العربية
Typed, pending editorial approval
۱۱۳۳ - وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْهِنْدِيَّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: اخْرُجْ فَنَادِ فِي الْمَدِينَةِ : أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقُرْآنٍ وَلَوْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَسَكَتَ عَنْهُ.
وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ مَشْهُورُوْنَ إِلَّا جَعْفَرَ بْنَ مَيْمُونٍ، فَقَدْ وَثَقَهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ شَاهِيْنَ فِي الثَّقَاتِ وَالْحَدِيثُ صَرِيحُ فِي الدَّلَالَةِ عَلَى عَدْمٍ رُكْنِيَّةِ الفَاتِحَةِ؛ فَإِنَّ لَفْظَةَ وَلَوْ الْمُتَّصِلَةِ يُشِيرُ إِلَى عَدَمٍ تَخْصِيْصِ الْفَاتِحَةِ وَيُؤْمِي إِلَى تَعْمِيمِ الْقِرَاءَةِ لَهَا وَلِغَيْرِهَا، لِذَلِكَ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ بِوُجُوْبِهَا . 1
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 820 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Therefore, Abu Hanifah ruled it as obligatory" refers to the recitation in prayer. As for Malik, Al-Shafi’i, and Ahmad, they held that Al-Fatihah is a pillar (rukn). The Hadith of ‘Ubadah ibn al-Samit and the narration of Ziyad ibn Ayyub were addressed by explaining that ‘Ubadah’s Hadith refers to negating excellence (not validity), similar to the statement: "There is no prayer for the neighbor of a mosque except in the mosque." As for Ziyad’s narration, it is considered anomalous (shadh) because others narrated: "There is no prayer for one who does not recite," suggesting Ziyad added wording or paraphrased. This is taken from Sharh Al-Nuqayah.
Note 1
(۱) قوله: لذلك قال أبو حنيفة بوجوبها وأما مالك والشافعي وأحمد فقالوا: هي ركن الحديث عبادة بن الصامت وحديث زياد بن أيوب أجيب عن حديث عبادة بأن المراد به نفي الفضيلة بنحو لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد. وأما الجواب عن رواية زياد فبأنها شاذة؛ إذ رواية غيره: لا صلاة لمن لم يقرأ»، وكأن زيادا زاد في المبنى وروي بالمعنى، أخذته من شرح النقاية».
Note 1
ف: یہ حدیث صراحت کے ساتھ اس بات پر دلیل ہے کہ سورہ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں فرض نہیں ہے کیونکہ حدیث میں لفظ ”وَلَوْ“ (اگرچہ) جو مذکور ہے اس سے نماز میں خصوصیت کے ساتھ سورہ فاتحہ کا پڑھنا ہی معلوم نہیں ہوتا کہ جس سے نماز میں قرآت فاتحہ کی فرضیت ثابت کی جا سکے بلکہ لفظ ”وَلَوْ“ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی قرآت فرض ہے مگر قرآن کے کسی خاص حصہ کی قرآت فرض نہیں ہے اس لئے قرآن میں سے جس چیز کو پڑھ لیا جائے اس سے قرآت کی فرضیت ادا ہو جاتی ہے خواہ وہ سورہ فاتحہ ہو یا کوئی اور سورہ اس لئے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کی قرآت فرض نہیں ہے بلکہ واجب ہے البتہ سورہ فاتحہ کی قرآت نماز میں دیگر ائمہ کے پاس فرض ہے اور یہ حضرات سورہ فاتحہ کی فرضیت پر جن حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں، ان میں ایک حدیث یہ ہے: ”عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“۔ اس حدیث سے یہ حضرات ثابت کرتے ہیں کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوسکتی حالانکہ مراد اس سے فضیلت کی نفی ہے یعنی سورہ فاتحہ کا پڑھنا افضل ہے، یہ مراد نہیں کہ فاتحہ کے بغیر نماز درست ہی نہیں، اگر نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے تو وہ نماز ناقص اور غیر افضل ہوگی، کیونکہ نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اس کی نظیر ”لَا صَلٰوةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ“ والی حدیث ہے کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے بغیر صحیح نہیں ہوتی، حالانکہ سب ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز گھر میں ادا ہوجاتی ہے البتہ ناقص اور غیر افضل ہوتی ہے تو پھر ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ سے کس طرح استدلال کیا جاسکتا ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے تو نماز صحیح نہیں ہوتی جبکہ دونوں حدیثیں ایک دوسرے کی نظیر ہیں، اسی طرح ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ سے نماز میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کو فرض قرار دینا درست نہیں ہے۔ دوسری حدیث جس سے دیگر ائمہ نے نماز میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کو فرض قرار دیا ہے زیاد بن ایوب رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے ”لَا تُجْزِئُ صَلٰوةٌ لَا يَقْرَءُ الرَّجُلُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“۔ اس حدیث سے ان حضرات نے استدلال کیا ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی، حالانکہ زیاد بن ایوب کی یہ حدیث شاذ ہے۔ صاحب تنقیح نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں ”لا تجزئ“ کے جو الفاظ زائد ہیں وہ زیاد بن ایوب رضی اللہ عنہ کا انفراد ہے کہ یہ الفاظ صرف انہی سے مروی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ زیاد بن ایوب کی سند عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے اور زیاد کے سوا ایک جماعت نے بھی عبادہ ابن صامت رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے جس کے الفاظ متفقہ طور پر صرف یہ ہیں ”لَا صَلٰوةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَءْ“ یعنی بغیر قرأت قرآن کے نماز صحیح نہیں، گویا اس حدیث سے نماز میں مطلق قرأت قرآن کے فرض ہونے کا ثبوت ملتا ہے جس سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف زیاد بن ایوب کی حدیث بالمعنی ہے کہ عبادہ ابن صامت کے واسطہ سے ان کو جو حدیث ملی ہے اس کو انہوں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی حدیث کے الفاظ ان الفاظ سے جدا ہیں جن کی روایت ایک جماعت نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اسی لئے زیاد بن ایوب کی حدیث ایک جماعت کی حدیث کے مقابلہ میں ان کی منفرد اور تنہا ہونے کی وجہ سے ”قابل استناد“ نہیں اور اسی بناء پر زیاد بن ایوب کی روایت شاذہ سے نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کو فرض قرار دینا درست نہیں ہے۔ (یہ مضمون شرح نقایہ اور التعلیق المغنی شرح سنن اور دارقطنی سے ماخوذ ہے۔)