Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1222

بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ

Zujajat al-Masabih 1222Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٢٢٢ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْن مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) قَالَ : مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ بِـ ﴿قُلْ يَتَأَيُّهَا الْكَافِرُوْنَ وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ، وَرَوَاهُ ابْنِ مَاجَهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُ: بَعْدَ الْمَغْرِبِ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 431 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1148 (unverified) 86% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور اسی قسم کی دوسری احادیث کے سمجھنے کے لئے سرّی جہری قرأت کی تعریف سنئے:۔ صاحب ردالمحتار نے امام کے نماز میں جہری قرأت کے متعلق لکھا ہے: وادنى الجهر اسماع غيره ممن ليس بقربه كاهل الصف الاول واعلاه لاحد له (ترجمہ: امام کے لئے جہری نماز میں جہری قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ پہلی صف والے اس کی قرأت کو سن سکیں، اگر امام اپنے اور اپنے قریب کے ہی ایک یا دو شخصوں کو قرأت سنائے تو یہ جہر نہیں ہے سمجھا جائے گا اور جہری کی اعلیٰ حد مقرر نہیں ہے۔ امام جہاں تک چاہے اپنی آواز کو سنا سکتا ہے۔ اور سرّی قرأت کے متعلق صاحب ردالمحتار نے یہ لکھا ہے:۔ ”ادنى المخافتة اسماع نفسه او من بقربه من رجل او رجلين مثلاً (ترجمہ: سری نماز میں امام یا منفرد کے لئے قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنائیں اگر قریب کے ایک یا دو آدمی بھی اس کی سری قرأت کو سن لیں تو اس کا شمار بھی سری قرأت ہی میں ہوگا۔ صاحب ردالمحتار نے خانیہ اور خلاصہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جامع صغیر میں بھی جہری اور سری قرأت کی تعریف اسی طرح مذکور ہے۔ قرأت کی اس تعریف کو پیش نظر رکھ کر صدر کی اس حدیث پر غور کیجئے:۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں مذکور ہے کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد اور فجر کے پہلے کی دو سنتوں میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ کثرت سے پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ سنتوں میں تو جہری قرأت نہیں ہے، پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سری قرأت کو کس طرح سن لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سرّی قرأت میں نمازی کی قرأت کو قریب کے ایک دو آدمی سن لیں تو اس پر جہری قرأت کا حکم صادق نہیں آئے گا بلکہ یہ سری قرأت ہی کہلائے گی اسی وجہ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سری نمازوں کی قرأت کو سنا ہے۔