And the saying of Allah, the Almighty: "So when you recite the Qur’an, seek refuge with Allah from Satan, the expelled." (Quran 16:98). Allah, the Almighty, said: "And when the Qur’an is recited, listen to it and pay attention so that you may receive mercy." (Quran 7:204).
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح رہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت ”وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ
وَأَنْصِتُوا ...... الخ“ کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب امام نماز میں قرآت جہر سے کرے تو مقتدی اس کو
کان لگا کر سنے اور جب امام قرآن آہستہ پڑھے تو وہ چپ رہے، چنانچہ مدارک نے اس آیت کی تفسیر
جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس طرح کی ہے: ”وجمهور الصحابة رضى الله عنهم على انه
فى استماع المؤتم“۔
جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں جو حکم مذکور ہے وہ مقتدی سے
متعلق ہے کہ وہ نماز میں امام کے پیچھے قرآت نہ کرے۔
ف: واضح رہے کہ مذکورہ بالا حدیثیں قرأت خلف الامام کی ممانعت پر ہی دلالت کرتی ہیں امام
ابن الہمام اور دیگر فقہاء رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ نماز میں مقتدی کو قرأت کے متعلق دو حکم دئیے گئے ہیں
(1) ایک استماع یعنی کان لگا کر سننا اور (2) دوسرے انصات یعنی چپ رہنا، پہلا حکم استماع یعنی امام
کی قرأت کو کان لگا کر سننا جہری نمازوں سے متعلق ہے، اور دوسرا حکم یعنی انصات یعنی چپ رہنا سری
نمازوں سے متعلق ہے۔
اب آیت کے معنی سنئے: ”(وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ) اِنْ جُهِرَ بِهِ“ (اگر
قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو جبکہ جہر سے پڑھا جا رہا ہو) ”( وَأَنْصِتُوا) وَاسْكُتُوا اِنْ
أُسِرَّ بِهِ“ اور چپ رہو اور خاموشی اختیار کرو اگر قرآن آہستہ پڑھا جا رہا ہو۔ (امام ابن ہمام کی عبارت
یہاں ختم ہوئی۔)
ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے ”استذکار“ اور ”تمہید“ میں کہا ہے کہ آیت ”فَاسْتَمِعُوا لَهُ
وَأَنْصِتُوا“ پر عمل کرتے ہوئے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور آپ کے شاگردوں نے قرأت خلف
الامام کے بارے میں جو مذہب اختیار کیا ہے وہ یہی ہے کہ مقتدی جہری نمازوں میں قرأت کو کان لگا کر
سنے اور سری نمازوں میں چپ رہے اور خود کچھ نہ پڑھے چنانچہ جابر بن عبداللہ زید بن ثابت اور حضرت
علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہم، کا بھی یہی قول ہے، اور حضرت عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود رضی
اللہ عنہما سے جو ارجح روایت آئی ہے وہ بھی یہی ہے نیز سفیان ثوری اور سفیان بن عیینہ اور ابن ابی لیلیٰ
اور حسن بن صالح بن حی اور ابراہیم نخعی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم کے جملہ شاگرد اور ان سب کے
سوا جن میں مشہور صحابہ اور تابعین ہیں وہ سب قرأت خلف الامام کی ممانعت کے قائل ہیں کہ مقتدی جہری
نمازوں میں صرف قرأت سنے اور سری نمازوں میں چپ رہے۔ (یہاں ابن عبدالبر کا مضمون ختم ہوا۔)
علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ترک قرأت خلف الامام کی ممانعت اسّی (80) جلیل القدر صحابہ سے
مروی ہے جن میں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس رضی
اللہ عنہم ہیں اور ان (80) صحابہ کے اسماء محدثین کے پاس محفوظ ہیں اور منقول ہے کہ قرأت خلف الامام
کی ممانعت کے متعلق اس زمانہ میں فتویٰ دینے والوں کی تعداد (80) سے زائد تھی اور ان سب حضرات
کا قرأت خلف الامام کی ممانعت پر اتفاق کر لینا اجماع کی طرح ہے اور شیخ امام عبداللہ بن یعقوب حارثی
اسبذمونی نے ”کتاب کشف الاسرار“ میں عبداللہ بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے وہ اپنے
والد زید سے روایت کرتے ہیں کہ زید بن اسلم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
صحابہ میں دس صحابہ قرأت خلف الامام کی سخت ممانعت فرماتے تھے وہ دس صحابہ یہ ہیں: (1) حضرت
ابوبکر صدیق، (2) حضرت عمر ابن خطاب، (3) حضرت عثمان بن عفان، (4) حضرت علی ابن ابی
طالب، (5) عبدالرحمن بن عوف، (6) سعد بن ابی وقاص، (7) عبداللہ بن مسعود، (8) زید ابن ثابت
اور (9) عبداللہ بن عمر (10) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم۔ (یہاں علامہ عینی کی عبارت ختم ہوئی۔)
توضیحات مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ مقتدی کے لئے قرأت خلف الامام کی ممانعت ہے
جیسا کہ آیت ”وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ سے واضح ہوتا ہے کہ امام جب آواز
سے قرأت کرے تو مقتدی اس کو سنے اور امام جب آہستہ قرأت کرے تو مقتدی خاموش رہے۔
یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کے حکم کو صرف جہری نمازوں سے متعلق کیا جا سکتا
ہے نہ کہ سری نمازوں میں مقتدی کو امام کی قرأت سننے کا موقع ہی نہیں ہے اس لئے کہ آیت
میں ”أَنْصِتُوا“ کا کلمہ ”اسْتَمِعُوا لَهُ“ کی تاکید کے لئے ہے کہ دونوں کلموں سے ایک ہی حکم نکل
