العربية
Typed, pending editorial approval
۱۳۹۳ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ1، فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ، فَلِي النَّارُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ مَاجَه.
وَفِي جَامِعِ الْآثَارِ الْأَمْرُ لِلْوُجُوْبِ، وَتَقْرِيرُ الشَّارِعِ لِلصِّحَّةِ، وَتَقَدَّمَ آنِفًا مُوَاظَبَتُهُ عَلَى بَعْضِ السُّجُودِ، وَلَا فَارِقَ بَيْنَ سَجْدَةٍ وَسَجْدَةٍ.
Qur’an-related source paragraphs
And the words of Allah, the Almighty: "And when the Qur'an is recited to them, they do not prostrate." (Surah Al-Inshiqaq, 84:21)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 81a (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1052 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
(1) The statement: "And when the Qur'an is recited to them, they do not prostrate." is explained in Al-Mirqat: The prostration of recitation (Sajdah al-Tilawah) is obligatory based on this verse and the hadith that follows, for both the reciter and the listener, even if the listener was not actively listening, according to Abu Hanifah and his companions. Malik, Shafi'i, and Ahmad said it is recommended (Sunnah) for both the reciter and the listener. There is a difference of opinion regarding someone who was not actively listening to the recitation but happened to hear it. There are two opinions among the followers of Shafi'i, the stronger of which, as mentioned in Al-Rawdah, is that it is also recommended. I say: The evidence from this verse for the obligation of the prostration of recitation is that Allah criticized a group of people for not prostrating, as He said: "وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ". Criticism is only deserved for neglecting an obligation. This explanation is taken from some commentaries.
Note 1
(1) The statement: "The son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated." is based on the principle that when the Wise One (Allah) narrates something from someone who is not wise and does not follow it with disapproval, it indicates that it is correct. This serves as evidence that the son of Adam is commanded to prostrate, and the command implies obligation. Moreover, every prostration mentioned in the Qur'an also indicates this obligation. The prostrations in the Qur'an are of three types: Those accompanied by an explicit command. Those that include a narration of the disbelievers' refusal when they were commanded to prostrate. Those that narrate the actions of the prophets in prostrating. Compliance with the command, following the example of the prophets, and opposing the disbelievers are all obligatory, unless there is specific evidence indicating that it is not obligatory. However, the indication of obligation in these cases is speculative (zanni), so the established ruling is that it is obligatory (wajib), not obligatory in the sense of being a definitive duty (fard). This is as mentioned in Sharh al-Nuqayah.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله : وإذا قرئ إلخ : قال في «المرقاة»: تجب سجدة التلاوة بهذه الآية والحديث الآتي بعد على القارئ والسامع، ولو لم يكن مستمعًا عند أبي حنيفة وأصحابه. وقال مالك والشافعي وأحمد: تسن على القارئ والمستمع. واختلفوا فيمن لم يكن مستمعًا للقراءة، بل حصل له سماع، على قولين هما وجهان لأصحاب الشافعي، أصحهما في الروضة الاستحباب أيضًا. انتهى قلت: وجه الاستدلال بهذه الآية على وجوب سجدة التلاوة: أن الله تعالى ذَمَّ أقواما بترك السجود، فقال: وإذا قرئ إلخ. وإنما يستحق الذم بترك الواجب، أخذته من بعض الحواشي.
Note 1
(۱) قوله : أمر ابن آدم بالسجود فسجد والأصل: أن الحكيم إذا حكى عن غير حكيم ولم يعقبه بالإنكار، دل على أنه صواب، ففيه دليل على أن ابن آدم مأمور بالسجدة والأمر للوجوب، مع أن أي السجدة تفيده أيضًا؛ فإنها ثلاثة أقسام قسم فيه الأمر الصريح، وقسم يتضمن حكاية استنكاف الكفرة حيث أمروا به، وقسم فيه حكاية فعل الأنبياء بالسجود. وكل من الامتثال والاقتداء ومخالفة الكفرة واجب، إلا أن يدل دليل في معين على عدم لزومه، لكن دلالتها فيه ظنية، فكان الثابت الوجوب، لا الفرض. كذا في شرح النقاية».
