Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1178

بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ

Zujajat al-Masabih 1178Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۱۷۸ - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، يُحَدِّثُهُ عَنْ جَدِّهِ (رضي الله عنه) أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ. رَوَاهُ مُحَمَّدٌ. وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عَلِيٍّ (رضي الله عنه)، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ فِي رِسَالَةِ الْقِرَاءَةِ»: إِنَّهُ لَا يُعْرَفُ لِهَذَا الْإِسْنَادِ سَمَاعُ بَعْضِهُمْ عَنْ بَعْضٍ، وَلَا يَصِحُ مِثْلُهُ. وَالْجَوَابُ عَنْهُ أَوَّلًا: أَنَّ الْمُعَاصَرَةَ وَإِمْكَانَ اللُّقِيِّ يَكْفِي عِنْدَ الْجُمْهُورِ فِي صِحَّةِ الاتِّصَالِ وَرَفْعِ الإِنْقِطَاعِ، وَثُبُوْتُ اللُّقِيِّ - كَمَا هُوَ تَشَدُّدُ الْبُخَارِيِّ - لَا يَجِبُ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، كَمَا تَقَرَّرَ مُحَقَّقًا فِي أُصُولِ الحَدِيثِ، وَالْمُعَاصَرَةُ وَإِمْكَانُ اللُّقِيِّ هَهُنَا مُتَحَقَّقُ بَيْنَ دَاوُدَ وَعُمَرَ، وَبَيْنَ عُمَرَ ومُوْسَى، وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ زَيْدٍ، وَهُوَ يَكْفِيْنَا فِي ثُبُوْتِ اتَّصَالِ السَّنَدَ. وَثَانِيَا: أَنَّ الإِنْقِطَاعَ الظَّاهِرَ لَا يَضُرُّ عِنْدَنَا إِذَا كَانَ الرَّاوِي ثِقَةً يَرْوِي عَنِ الثَّقَاتِ، لَا سِيَّمَا فِي الْقُرُوْنِ الْمَشْهُودِ لَهَا بِالْخَيْرِ انْتَهَى وَقَالَ الطَّحَاوِيُّ: فَهَؤُلَاءِ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَدْ أَجْمَعُوْا عَلَى تَرْكِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، قَدْ وَافَقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ مَا قَدْ رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ مِمَّا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَشَهِدَ لَهُمُ النَّظَرُ مَا قَدْ ذَكَرْنَا.
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح رہے کہ مذکورہ بالا حدیثوں میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قرأت خلف الامام کرنے والے کے بارے میں مختلف تحدیدیں مذکور ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ قرأت خلف الامام کرنے والے کے منہ میں پتھر ہو، دوسری حدیث میں یوں مذکور ہے کہ ایسے شخص کا منہ مٹی سے بھر دیا جائے، ایک اور حدیث یہ ہے کہ منہ میں انگارا رکھ لینا قرأت خلف الامام کرنے سے بہتر معلوم ہوتا ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ان احادیث میں قرأت خلف الامام کرنے والے پر جو تحدیدیں مذکور ہیں، وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرأت خلف الامام نہ کرنے کے بارے میں صحابہ کرام کا اجماع ہو چکا تھا صحابہ کرام کے اس اجماع پر صدری وہ تمام حدیثیں مؤید ہیں جن میں قرأت خلف الامام نہ کرنے کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ علاوہ ازیں اس بارے میں نقلی دلیلوں کے سوا امام طحاوی رحمہ اللہ کی عقلی دلیل بھی گزر چکی ہے جس میں قیاس کے ذریعہ قرأت خلف الامام نہ کرنے کو ثابت کیا گیا ہے۔