رہا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مقتدی امام کی قرأت کو خاموش رہ کر سنے۔
ہمارے فقہاء رحمہم اللہ نے اس شبہ کا یہ جواب دیا ہے کہ آیت (وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا
لَهُ وَأَنْصِتُوا) کو صرف جہری نمازوں کے ساتھ ہی مخصوص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اس لئے کہ آیت ”
فَاسْتَمِعُوا لَهُ“ اور ”أَنْصِتُوا“ دو مستقل کلمے ہیں۔
دوسرا کلمہ پہلے کلمہ کی تاکید کے لئے نہیں ہے جیسا کہ شبہ میں کہا گیا ہے بلکہ دوسرا کلمہ یعنی
”أَنْصِتُوا“، تخصیص (اصل قرآن) کے لئے ہے کہ پہلے کلمہ سے علیحدہ حکم نکلتا ہے اور دوسرے کلمہ سے
علیحدہ حکم اور اصولیین کے قاعدے کے مطابق تخصیص تاکید سے افضل ہے، اس لحاظ سے آیت ”
فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ سے مقتدی کو دو مستقل حکم دیئے گئے ہیں ایک استماع یعنی کان لگا کر سننا اور
دوسرا انصات یعنی چپ رہنا، پہلا حکم استماع یعنی امام کی قرأت کو کان لگا کر سننا جہری نمازوں سے متعلق
ہوگا اور دوسرا حکم انصات یعنی چپ رہنا، سرّی نمازوں سے متعلق رہے گا اور یہی حنفی مذہب ہے۔
مذہب حنفی کی تائید پر ذیل کی یہ حدیثیں دلالت کرتی ہیں:۔
(1) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ امام کی قرأت تمہارے لئے کافی ہے، خواہ امام (سرّی نماز میں) آہستہ قرأت کرے یا (جہری
نماز میں) آواز سے قرأت کرے۔
(2) علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قرأت نہیں
کرتے تھے خواہ امام جہر سے قرأت کر رہا ہو، یا آہستہ، نہ تو پہلی دو رکعتوں میں قرأت کرتے تھے اور نہ
آخری دو رکعتوں میں۔
(3) ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ
مقتدی امام کے پیچھے قرأت نہ کرے، خواہ نماز جہری ہو یا سرّی۔
بنایہ میں مذکور ہے کہ مقتدی امام کے پیچھے قرأت نہ کرے خواہ امام جہر سے قرأت کرے یا
آہستہ، چنانچہ ابن المسیب، عروۃ بن زبیر، سعید بن جبیر، زہری، شعبی، ثوری، نخعی، اسود، ابن ابی لیلی رضی
اللہ عنہم اسی کے قائل ہیں، نیز ابن وہب اشہب، ابن عبدالحکم ابن حبیب رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ مقتدی
سرّی نمازوں اور جہری نمازوں دونوں میں قرأت نہ کرے۔
(یہ مضمون سعایہ سے ماخوذ ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 396a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
There is no prayer without recitation
(1) The statement: "There is no prayer without recitation" clearly indicates that prayer is not valid without recitation. Since the obligation of recitation is established by the Quran, the statement is understood to negate the validity of prayer without it. This is mentioned in I’la al-Sunan.
Note 1
قوله
(۱) قوله: لا صلاة إلا بقراءة دلالته على أن الصلاة لا تصح إلا بالقراءة ظاهرة؛ لأن مطلق القراءة فرض ثابت بالكتاب، فقوله: لا صلاة إلخ) محمول على نفي الصحة، قاله في تعليق إعلاء السنن».
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں مطلق قرأت فرض ہے، سورہ فاتحہ کی قرأت فرض
نہیں ہے بلکہ قرآن میں سے جو کچھ (سورہ یا آیت) ہو سکے پڑھ لینے سے قرأت کی فرضیت ادا ہو جاتی
ہے اور یہی مذہب حنفی ہے اس کی تائید قرآن کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔
”فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ (سورہ مزمل، پ:29، ع:2، آیت نمبر:20)(تم
لوگ نماز میں) قرآن سے جو کچھ ہو سکے پڑھ لیا کرو۔ (عمدۃ الرعایۃ وفتح القدیر)12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 820 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Therefore, Abu Hanifah ruled it as obligatory
(1) The statement: "Therefore, Abu Hanifah ruled it as obligatory" refers to the recitation in prayer. As for Malik, Al-Shafi’i, and Ahmad, they held that Al-Fatihah is a pillar (rukn). The Hadith of ‘Ubadah ibn al-Samit and the narration of Ziyad ibn Ayyub were addressed by explaining that ‘Ubadah’s Hadith refers to negating excellence (not validity), similar to the statement: "There is no prayer for the neighbor of a mosque except in the mosque." As for Ziyad’s narration, it is considered anomalous (shadh) because others narrated: "There is no prayer for one who does not recite," suggesting Ziyad added wording or paraphrased. This is taken from Sharh Al-Nuqayah.
Note 1
قوله
(۱) قوله: لذلك قال أبو حنيفة بوجوبها وأما مالك والشافعي وأحمد فقالوا: هي ركن الحديث عبادة بن الصامت وحديث زياد بن أيوب أجيب عن حديث عبادة بأن المراد به نفي الفضيلة بنحو لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد. وأما الجواب عن رواية زياد فبأنها شاذة؛ إذ رواية غيره: لا صلاة لمن لم يقرأ»، وكأن زيادا زاد في المبنى وروي بالمعنى، أخذته من شرح النقاية».
