Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1538

بَابُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً مَرَّتَيْنِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً مَرَّتَيْنِ

Zujajat al-Masabih 1538Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٣٨ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) عَنْ صَلَاةِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ عَنْ تَطَوُّعِهِ فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي1 قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكْعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمُ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ. وَفِي رِوَايَةِ التَّرْمِنِيَّ عَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها): أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُوْنُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 730a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He would pray in my house

(1) His statement: "He would pray in my house" – It is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar: "The preferred place for voluntary prayers (other than Taraweeh) is one's home, unless there is a fear of being preoccupied and missing them. The most correct opinion is that what is most humble and sincere is superior."

Note 1

قوله

(۱) قوله : كان يصلي في بيتي: قال في الدر المختار»، والأفضل في النفل غير التراويح المنزل إلا لخوف شغل عنها، والأصح أفضلية ما كان أخشع وأخلص.

Note 1

ف(1): اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصر سے پہلے اور عشاء سے پہلے کی سنتیں سنت مؤکدہ نہیں ہیں لیکن ان کے پڑھنے میں بڑا ثواب ہے، چنانچہ عصر کے پہلے کی چار رکعت سنتوں کے پڑھنے والے کے بارے میں یہ مذکور ہے کہ ان کو پابندی سے پڑھنے والے کا خاتمہ بالخیر ہوگا ان کی اور فضیلتیں آگے آرہی ہیں۔ ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنتیں گھر میں ادا فرمایا کرتے تھے، درمختار میں لکھا ہے کہ تراویح تو مسجد ہی میں ادا کرنا چاہئے اور اسی طرح معتکف کو بھی سنتیں مسجد ہی میں ادا کرنا چاہئے۔ البتہ تراویح کے سوا جملہ سنتوں کے بارے میں افضل یہ ہے کہ گھر میں ادا کی جائیں، ہاں (اگر گھر میں مشغولیت کی وجہ سنتوں کا ادا کرنا دشوار ہے تو سنتوں کو مسجد میں ادا کرنا چاہئے، اور صحیح ترین قول یہ ہے کہ خواہ مسجد میں ہو یا گھر میں جہاں کہیں زیادہ خشوع اور زیادہ اخلاص پیدا ہو وہیں سنتوں کو ادا کرنا چاہئے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ مرقات میں فرماتے ہیں کہ ابن الملک نے کہا ہے کہ اس حدیث سے سنتوں کا گھر میں ادا کرنا مستحب معلوم ہوتا ہے لیکن علماء سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ ہمارے زمانہ میں سنن مؤکدہ کی ادائی مسجدوں میں ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کو اس کا علم ہو، اور انہیں عمل کرنے کی ترغیب ہوسکے۔