Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 3892 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3431 (unverified) 97% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3432 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ بلاء عام ہے خواہ بدنی ہو جیسے برص، جذام اور اندھا پن وغیرہ خواہ بلائے
دنیاوی ہو جیسے مال اور جاہ کا حصول وغیرہ اور خواہ بلائے دینی ہو جیسے فسق، ظلم، بدعت اور کفر وغیرہ مختصر
یہ کہ ہر قسم کے مبتلائے بلاء کو دیکھ کر یہ دعاء پڑھنا چاہئے البتہ علماء نے کہا ہے کہ جو کوئی بیمار کو دیکھے تو
آہستہ سے یہ دعاء پڑھے تاکہ وہ آزردہ نہ ہو اور اگر گناہ گار کو دیکھے تو پکار کر پڑھے تاکہ اس کو عبرت ہو
اگر پکار کر پڑھنے میں فساد کا اندیشہ ہو تو ایسے موقع پر بھی آہستہ سے دعاء پڑھے۔ (حاشیہ مشکاۃ12)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3429 (unverified) 94% confidence
Mishkat (candidate) 2431
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور شرح السنہ میں ”مَنْ دَخَلَ السُّوقَ“ کے بجائے ”مَنْ قَالَ فِي سُوقٍ جَامِعٍ يُبَاعُ فِيهِ
(یعنی جو اس کلمہ کو مصدر بازار میں پڑھے جہاں بڑے پیمانہ پر خرید و فروخت ہوتی ہے) مروی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3527 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
so rather ask Him for well-being
(1) The statement "so rather ask Him for well-being" applies before trials occur. After trials begin, there is no prohibition in asking for patience - rather it is recommended, as in Allah's saying: "Pour upon us patience" (Quran 2:250). As mentioned in Al-Maraqi.
Note 1
قوله فاسأله العافية محل هذا إنما هو قبل وقوع البلاء، وما بعده فلا منع من سؤال الصبر، بل مستحب؛ لقوله تعالى
(۱) قوله فاسأله العافية محل هذا إنما هو قبل وقوع البلاء، وما بعده فلا منع من سؤال الصبر، بل مستحب؛ لقوله تعالى: ﴿أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا﴾ (البقرة: ٢٥٠). قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: حدیث شریف میں یہ مذکور ہے کہ ایک شخص دنیا کو نعمتِ تام سمجھ کر اس کے حصول کی دعاء
مانگ رہا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی نعمت فانی ہے اور نعمت تام کی حقیقت تو
دخولِ جنت اور دوزخ سے نجات ہے۔ اور دوسرے شخص نے صبر مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عافیت مانگ اس لئے کہ صبر تو بلاء کے بعد مانگنا چاہئے اور بلاء سے پہلے عافیت مانگنی چاہئے۔
مرقات 12
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
then he should greet his family
(1) The statement "then he should greet his family" - In Fusul al-'Alami: "When entering upon his family, he should greet them first before speaking." As mentioned in Radd al-Muhtar. And in Al-'Alamgiriyyah: "When a man enters his house, he should greet his family. If no one is present, he should say: 'Peace be upon us and upon the righteous servants of Allah.' As in Al-Muhit."
Note 1
قوله
(۱) قوله: ثم ليسلم على أهله وفي فصول العلامي: وإن دخل على أهله يُسلّم أولا ثم يتكلم. قاله في رد المحتار». وقال في العالمگيرية»: إذا دخل الرجل في بيته يُسلّم على أهل بيته، وإن لم يكن في البيت أحد يقول: السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين. كذا في المحيط».
Note 1
ف: واضح ہو کہ جب انسان اپنے گھر میں داخل ہو تو گھر والوں پر پہلے سلام کرے پھر بات
کرے اور اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو یوں کہے:۔
”السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ۔
ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں یعنی فرشتوں پر سلام ہے۔ (رد المحتار اور عالمگیریہ 12)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ بلاء عام ہے خواہ بدنی ہو جیسے برص، جذام اور اندھا پن وغیرہ خواہ بلائے دنیاوی ہو جیسے مال اور جاہ کا حصول وغیرہ اور خواہ بلائے دینی ہو جیسے فسق، ظلم، بدعت اور کفر وغیرہ مختصر یہ کہ ہر قسم کے مبتلائے بلاء کو دیکھ کر یہ دعاء پڑھنا چاہئے البتہ علماء نے کہا ہے کہ جو کوئی بیمار کو دیکھے تو آہستہ سے یہ دعاء پڑھے تاکہ وہ آزردہ نہ ہو اور اگر گناہ گار کو دیکھے تو پکار کر پڑھے تاکہ اس کو عبرت ہو اگر پکار کر پڑھنے میں فساد کا اندیشہ ہو تو ایسے موقع پر بھی آہستہ سے دعاء پڑھے۔ (حاشیہ مشکاۃ12)