Note 1
ف۔ اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ“ الخ (انسان کو سجدہ کا امر۔ حکم۔ کیا گیا) یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ حکیم جب غیر حکیم کی بات سنائے پھر اس غیر حکیم کی اس بات کا انکار نہ کرے تو حکیم کا غیر حکیم کی بات کو سنا کر رد نہ کرنا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکیم نے غیر حکیم کی جو بات سنائی ہے وہ صحیح ہے۔ واضح ہو کہ یہاں حکیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور غیر حکیم شیطان ہے، اور غیر حکیم کی بات جو سنائی گئی ہے وہ یہ ہے ”أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ، غور کیجئے کہ حکیم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر حکیم یعنی شیطان کی یہ بات سنائی کہ (انسان کو سجدہ کا امر کیا گیا) اور شیطان کی اس بات کو سنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیطان کے اس قول کا رد نہیں فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شیطان کے اس قول کو رد نہ فرمانا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقت میں انسان کو سجدہ کرنے کا امر ہوا تھا، اور یہ بھی واضح ہے کہ امر مطلق سے وجوب کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اور چونکہ یہاں مطلقاً سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے اس لئے سجدہ کرنے کے اس مطلق امر سے ثابت ہوا کہ سجدہ تلاوت کا ادا کرنا واجب ہے۔ یہاں ایک یہ شبہ کیا جا سکتا ہے کہ امر وجوب کے علاوہ استحباب کے لئے بھی ہوتا ہے تو یہاں سجدہ کرنے کے امر کو کیوں مستحب نہ قرار دیا جائے؟ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ قرینہ سے یہاں سجدہ کرنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے، استحباب ہمیشہ نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ سجدہ نہ کرنے پر دوزخ کی وعید ہے اور سجدہ کرنے پر جنت کا وعدہ ہے اور اس قسم کا وعدہ اور وعید کسی امر مستحب کے لئے نہیں آتا بلکہ امر واجب کے لئے ہی ہوتا ہے اس طرح اس سے بھی ثابت ہوا کہ یہاں سجدہ کا امر، امر واجب ہے نہ کہ امر مستحب۔ ہر دو دلیلوں سے ثابت ہوا کہ سجدہ تلاوت کا ادا کرنا واجب ہے۔ سجدہ تلاوت کے وجوب پر تیسری دلیل یہ ہے کہ آیات سجدہ سے بھی سجدہ تلاوت کے واجب ہونے کا پتہ چلتا ہے اس لئے کہ سجدہ کی آیتیں تین طرح کی ہیں، ایک تو وہ ہیں جن میں صراحت کے ساتھ سجدہ کا امر ہوا ہے۔ دوسرے وہ آیتیں ہیں جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سجدہ کرنے کے واقعات کے بیان پر مشتمل ہیں اور تیسرے وہ آیتیں ہیں جو کفار اور مشرکین کی ایسی حکایتوں پر مشتمل ہیں جن میں ان کو سجدہ کرنے کا امر کیا گیا تو انہوں نے انکار کیا۔ آیات سجدہ کی یہ تینوں قسمیں یعنی امر خداوندی کی تعمیل، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی اقتداء اور اتباع اور کفار و مشرکین کی مخالفت، یہ تینوں چیزیں واجب ہیں، بشرطیکہ ان میں سے کسی چیز کے واجب نہ ہونے پر کوئی دلیل قائم نہ ہو جائے، چونکہ آیات سجدہ کی مذکورہ تینوں قسموں کا واجب نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے، اس لئے تلاوت کے تمام سجدے واجب ہیں۔ سجدۂ تلاوت کے وجوب پر چوتھی دلیل وہ ہے جس کو جامع الآثار میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت کے سجدوں پر مواظبت اور پابندی فرمائی ہے اس سے بھی سجدۂ تلاوت کے واجب ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