاة»» و المستخلص ملتقط منهما.
Note 1
(اس کی روایت بزار نے کی ہے) اور تلخیص میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے اور وہ حدیث
کہ جس کی سند میں ایوب بن جابر ہیں جس میں کپڑے کو پیشاب لگ جانے پر ایک دفعہ دھونے کا ذکر
ہے ان کے ثقہ ہونے میں اختلاف ہے۔
ف: ظاہر حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کپڑے کو پیشاب لگ جانے سے ایک دفعہ دھو لینا چاہئے اور
یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے موافق ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ کپڑا ایک دفعہ دھونے سے
پاک ہو جاتا ہے، وجہ یہ ہے کہ پانی پاک کرنے والا ہے، جب پانی ایک دفعہ استعمال کر لیا جائے تو کپڑا
پاک ہو جائے گا، جس طرح بدن بھی نجاست حکمیہ سے ایک بار دھونے سے پاک ہو جاتا ہے، لیکن
ہمارے علماء حنفیہ نے کہا ہے کہ کپڑا اتنا دھویا جائے کہ گمان غالب اس کے پاک ہونے کا ہو جائے اور
گمان غالب کے حصول کی مقدار تین دفعہ دھونا بتلایا ہے، وجہ یہ ہے کہ بار بار دھونے سے نجاست خارج
ہو جاتی ہے اور اس کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ نیند سے بیدار ہونے والے کے متعلق جو حدیث وارد ہوئی
اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحت ہے کہ آپ نے نجاست موہومہ کے بارے میں تین
دفعہ دونوں ہاتھوں کو دھونے کا حکم فرمایا، لہٰذا اگر حقیقی نجاست ہو تو تین دفعہ دھونے کا حکم بطور اولیٰ ہوگا اور
ہمارے مذہب حنفی کے ظاہر الروایہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ ہر دفعہ نچوڑنا ضروری ہے، اس لئے کہ
نچوڑنے سے ہی نجاست خارج ہو جاتی ہے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے کہا
ہے کہ جب تم نے تین دفعہ دھو لیا اور تیسری دفعہ دھو کر نچوڑ لیا تو کپڑا پاک ہو جائے گا۔ (ماخوذ از:
مرقات و ملخص)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 283 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 371a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد ہے کہ مومن ناپاک نہیں ہوتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جنابت
نجاست حکمی ہے جس کا حکم شارع علیہ السلام نے دیا ہے اور غسل اس پر واجب کیا ہے، اس لئے جنابت
کی وجہ سے حقیقتاً مسلمان اور مومن نجس نہیں ہو جاتا اور اسی لئے جنبی کا پسینہ اور جھوٹا، اور اس سے مصافحہ
اور اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا وغیرہ جائز ہے۔ (لمعات)۔
حضرات احناف نے کہا ہے کہ ان احادیث سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جنبی کے لئے اس امر
میں کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ حالت جنابت میں بغیر وضوء کے کھائے اور پئے یا سو جائے، البتہ جنبی کے
لئے مستحب ہے کہ وہ وضوء کرے، جس نے وضوء کرلیا تو اچھا کیا اور جس نے وضوء نہیں کیا تو کوئی حرج
نہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 219 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ ان احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دو دفعہ جماع کرنے
کے درمیان وضو نہ کرنا اور غسل نہ کرنا جائز ہے اور افضل یہ ہے کہ دو دفعہ جماع کرنے کے درمیان میں
غسل یا وضو کرلیا جائے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 131 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حائضہ اور جنبی کے لئے قرآن کی آیت یا جزو آیت کا (تلاوت کی نیت سے) پڑھنا ناجائز
ہے کیوں کہ حدیث میں ”شَيْئًا“ کا لفظ آیا ہے البتہ معلمہ بحالت حیض قرآن کو ایک ایک کلمہ کرکے
پڑھ سکتی ہے جو اس حدیث کے حکم میں داخل نہیں ہے، البتہ ذکر یا دعا کی نیت سے اگر قرآن کی کوئی
آیت یا جزو آیت پڑھ لی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ بھی اس حدیث کے حکم میں شامل
نہیں ہوگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 330 (unverified) 46% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ تیمم شرائط تیمم کے پائے