Note 1
ف: یہ حدیث صراحت کے ساتھ اس بات پر دلیل ہے کہ سورہ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں فرض نہیں
ہے کیونکہ حدیث میں لفظ ”وَلَوْ“ (اگرچہ) جو مذکور ہے اس سے نماز میں خصوصیت کے ساتھ سورہ فاتحہ
کا پڑھنا ہی معلوم نہیں ہوتا کہ جس سے نماز میں قرآت فاتحہ کی فرضیت ثابت کی جا سکے بلکہ لفظ ”وَلَوْ“
سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی قرآت فرض ہے مگر قرآن کے کسی خاص حصہ کی قرآت فرض نہیں ہے
اس لئے قرآن میں سے جس چیز کو پڑھ لیا جائے اس سے قرآت کی فرضیت ادا ہو جاتی ہے خواہ وہ سورہ
فاتحہ ہو یا کوئی اور سورہ اس لئے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کی قرآت فرض نہیں ہے
بلکہ واجب ہے البتہ سورہ فاتحہ کی قرآت نماز میں دیگر ائمہ کے پاس فرض ہے اور یہ حضرات سورہ فاتحہ کی
فرضیت پر جن حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں، ان میں ایک حدیث یہ ہے:
”عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ: لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“۔
اس حدیث سے یہ حضرات ثابت کرتے ہیں کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوسکتی حالانکہ
مراد اس سے فضیلت کی نفی ہے یعنی سورہ فاتحہ کا پڑھنا افضل ہے، یہ مراد نہیں کہ فاتحہ کے بغیر نماز درست
ہی نہیں، اگر نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے تو وہ نماز ناقص اور غیر افضل ہوگی، کیونکہ نماز میں سورہ فاتحہ
کا پڑھنا واجب ہے اس کی نظیر ”لَا صَلٰوةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ“ والی حدیث ہے کہ
مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے بغیر صحیح نہیں ہوتی، حالانکہ سب ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسجد کے
پڑوسی کی نماز گھر میں ادا ہوجاتی ہے البتہ ناقص اور غیر افضل ہوتی ہے تو پھر ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ
الْكِتَابِ“ سے کس طرح استدلال کیا جاسکتا ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے تو نماز صحیح نہیں ہوتی
جبکہ دونوں حدیثیں ایک دوسرے کی نظیر ہیں، اسی طرح ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ سے
نماز میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کو فرض قرار دینا درست نہیں ہے۔
دوسری حدیث جس سے دیگر ائمہ نے نماز میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کو فرض قرار دیا ہے زیاد بن
ایوب رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے ”لَا تُجْزِئُ صَلٰوةٌ لَا يَقْرَءُ الرَّجُلُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ
الْكِتَابِ“۔
اس حدیث سے ان حضرات نے استدلال کیا ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی،
حالانکہ زیاد بن ایوب کی یہ حدیث شاذ ہے۔
صاحب تنقیح نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں ”لا تجزئ“ کے جو الفاظ زائد ہیں وہ زیاد بن
ایوب رضی اللہ عنہ کا انفراد ہے کہ یہ الفاظ صرف انہی سے مروی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ زیاد بن ایوب کی
سند عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے اور زیاد کے سوا ایک جماعت نے بھی عبادہ ابن صامت
رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے جس کے الفاظ متفقہ طور پر صرف یہ ہیں ”لَا صَلٰوةَ لِمَنْ لَمْ
يَقْرَءْ“ یعنی بغیر قرأت قرآن کے نماز صحیح نہیں، گویا اس حدیث سے نماز میں مطلق قرأت قرآن کے
فرض ہونے کا ثبوت ملتا ہے جس سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے۔
اس کے برخلاف زیاد بن ایوب کی حدیث بالمعنی ہے کہ عبادہ ابن صامت کے واسطہ سے ان کو
جو حدیث ملی ہے اس کو انہوں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی حدیث کے الفاظ
ان الفاظ سے جدا ہیں جن کی روایت ایک جماعت نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اسی لئے زیاد بن ایوب کی
حدیث ایک جماعت کی حدیث کے مقابلہ میں ان کی منفرد اور تنہا ہونے کی وجہ سے ”قابل استناد“ نہیں
اور اسی بناء پر زیاد بن ایوب کی روایت شاذہ سے نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کو فرض قرار دینا درست نہیں ہے۔
(یہ مضمون شرح نقایہ اور التعلیق المغنی شرح سنن اور دارقطنی سے ماخوذ ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 840 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Thus, it is established that reciting Al-Fatihah is obligatory
(2) The statement: "Thus, it is established that reciting Al-Fatihah is obligatory": In Awjaz al-Masalik, it is noted that many misunderstand the Hanafis as permitting prayer without Al-Fatihah, which greatly surprised Al-Hafiz in Al-Fath. In reality, the Hanafis never permitted prayer without Al-Fatihah. The Hanafis only stated, in line with the Hadith, that such a prayer is deficient and must be repeated. Those who claim the Hadith invalidates the prayer are mistaken, as deficiency does not equate to non-existence.
Note 2
قوله
(۲) قوله: فعلم أن قراءة الفاتحة واجبة: قال في أوجز المسالك: إن عامتهم يفهمون من الحنفية أنهم قالوا بجواز الصلاة بدون الفاتحة، ولذا تعجب الحافظ في «الفتح» أشد التعجب، والحقيقة ليس كذلك. والحنفية أبدا ما قالوا بجوازها بدون الفاتحة والله در الحنفية، ما قالوا إلا ما ورد في الحديث أن هذه الصلاة ناقصة ذات خداج ونقصان يجب إعادتها. نعم، من أثبت بهذا الحديث بطلان الصلاة فهذا تحكم منه، فاسد؛ لأن الناقص لا يقال له: معدوم.
Note 1
ف (1) واضح ہو کہ نماز میں بعض چیزیں فرض ہیں اور بعض واجب ہیں، فرض اور واجب کے
درمیان فرق یہ ہے کہ جو چیزیں فرض ہیں اگر وہ عمداً ترک ہو جائیں یا سہواً دونوں صورتوں میں نماز باطل
ہو جاتی ہے اور کسی طرح درست نہیں ہو سکتی، تاوقتیکہ اس کا اعادہ نہ کیا جائے اس لئے کہ فرائض ادا کئے
بغیر نماز جائز ہی نہیں ہوتی۔
اس کے برخلاف نماز میں واجبات ترک ہو جائیں تو نماز باطل نہیں ہوتی ہے بلکہ ناقص ہوتی
ہے، واجب اگر سہواً ترک ہوا ہے تو سجدہ سہو کرنے سے نماز ادا ہو جاتی ہے اور اگر واجب عمداً ترک ہوا ہو
