انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے شراب (کے کاروبار) کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت بھیجی ہے (پھلوں جیسے
انگور سے)(1)اس کا نچوڑنے والا،(2)اس کا نچوڑوانے والا،(3)اس کا پینے والا،(4)اس کو اٹھا
کر لے جانے والا،(5)اس شخص پر جس کیلئے شراب لے جائی جا رہی ہو،(6)اس کا پلانے
والا،(7) اس کا بیچنے والا،(8) اس کی قیمت کھانے والا (اس کی آمدنی کو استعمال کرنے
والا)،(9)شراب کا خریدنے والا (بطور دلال کے اگرچہ کہ وہ خود نہیں پیتا ہو)اور(10)وہ شخص
جس کیلئے شراب خریدی گئی ہو(اس سے معلوم ہوا کہ شراب سے متعلق جتنے کاروبار ہیں وہ سب
قابل لعنت ہیں)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1295 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3381 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Its carrier
(1) "Its carrier" - Abu Hanifa uniquely holds that wages for transporting wine are permissible if not intended for consumption. The hadith refers to those involved in facilitating drinking. [Al-'Urf ash-Shadhi]
Note 1
قوله
(۱) قوله: وحاملها : قال أبو حنيفة: إن الأجرة على نقل الخمر وحمله طيبة خلاف صاحبيه، وأشار في «الهداية» ص (۱۲۳) إلى الجواب من جانب أبي حنيفة، والحديث محمول على المقرون بالقصد إلخ، أي قصد الشرب. كذا في العرف الشذي».
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
شراب پر لعنت فرمائی ہے (اس لئے کہ وہ ام الخبائث یعنی ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ اور اسی طرح
شراب کے پینے والے اور پلانے والے،اس کے بیچنے، والے،اس کے خریدنے والے،اس کے
نچوڑنے والے،اس کے نچوڑوانے والے،اس کے اٹھانے والے اور اس شخص پر جس کیلئے شراب
لے جائی جا رہی ہو لعنت فرمائی ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد
فرماتے ہیں کہ گانے والی لونڈیوں کو نہ تو بیچو اور نہ خریدو اور نہ ان کو گانا سکھاؤ اور ان کی قیمت (کا
استعمال (بھی) حرام ہے اور ایسی ہی چیزوں کے بارے میں، یہ آیت نازل ہوئی ہے: ”وَمِنَ
نمبر:6) ”لوگوں میں بعض ایسے ہیں جو لہو ولعب کی (یعنی کھیل تماشے) اور گانے کی چیزوں کو
خریدتے ہیں“۔
اس کی روایت امام احمد ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے گانے والی باندیوں کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1282 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 2168 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Do not sell female singers
(1) "Do not sell female singers" - The prohibition applies specifically to transactions for musical purposes. Most scholars permit their sale otherwise, considering the hadith weak. The prohibition targets earnings from sinful activities, like selling grapes for wine. [Al-Mirqat]
(2) "Their earnings are unlawful" - Only payments directly for singing are forbidden, not general transactions unrelated to music. [Al-Kawkab ad-Durri]
Note 1
قوله
(۱)قوله: لا تبيعوا القينات إلخ قال القاضي: النهي مقصور على البيع والشراء لأجل التغني، وحرمة ثمنها دليل على فسادبيعها، والجمهور صححوا بيعها، والحديث مع ما فيه من الضعف للطعن في روايته مؤول بأن أخذا الثمن عليهن حرام، كأخذ ثمن العنب من النباذ؛ لأنه إعانة وتوسل إلى حصول محرم، لا لأن البيع غير صحيح. قاله في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: ثمنهن حرام أي ما كان منه على غنائها، فإن المأخذ منه منظور إليه في الحكم على المشتق، ولا يحرم الثمن إذا باعها من غير نظر إلى وصف غنائها. كذا في الكوكب الدري».
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) "Its carrier" - Abu Hanifa uniquely holds that wages for transporting wine are permissible if not intended for consumption. The hadith refers to those involved in facilitating drinking. [Al-'Urf ash-Shadhi]
Note 1
(۱) قوله: وحاملها : قال أبو حنيفة: إن الأجرة على نقل الخمر وحمله طيبة خلاف صاحبيه، وأشار في «الهداية» ص (۱۲۳) إلى الجواب من جانب أبي حنيفة، والحديث محمول على المقرون بالقصد إلخ، أي قصد الشرب. كذا في العرف الشذي».