جانے کے بغیر ہر ایسی چیز کے لئے جائز ہے جس کے لئے وضو شرط نہیں ہے اگرچیکہ پانی موجود ہے
اور پانی کے استعمال کے لئے کوئی عذر نہیں ہے لیکن ایسی چیز جس کے لئے وضو شرط ہے تو تیمم شرائط تیمم
پائے جانے کے بغیر جائز نہیں ہوگا مثلاً قرآن پڑھنے کے لئے تیمم کرنا کہ اس کے لئے وضو شرط نہیں
ہے تو قرآن پڑھنے کے لئے شرائط تیمم پائے جانے کے بغیر تیمم کر سکتا ہے لیکن جنبی ہے یا قرآن کو ہاتھ
لگانا مقصود ہے تو ان صورتوں میں تیمم ایسی حالت میں جائز ہوگا کہ تیمم کے شرائط پائے جاتے ہوں ورنہ
پانی کی موجودگی میں جنبی کے لئے غسل اور مسِّ قرآن کے لئے وضو کرنا ضروری ہوگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 82 (unverified) 96% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 64 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 373 (unverified) 82% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں عورت کے بچائے ہوئے پانی سے وضوء یا غسل کی ممانعت ثابت ہو رہی
ہے اور اس کے بعد والی حدیث (نمبر:25/591) جس کے راوی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں
اور جس کو شرح السنہ میں آپ نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اس سے بظاہر عورت
کے بچائے ہوئے پانی سے وضوء یا غسل کا جواز معلوم ہوتا ہے تو یہ بات واضح رہے کہ اس حدیث میں جو
ممانعت مذکور ہے وہ تنزیہی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بعد میں آنے والی حدیث میں جو اجازت
وارد ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ”كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّؤُونَ جَمِيعًا“ (مرد اور عورتیں ایک
ساتھ مل کر وضو کیا کرتے تھے) جو مذکور ہے اس زمانے کا عمل ہے جبکہ پردے کے احکام نازل نہیں
ہوئے تھے اور جب پردے کے احکام نازل ہو چکے تو یہ عمل شوہر اور بی بی کے ساتھ مختص ہو گیا۔ (التعلیق
الممجد، فتح الباری۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 232 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیث سے جس کے راوی جابر رضی اللہ عنہ ہیں، یہ ثابت
ہوتا ہے کہ حائضہ اور جنبی مسجد میں داخل ہو کر نہ تو بیٹھ سکتے ہیں اور نہ مسجد سے گزر سکتے ہیں۔ مسجد میں
سے گزر جانا یا مسجد میں داخل ہو کر بیٹھنا دونوں برابر ہیں، اس وجہ سے کہ دخولِ مسجد کی ممانعت جنابت یا
حیض کی وجہ سے ہے اور گزرنے والا اسی حالت میں گزر رہا ہے تو اس حالت کے باقی رہتے ہوئے مسجد
میں سے گزر جانا یقیناً بیٹھنے کے مساوی ہوگا، اسی وجہ سے احناف کے پاس حائضہ اور جنبی دونوں کے
لئے مسجد میں بیٹھنا اور گزر جانا دونوں باتیں ناجائز ہیں، لیکن امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس حائضہ اور
جنبی مسجد میں بیٹھ نہیں سکتے مگر گزر سکتے ہیں، اور اسی لئے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے آیت ”وَلَا جُنُبًا
إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ“ میں ”عَابِرِي سَبِيلٍ“ کے معنی گزرنے والے کے مراد لئے ہیں، حالانکہ ”
عَابِرِي سَبِيلٍ“ کے معنی مسافر کے ہیں، چنانچہ اس کی تفسیر میں حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ
عنہم سے مسافر ہی منقول ہے اور ”عابری سبیل“ سے مسافر مراد لینے کی دلیل کی یہ حدیث بھی ہے
جس سے جنبی اور حائضہ کو مرورِ مسجد کی اجازت ثابت نہیں ہو رہی ہے۔
ف: آیت ”وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ“، کا ترجمہ یہ ہے (اسی طرح نہانے کی حاجت ہو
تو نماز کے پاس نہ جانا، یہاں تک کہ غسل کرلو، ہاں سفر کی حالت میں راستہ جا رہے ہو اور پانی نہ ملے تو
تیمم کر کے نماز پڑھ لو۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث میں فرشتوں سے رحمت اور برکت لانے والے فرشتے اور وہ فرشتے مراد
ہیں جو ذکر سننے کے لئے اترتے ہیں کہ یہ فرشتے ان صورتوں میں گھر میں داخل نہیں ہوتے۔