تو نماز کا لوٹانا ضروری ہے۔
فرض اور واجب کے اس فرق کو پیش نظر رکھ کر مذکورہ بالا دو حدیثوں پر غور کیجئے۔
مذکورہ بالا دو حدیثیں اور اسی طرح دوسری حدیثیں جو آگے آ رہی ہیں اس بات کی دلیل ہیں کہ
نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں ہے اس لئے کہ حدیث شریف میں خداج کا لفظ آیا ہے جس کے
معنی ناقص کے ہیں اگر سورہ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں فرض ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو جس میں
سورہ فاتحہ نہ پڑھی گئی ہو ”فَهِيَ بَاطِلَةٌ“ (وہ نماز باطل ہے) فرماتے :”فَهِيَ خِدَاجٌ“ (وہ نماز ناقص
ہے) نہ فرماتے، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ”فَهِيَ خِدَاجٌ“ فرمایا ہے اس لئے نماز ناقص
ہوگی باطل نہیں ہوگی۔ اس طرح حدیث شریف کے لفظ ”خِدَاجٌ“ سے ثابت ہو گیا کہ نماز میں سورہ
فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے فرض نہیں ہے۔
(یہ مضمون سعایہ رد المحتار اور المنتقی کے بین السطور سے ماخوذ ہے۔)
ف(2): مذکورہ حدیثوں کے پیش نظر احناف کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں
بلکہ واجب ہے اس سے بعض حضرات کو یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے کہ احناف کے پاس سورہ فاتحہ پڑھے بغیر
بھی نماز جائز ہو جاتی ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ احناف نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ سورہ فاتحہ
کے بغیر بھی نماز جائز ہو جاتی ہے۔
حنفیوں کی فراست کا کیا کہنا کہ انہوں نے تو وہی کہا ہے جو حدیث شریف کا منشاء ہے، حدیث
شریف میں ”خداج“ کا جو لفظ آیا ہے اس کے معنی ناقص کے ہیں اس لئے جس نماز میں سورہ فاتحہ نہ
پڑھی جائے تو وہ ناقص ہے اور نماز کے اس نقص کو دور کرنے کے لئے سہواً سورہ فاتحہ ترک ہو جائے تو
سجدہ سہو کیا جائے گا اور عمداً سورہ فاتحہ ترک کی گئی ہے تو نماز کا اعادہ ضروری ہوگا اور یہی حنفی مذہب ہے۔
البتہ جو حضرات حدیث کے لفظ ”خداج“ سے نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کی صورت میں
نماز کے باطل ہونے کا حکم لگاتے ہیں وہ حدیث کے منشاء کے خلاف کر رہے ہیں اس لئے کہ ناقص چیز کو
معدوم نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ ناقص اور معدوم میں بڑا فرق ہے معدوم تو باطل کو کہتے ہیں جس کا وجود ہی
نہ ہوا اور ناقص ایسی چیز کو کہتے ہیں کہ جو نقص کے ساتھ موجود ہے اور حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے کہ
نمازی کے سورہ فاتحہ نہ پڑھنے سے نماز ناقص ہو جاتی ہے یعنی نماز ادا تو ہو جاتی ہے مگر ناقص رہتی ہے اور اس نقص
کا سجدہ سہو سے یا اعادہ سے دور کیا جانا ضروری ہے، اس کے باوجود بھی حنفیوں پر یہ اعتراض کہ یہ سورہ فاتحہ کے بغیر
نماز کے درست ہونے کے قائل ہیں کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ (یہ مضمون اوجز المسالک سے ماخوذ ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 818 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Three verses
(1) The statement: "Three verses": Our scholars (Hanafis) acted upon all these narrations by obligating the recitation of Al-Fatihah along with a Surah or three additional verses. Since these are solitary narrations (ahad), they do not establish an absolute obligation (farḍ). The only obligation, according to us, is general recitation, as Allah said: "Recite what is easy of the Qur’an" (73:20). Restricting this to Al-Fatihah exceeds the general textual command, which is impermissible. Thus, we combined the narrations, obligating Al-Fatihah with a Surah or three verses. The statement "No prayer except with Al-Fatihah" is akin to "No prayer for the neighbor of a mosque except in the mosque" (indicating excellence, not validity). This was affirmed by prominent companions, as stated by Al-Ayni in ‘Umdat al-Qari.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ثلاث آيات وقد عمل أصحابنا بكل الحديث حيث أوجبوا قراءة الفاتحة وضم سورة أو ثلاث آيات معها؛ لأن هذه الأخبار أخبار آحاد، فلا تثبت بها الفرضية، وليس الفرض عندنا إلا مطلق القراءة؛ لقوله تعالى: ﴿فَأَقْرَهُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْءَانِ﴾ (المزمل: (۲۰) فأمر بقراءة ما تيسر من القرآن مطلقا، وتقييده بالفاتحة زيادة على مطلق النص، وذا لا يجوز، فعملنا بالكل، وأوجبنا قراءة الفاتحة وضم سورة أو ثلاث آيات معها. وقلنا: إن قوله: لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب مثل معنى قوله: لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد، وصح أيضًا عن جماعة من الصحابة إيجاب ذلك، قاله العلامة العيني في عمدة القاري.
Note 1
ف: واضح ہو کہ نماز میں مطلق قرأت قرآن، سورہ فاتحہ اور ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین آیتیں یا
تین آیتوں سے زیادہ کا پڑھنا ان میں مطلق قرأت قرآن کی فرضیت کے متعلق نص قرآنی اور دوسری
چیزوں کے وجوب کے متعلق جو حدیثیں وارد ہوئی ہیں احناف نے ان سب میں حسب ذیل طریقہ پر
اس طرح تطبیق دی ہے کہ جس سے نص قرآنی اور ساری حدیثوں پر عمل ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ نماز میں
مطلق قرأت قرآن فرض ہے اور سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اور سورہ فاتحہ کے ساتھ ضم سورہ یا ضم سورہ
میں تین آیتوں کا پڑھنا بھی واجب ہے۔
احناف کے پاس نماز میں مطلق قرأت قرآن فرض ہونے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے
”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ (تم لوگ نماز میں قرآن سے جو کچھ ہو سکے پڑھ لیا کرو۔) اس
آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ تم نماز میں قرآن سے جو ہو سکے پڑھ لیا کریں اور یہ حکم مطلق ہے
جو قرآن کے کسی خاص حصے سے مخصوص اور مقید نہیں ہے کہ جس کو نماز میں پڑھنا لازم کیا جائے، اس کی
تائید مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے:
”عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
لَاصَلَوةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ“۔
(ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
قرأت قرآن کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔)
اس حدیث سے بھی نماز میں مطلق قرأت کا فرض ہونا ثابت ہوتا ہے۔
جو حضرات نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کو فرض قرار دیتے ہیں ان کا استدلال یہ ہے کہ جب کسی
مسئلہ میں دو حکم وارد ہوں جن میں (1) ایک مطلق ہو اور (2) دوسرا مقید، تو اصولیین کے قاعدے کے
مطابق مطلق حکم سے مقید حکم مراد لیا جاتا ہے اور مطلق نہیں رکھا جاتا جیسے نماز میں قرأت کا مسئلہ ہے، اس
میں دو حکم وارد ہیں، ایک مطلق ہے جو آیت ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ سے ثابت ہوتا ہے
کہ نماز میں مطلق قرآن کا پڑھنا فرض ہے اور دوسرا حکم حدیث ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“
سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ کی قرأت کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی اس لئے وہ حضرات جن کے پاس
نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے وہ اس اصولی قاعدے کے تحت اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ
آیت ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ میں جو مطلق قرأت کا حکم ہے اس سے مراد حدیث شریف
کا مقید حکم ہی ہے جو ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ سے معلوم ہو رہا ہے، اس طرح یہاں دو حکم
علیحدہ علیحدہ نہیں ہیں بلکہ ایک ہی حکم ہے جو کہیں مطلق بیان کیا گیا اور کہیں مقید اور اسی بناء پر ان حضرات
کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا آیت اور حدیث دونوں سے فرض قرار پاتا ہے۔
حنفی حضرات اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ مطلق حکم اور مقید حکم سے ایک ہی چیز اسی وقت مراد
ہوسکتی ہے جبکہ دونوں حکم کے ماخذ قوت میں برابر ہوں، یہاں ایسا نہیں ہے کیونکہ مطلق قرأت تو
قرآن سے ثابت ہو رہی ہے اور سورہ فاتحہ کی قرأت خبر واحد سے اگر آیت اور حدیث دونوں سے ایک
ہی حکم مراد لیا جائے تو قرآن کے مطلق حکم پر خبر واحد کے ذریعہ زیادتی لازم آجائے گی حالانکہ کتاب اللہ
پر خبر واحد کے ذریعہ زیادتی جائز نہیں ہے، اس لئے یہاں مطلق اور مقید دونوں سے ایک ہی حکم مراد نہیں
لے سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم نے مطلق کو مطلق رکھ کر بحکم کتاب اللہ نماز میں مطلق قرأت کو فرض قرار
دیا اور مقید حکم یعنی سورہ فاتحہ کی قرأت کو خبر واحد سے ثابت ہونے کی وجہ سے واجب قرار دیا، اس طرح
ہم نے قرآن اور حدیث دونوں پر عمل کیا۔
اس کے قطع نظر مطلق اور مقید دونوں سے ایک ہی حکم مراد لے کر نماز میں سورہ فاتحہ کو فرض قرار
دیں تو وہ حضرات جن کے پاس سورہ فاتحہ کی قرأت فرض ہے ان پر لازم آ جائے گا کہ ضم سورہ کی قرأت کو
بھی فرض قرار دیں، اس لئے کہ جن حدیثوں میں سورہ فاتحہ کا ذکر ہے ان میں ضم سورہ کا بھی ذکر موجود
ہے، حالانکہ یہ حضرات ضم سورہ کی قرأت کو سنت قرار دیتے ہیں، اس کے برخلاف ہم مطلق اور مقید کو
علیحدہ علیحدہ دو حکم قرار دے کر آیت سے مطلق قرأت کی فرضیت ثابت کرتے ہیں اور حدیث سے جس
طرح سورہ فاتحہ کی قرأت کو واجب کہتے ہیں، ایسا ہی ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین یا تین سے زائد آیتوں کو
بھی واجب قرار دیتے ہیں۔
مذکورہ بالا توضیحات سے ثابت ہو گیا کہ حدیث ” لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ “ چونکہ خبر
واحد ہے اس لئے یہ حدیث قوت میں آیت: ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ “ کے برابر نہیں ہو سکتی
جس کی وجہ سے آیت کے مطلق حکم کو مقید نہیں کیا جا سکتا۔
اگر کوئی کہے کہ حدیث ”لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ خبر واحد نہیں ہے بلکہ خبر مشہور ہے
اس لئے اس حدیث سے آیت ” فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ “ کے مطلق حکم کو مقید کیا جا سکتا ہے
تو اس کے دو جواب ہیں:
(1) ایک جواب تو یہ ہے کہ ”لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کو اس لئے خبر مشہور نہیں کہا
جا سکتا ہے کہ تابعین کے درمیان اس حدیث کے مشہور ہونے میں اختلاف ہے اور سب تابعین نے اس
حدیث کو قبول نہیں کیا ہے اور خبر مشہور اس حدیث کو کہتے ہیں جس کو سب تابعین قبول کر لیں اگر ”لَاصَلٰوةَ
إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کا خبر مشہور ہونا صحیح ہوتا تو اس حدیث سے آیت ” لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ
الْكِتَابِ “ کے حکم مطلق کو مقید کر کے نماز میں سورہ فاتحہ کی فرضیت کی جا سکتی تھی لیکن جب ”لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ
الْكِتَابِ“ کا خبر مشہور ہونا ثابت نہیں ہوا تو یہ خبر واحد ہوئی اور ظاہر ہے کہ خبر واحد سے کتاب اللہ کے حکم مطلق کو مقید
نہیں کیا جا سکتا، اس لئے نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کا فرض ہونا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔
(2) دوسرا جواب یہ ہے کہ بالفرض اگر حدیث ” لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ “ کو خبر مشہور
تسلیم کرلیا جائے تو اس کے باوجود بھی آیت ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ کے حکم مطلق کو اس
حدیث سے مقید نہیں کیا جاسکتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر مشہور سے کسی آیت کے حکم مطلق کو اسی وقت مقید
کرسکتے ہیں جبکہ وہ خبر مشہور محکم ہو یعنی اس سے ایک ہی معنی مراد لئے جاتے ہوں، اور اس میں دوسرے
معنے کا احتمال نہ ہو، یہاں ایسا نہیں ہے کیونکہ حدیث ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ میں دو
معنوں کا احتمال موجود ہے ایک معنی تو یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی اور دوسرے معنی یہ ہیں
کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز کامل نہیں بلکہ ناقص ہوتی ہے اور اس دوسرے معنی کی نظیر حدیث ”لَاصَلٰوةَ
لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِى الْمَسْجِدِ“ ہے کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے بغیر صحیح نہیں ہوتی حالانکہ
اس حدیث سے یہ معنی کسی نے بھی مراد نہیں لئے ہیں بلکہ سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسجد کے پڑوسی
کی نماز گھر میں ادا تو ہوجاتی ہے مگر ناقص اور غیر افضل رہتی ہے، اس سے ثابت ہوا کہ حدیث ”لَا
صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ میں مذکورہ دونوں معنوں کا احتمال ہے اور ایسی مشہور حدیث جس میں دو
معنوں کا احتمال پایا جاتا ہو وہ کسی آیت کے مطلق حکم کو مقید نہیں کرسکتی۔
اس طرح ثابت ہوا کہ حدیث ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کے ذریعہ آیت ”فَاقْرَءُوْا
مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ کے مطلق حکم کو مقید کرکے نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کو فرض قرار دینا درست
نہیں بلکہ آیت مذکورہ کے لحاظ سے نماز میں مطلق قرأت قرآن فرض ہے اور حدیثوں کے لحاظ سے نماز
میں سورہ فاتحہ ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین یا تین سے زیادہ آیتوں کا پڑھنا واجب ہے اور یہی مذہب حنفی
ہے۔ (عمدة القاری، مرقات۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 803 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 2
Narrated by Al-Bayhaqi
(2) The statement: "Narrated by Al-Bayhaqi": All its narrators are trustworthy except Abu Ghanim Azhar ibn Ahmad ibn Hamdun, the teacher of Al-Hakim. Al-Bayhaqi mentioned him in a context of reliance, so he is acceptable according to him. This is an explicit text indicating the impermissibility of prayer without adding something to Surah Al-Fatihah. Jabir explained this addition as a Surah. It also indicates that Surah Al-Fatihah is not a pillar (rukn) of prayer, as Jabir equated it with the Sunnah of reciting a Surah, treating them equally. [Summarized from I’la al-Sunan]
Note 2
قوله
(۲) قوله: رواه البيهقي: رجاله كلهم ثقات ما خلا شيخ الحاكم أبي غانم أزهر بن أحمد بن حمدون، فقد ذكره البيهقي في موضع الاحتجاج به، فهو صالح له عنده، وهو نص صريح في عدم جواز الصلاة بدون ضم شيء إلى الفاتحة، وقد فسره جابر بسورة، وأيضًا يدل على أن الفاتحة ليست بركن في الصلاة؛ لأن جابرا جعلها من السنة مثل السورة، سواء بسواء، من تعليق إعلاء السنن ملخصا.
Note 1
ف(1): اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں یہ بات مشہور تھی کہ
سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہوتی اس سے ثابت ہے کہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کا ہر نماز میں
پڑھنا واجب ہے خواہ وہ نماز وتر ہو یا سنت یا نفل ان تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کا
پڑھنا ضروری ہوگا، البتہ جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرض کی چار رکعت
والی نماز یا تین رکعت والی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں کا پڑھنا ضروری ہوگا
اور آخری دو یا ایک رکعت میں صرف سورہ فاتحہ کا پڑھ لینا کافی ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ پڑھنے کے لئے فرض کی پہلی دو
رکعتوں کو ہی معین کرلینا واجب ہے اگر کسی نے سورہ فاتحہ اور ضم سورہ یا ان میں سے کسی ایک کو فرض نماز کی
پہلی دو رکعتوں میں پڑھنا بھول گیا اور ان کی آخری دو رکعتوں میں پڑھ لیا تو چونکہ اس نے پہلی دو
رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ پڑھنا جو واجب تھا سہواً ترک کر دیا ہے اس وجہ سے اس کو سجدہ سہو کرنا
ضروری ہوگا۔ (عمدۃ القاری، ردالمحتار۔)
مذکور الصدر حدیث جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس کو عبیداللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ نے
اس طرح روایت کیا ہے کہ
Note 2
ف(2): عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں ایک تو یہ
ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا رکن یعنی فرض نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے مذکورہ
حدیث میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کو ضم سورہ کی طرح سنت قرار دیا ہے فرض نہیں کہا ہے اور ظاہر ہے کہ
کسی صحابی کا کسی چیز کو سنت قرار دینا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ وہ چیز فرض نہیں ہو سکتی، یہاں یہ بات
واضح رہے کہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کو جو سنت قرار دیا گیا ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا پڑھنا
واجب نہیں ہے اس لئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں عام طور پر دو اصطلاحیں تھیں، ایک فرض
دوسرے سنت، اور سنت میں فرض کے سوا ہر چیز داخل تھی، خواہ وہ واجب ہو یا سنت موکدہ یا غیر موکدہ ہو
یا نفل، غرض ان تمام چیزوں پر سنت کا اطلاق ہوتا تھا چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ کا اس حدیث میں سورہ فاتحہ
اور ضم سورہ کو سنت کہنا انہی معنوں میں تھا کہ یہ فرض نہیں ہیں، یعنی واجب ہیں۔
علاوہ ازیں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کے واجب ہونے کے متعلق حدیثیں ابھی اوپر گزر چکی ہیں۔
عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے دوسری چیز یہ ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح نماز
میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اسی طرح ضم سورہ کا پڑھنا بھی واجب ہے اس لئے کہ جابر رضی اللہ عنہ
نے سورہ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں کا ذکر ایک ہی حیثیت سے کیا ہے۔
(یہ مضمون تعلیق اعلاء السنن سے ماخوذ ہے۔)
عبادہ بن صامت اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیثوں سے واضح ہو گیا کہ نماز میں
سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کا پڑھنا ضروری ہے اور ان دونوں کے بغیر نماز جائز نہیں اس کی توضیح میں حضرت
سفیان ابن عیینہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ان مذکورہ حدیثوں کا حکم اس شخص کے لئے ہے جو تنہا نماز پڑھ