ف(2): جنبی سے وہ جنبی مراد ہیں جن کو غسل نہ کرنے کی عادت ہوا کرتی ہے اور وہ جنبی بھی
مراد ہے جو غسل کرنے میں اتنی دیر کر دے کہ نماز کا وقت گزر جائے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Wash it" — The apparent meaning of the hadith about washing clothes from urine once aligns with what Al-Shafi'i said, that it becomes pure by washing once; because water is purifying, and once it is used, it purifies, just as the body is purified from ritual impurity. Our Hanafi scholars considered strong suspicion, and they determined it should be washed three times; because repetition is necessary for extraction, as mentioned in the hadith of the one who wakes up from sleep; he was commanded to wash three times for imagined impurity, so for actual impurity, it is more applicable. Furthermore, squeezing is required in every wash according to the apparent narration, as squeezing is what extracts the impurity. According to Muhammad, if you wash three times and squeeze on the third time, it becomes purified. "Al-Mirqat" and the extract are selected from both of them. Chapter on the interaction of a person in a state of major impurity (Janabah) and what is permissible for them And Allah's saying: "None touch it except the purified." (Al-Waqi'ah: 79)
Note 1
(۱) قوله: فاغسلوه إلخ ظاهر حديث غسل الثوب من البول مرة يوافق ما قاله الشافعي من أنه يطهر بالغسل مرة؛ لأن الماء طهور، فإذا استعمل مرَّةً يطهر ، كما يطهر البدن من النجاسة الحكمية وعلماؤنا الحنفية اعتبروا غلبة الظن، ثم قدروها بالغسل ثلاث مرات؛ لأن التكرار لا بد منه للاستخراج، كما ورد في حديث المستيقظ؛ فإنه أمر بالغسل ثلاث مرات في النجاسة الموهومة، ففي المتحققة أولى. ثم لا بد من العصر في كل مرة في ظاهر الرواية؛ فإن العصر هو المستخرج، وعن محمد: إذا غسلت ثلاثا، وعصرت في المرة الثالثة تطهر. «المرقاة»» و المستخلص ملتقط منهما.
Note 1
(اس کی روایت بزار نے کی ہے) اور تلخیص میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے اور وہ حدیث کہ جس کی سند میں ایوب بن جابر ہیں جس میں کپڑے کو پیشاب لگ جانے پر ایک دفعہ دھونے کا ذکر ہے ان کے ثقہ ہونے میں اختلاف ہے۔ ف: ظاہر حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کپڑے کو پیشاب لگ جانے سے ایک دفعہ دھو لینا چاہئے اور یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے موافق ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ کپڑا ایک دفعہ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے، وجہ یہ ہے کہ پانی پاک کرنے والا ہے، جب پانی ایک دفعہ استعمال کر لیا جائے تو کپڑا پاک ہو جائے گا، جس طرح بدن بھی نجاست حکمیہ سے ایک بار دھونے سے پاک ہو جاتا ہے، لیکن ہمارے علماء حنفیہ نے کہا ہے کہ کپڑا اتنا دھویا جائے کہ گمان غالب اس کے پاک ہونے کا ہو جائے اور گمان غالب کے حصول کی مقدار تین دفعہ دھونا بتلایا ہے، وجہ یہ ہے کہ بار بار دھونے سے نجاست خارج ہو جاتی ہے اور اس کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ نیند سے بیدار ہونے والے کے متعلق جو حدیث وارد ہوئی اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحت ہے کہ آپ نے نجاست موہومہ کے بارے میں تین دفعہ دونوں ہاتھوں کو دھونے کا حکم فرمایا، لہٰذا اگر حقیقی نجاست ہو تو تین دفعہ دھونے کا حکم بطور اولیٰ ہوگا اور ہمارے مذہب حنفی کے ظاہر الروایہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ ہر دفعہ نچوڑنا ضروری ہے، اس لئے کہ نچوڑنے سے ہی نجاست خارج ہو جاتی ہے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ جب تم نے تین دفعہ دھو لیا اور تیسری دفعہ دھو کر نچوڑ لیا تو کپڑا پاک ہو جائے گا۔ (ماخوذ از: مرقات و ملخص)۔