رہا ہو۔ (مقتدی کے لئے یہ حکم نہیں ہے اس لئے کہ مقتدی کو خاموش رہنا چاہئے)۔
حضرت سفیان کے اس قول کی روایت ابوداؤد نے اپنی سنن میں کی ہے۔
واضح ہو کہ مذکورہ بالا حدیثوں کی توضیح میں جس طرح ابوداؤد نے اپنی سنن میں حضرت سفیان
بن عیینہ کا قول نقل کیا ہے اسی طرح ترمذی نے بھی اپنی سنن میں حدیث لَا صَلٰوةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ
بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کے متعلق امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ حدیث تنہا نماز
پڑھنے والے سے متعلق ہے مقتدی سے متعلق نہیں ہے اس لئے کہ مقتدی کو خاموش رہنا ضروری ہے۔)
نیز ترمذی نے یہ بھی لکھا ہے کہ امام احمد بن حنبل نے اس خصوص میں جابر ابن عبداللہ رضی اللہ
عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ حدیث یہ ہے: ”مَنْ صَلّٰى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيْهَا بِأُمِّ
الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَكُوْنَ وَرَاءَ الْإِمَامِ“۔
(جو شخص نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوئی، مگر یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جو
(تنہا ہو) اور امام کے پیچھے (مقتدی کی حالت میں) نہ ہو۔
امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کے اس ارشاد ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث تنہا نماز پڑھنے
والے سے متعلق ہے۔
واضح رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے بہتر کوئی نہیں سمجھ
سکتا اور جب جابر رضی اللہ عنہ جیسے صحابی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ ارشاد کی تفسیر یہ کی ہے
کہ یہ حدیث تنہا نماز پڑھنے والے سے متعلق ہے تو یہ حکم مقتدی سے متعلق نہ ہوگا۔ (یہ مضمون ترمذی
سے ماخوذ ہے۔)
ف: قرأت خلف الامام کے بارے میں جتنی حدیثیں آئی ہیں وہ امام اور منفرد کی قرأت سے
متعلق ہیں، اس لئے ان احادیث سے مقتدی کے لئے بھی قرأت کا وجوب ثابت کرنا درست نہیں،
ابتداء اسلام میں مقتدی کے لئے بھی سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کی قرأت جائز تھی پھر ضم سورہ کی قرأت
منسوخ ہوگئی اور مقتدی کے لئے جو سورہ فاتحہ کی قرأت باقی تھی وہ بھی بعد ازاں منسوخ ہوگئی۔ اب
مقتدی کو نہ تو سورہ فاتحہ پڑھنا چاہئے اور نہ ضم سورہ۔
(یہ اوجز المسالک میں مذکور ہے۔)
(1) His saying: "Except behind the imam": Sheikh Al-Janjuhawi said that the narrations regarding recitation behind the imam cannot be used as evidence to obligate the follower's recitation. Initially, the follower was permitted to recite in prayer, then this was abrogated while allowing the recitation of Al-Fatihah, and then it was completely abrogated. This is mentioned in Aujaz Al-Masalik.
Note 1
قوله
(۱) قوله: إلا وراء الإمام: وقال الشيخ الجنجوهي: إن الروايات الواردة في أمر القراءة خلف الإمام لا يصحالاستدلال بها على وجوب القراءة للمقتدي، وأن المؤتم كان القراءة له مباحا في أول الإسلام، ثم نسخ وبقي إباحة الفاتحة، ثم نسخ بالمنع مطلقا، كذا في «أوجز المسالك».
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں مقتدی کے لئے سکوت اختیار کرنے
اور امام کی قرأت کو خاموشی سے سننے کی طرف اشارہ ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس حدیث میں اس
بات کا ثبوت ہے کہ مقتدی سورہ فاتحہ نہ پڑھے اسی لئے کہا گیا ہے کہ امام جب سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے ”
وَلَا الضَّالِّينَ“ پر پہنچے تو مقتدی آمین کہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس کے بجائے یوں کہا جاتا کہ تم میں کا
ہر ایک (مقتدی ہو یا امام) ”وَلَا الضَّالِّينَ“ تک پہنچے تو آمین کہے ایسا نہ کہہ کر جب یہ کہا گیا کہ
امام ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“
کہے تو تم آمین کہو اس سے ثابت ہوا کہ مقتدیوں کو سورہ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ
خاموشی سے امام کی قرأت سنتے رہیں۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Do not raise your voices over one another with the Qur'an
(1) His saying: "Do not raise your voices over one another with the Qur'an": At-Tahawi said: Since these narrations differed, we sought to understand their ruling through reasoning. We found that they all agree that if a person joins the imam while he is bowing, he should say the takbir and bow with him, and that this counts as a valid rak'ah even if he did not recite anything. This could mean that it is allowed due to necessity, or that recitation behind the imam is not obligatory. When we examined the matter, we found that scholars agree that if a person bows before entering the prayer properly, it is not valid. This proves that certain pillars of prayer are essential, while recitation behind the imam is not necessarily one of them.
Note 1
قوله
(۱) قوله : لا يجهر بعضكم على بعض بالقرآن قال الطحاوي: فلما اختلفت هذه الآثار المروية في ذلك التمسنا حكمه من طريق النظر، فرأيناهم جميعا لا يختلفون في الرجل يأتي الإمام وهو راكع أنه يكبر ويركع معه، ويعتد تلك الركعة وإن لم يقرأ فيها شيئا. فلما أجزأه ذلك في حال خوفه فوت الركعة احتمل أن يكون إنها اجزاء ذلك لمكان الضرورة واحتمل أن يكون إنها أجزأه ذلك؛ لأن القراءة خلف الإمام ليست عليه فرضا، فاعتبرنا ذلك.
فرأيناهم لا يختلفون أن من جاء إلى الإمام وهو راكع، فركع قبل أن يدخل في الصلاة بتكبير كان منه: إن ذلك لا يجزئه، وإن كان إنما تركه لحال الضرورة وخوف قوات الركعة. فكان لا بد له من قَوْمَةٍ في حال الضرورة وخوف فوات الركعة، فكان لا بد له من قومة في حال الضرورة وغير حال الضرورة.
فهذه صفات الفرائض التي لا بد منها في الصلاة، ولا تجزئ الصلاة إلا بإصابتها. فلما كانت القراءة مخالفة لذلك وساقطة في حال الضرورة كانت من غير جنس ذلك، فكانت في النظر أنها ساقطة في غير حالة الضرورة، فهذا هو النظر في هذا.
Note 1
ف: واضح رہے کہ قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مقتدی جہری اور سری ہر دو
نمازوں میں امام کے پیچھے نہ سورہ فاتحہ پڑھے اور نہ کوئی اور سورت، یہ نقلی دلیلیں تھیں جن کو آپ سن چکے
اب اس پر عقلی دلیل امام طحاوی رضی اللہ عنہ سے سنئے۔
وہ فرماتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جس نے امام کو رکوع میں پایا اور قیام کی حالت میں تکبیر تحریمہ
کے لئے ”اللہ اکبر“ کہہ کر بغیر قرأت کئے رکوع میں امام سے جاملا تو جمہور ائمہ کا بلا اختلاف اس
بات پر اتفاق ہے کہ اس کو بلا شبہ وہ رکعت مل گئی، اگرچہ کہ اس نے اس رکعت کے قیام میں کچھ قرأت
نہیں کی ہے۔ (یہ عمدۃ القاری، جلد:2، صفحہ:559، میں مذکور ہے۔)
جمہور ائمہ کے اس قول کی توجیہ دو طرح سے کی گئی ہے، ایک یہ کہ مقتدی پر امام کے پیچھے قرأت
فرض نہیں تھی اس لئے اس کو وہ رکعت قرأت ترک ہونے کے باوجود مل گئی اور یہی مذہب حنفی ہے۔
دوسری توجیہ یہ ہے کہ اس شخص پر قرأت فرض تو تھی مگر رکعت فوت ہونے کے اندیشہ سے ضرورۃً
ساقط ہوگئی اور یہ دیگر ائمہ کا مسلک ہے، اس دوسری توجیہ کے سلسلہ میں فرض کی ماہیت پر غور کرنا
ضروری ہے کہ کیا کسی فرض کو ضرورۃً ترک کر دیا جا سکتا ہے؟
ایک ایسا شخص جس نے امام کو رکوع میں پایا اور رکعت فوت ہونے کے اندیشہ سے ضرورۃً قیام
کے لئے بغیر تکبیر تحریمہ کہے ہوئے امام سے رکوع میں جاملا تو جمہور ائمہ اس بات پر متفق ہیں کہ ایسے شخص
کو وہ رکعت نہیں ملی، حالانکہ اس نے ضرورۃً قیام ترک کیا ہے، اس مثال سے صراحت کے ساتھ معلوم
ہوگیا کہ قیام فرض ہے اور فرض ایسا عمل ہے جس کو ضرورۃً بھی ساقط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کی ادائی
ضرورت اور غیر ضرورت ہر دو موقعوں پر لازمی ہے۔
فرض کی ماہیت کو اس مثال سے سمجھنے کے بعد قرأت خلف الامام کی نوعیت پر غور کرنے سے
معلوم ہوتا ہے کہ قرأت خلف الامام پر فرض کی ماہیت صادق نہیں آتی، اس لئے کہ مقتدی کے لئے
قرأت خلف الامام جس طرح دیگر ائمہ کے پاس ضرورۃً ساقط ہو جاتی ہے اسی طرح ہمارے پاس متعدد
احادیث سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے ساقط ہے اس کے برخلاف اگر قرأت خلف الامام فرض ہوتی تو
وہ نہ ضرورۃً ساقط ہوتی ہے اور نہ بلا ضرورت اس لئے کہ فرائض کسی وجہ سے ساقط نہیں ہو سکتے۔
اس طرح ثابت ہو گیا کہ مقتدی پر قرأت خلف الامام فرض نہیں ہے جیسا کہ متعدد احادیث اس
کے مقتدی پر فرض نہ ہونے پر وارد ہیں۔ (یہ پورا مضمون طحاوی شریف سے ماخوذ ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 850 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Unnumbered commentary
Whoever has an Imam, the recitation of the Imam is his recitation.
The saying: "Whoever has an Imam, the recitation of the Imam is his recitation."
And in Al-Rawd Al-Murbi‘ from Hanbali jurisprudence: "There is no recitation upon the follower," meaning the Imam bears the recitation of Al-Fatihah on his behalf due to this Hadith, as mentioned in Aujaz Al-Masalik.
Note 1
This footnote could not be resolved in the source.
Note 1
قوله
(۱) قوله: من كان له إمام فقراءة الإمام قراءة له وفي الروض المربع من فقه الحنابلة: ولا قراءة على مأموم، أي يتحمل الإمام عنه قراءة الفاتحة، لهذا الحديث، قاله في أوجز المسالك».
Note 1
ف(1): یہ اور اسی قسم کے دیگر احادیث میں مقتدی کے لئے امام کے پیچھے مطلقاً قرأت نہ
کرنے کا حکم وارد ہوا ہے اس لئے مقتدی امام کے پیچھے نہ سورہ فاتحہ پڑھے نہ کوئی اور سورہ۔
اس کے برخلاف جن حضرات نے ان احادیث سے جن میں مقتدی کو قرأت نہ کرنے کا عام حکم
موجود ہے اس عام حکم میں سورہ فاتحہ کو شامل نہ کر کے صرف ضم سورہ نہ پڑھنے سے خاص کیا ہے، یہ
تخصیص بلا مخصص ہے، حدیث کے عام حکم کو بغیر کسی سبب کے خاص کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی،
جبکہ اور احادیث میں مقتدی کو امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کا حکم صراحت کے ساتھ موجود ہے جو
ابھی اوپر نسائی، ترمذی بیہقی اور طحاوی وغیرہم کے حوالے سے گزر چکی ہیں۔
(یہ مضمون فتح الملہم سے ماخوذ ہے۔)
ف(2): امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے
”مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ“ (جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اسی کی
قرأت ہے) فقہ حنبلی کی کتاب الروض المربع میں اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
”وَلَا قِرَاءَةَ عَلَى مَأْمُومٍ“ (مقتدی پر کسی قسم کی قرأت نہیں ہے۔) (اس لئے نہ سورہ فاتحہ پڑھے اور
نہ ضم سورہ کرے۔) اس کا مفہوم یہ ہے کہ امام سورہ فاتحہ کو اپنے اور مقتدی کی طرف سے ادا کر لیتا ہے اس
لئے مقتدی کو سورہ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (یہ مضمون اوجز المسالک سے ماخوذ ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح رہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت ”وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا ...... الخ“ کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب امام نماز میں قرآت جہر سے کرے تو مقتدی اس کو کان لگا کر سنے اور جب امام قرآن آہستہ پڑھے تو وہ چپ رہے، چنانچہ مدارک نے اس آیت کی تفسیر جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس طرح کی ہے: ”وجمهور الصحابة رضى الله عنهم على انه فى استماع المؤتم“۔ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں جو حکم مذکور ہے وہ مقتدی سے متعلق ہے کہ وہ نماز میں امام کے پیچھے قرآت نہ کرے۔