Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1538

Chapter on Praying the Same Prayer Twice

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Praying the Same Prayer Twice

Zujajat al-Masabih 1538Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1763Noor 1764
عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دن رات میں فرض نمازوں کے علاوہ) کتنی سنتیں ادا فرمایا کرتے تھے؟ ام المؤمنین فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعت سنت ادا فرماتے تھے، پھر باہر تشریف لے جا کر لوگوں کو ظہر کی فرض نماز پڑھاتے، پھر گھر میں تشریف لا کر دو رکعت سنت ادا فرماتے تھے، اور مغرب کی فرض پڑھا کر گھر میں تشریف لاتے اور دو رکعت سنت ادا فرماتے، پھر عشاء کی فرض پڑھا کر گھر میں تشریف لاتے اور دو رکعت سنت ادا فرماتے، اور ان کے علاوہ رات میں نو (9) رکعت نماز ادا، فرماتے تھے جن میں (6 رکعات تہجد کے ہوتے اور 3 رکعت) وتر (کے) ہوتے (تہجد کی یہ تعداد رکعات اس روایت کے الفاظ سے ہے اور روایاتوں میں جو مختلف تعداد رکعات کا ذکر ہے اس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی) اور کبھی کسی رات میں (طویل قرأت کے ساتھ) تہجد کھڑے ہوئے دیر تک ادا فرماتے اور کبھی کسی رات میں دیر تک بیٹھے ہوئے بھی تہجد ادا فرماتے تھے اور جب قیام کی حالت میں قرأت فرماتے تو قیام ہی سے جا کر رکوع اور سجدہ ادا فرماتے تھے اور جب بیٹھے ہوئے قرأت فرماتے تو بیٹھنے ہی کی حالت سے رکوع اور سجدہ میں جاتے تھے اور جب صبح کی نماز کا وقت ہوتا تو (گھر میں) دو رکعت سنت پڑھتے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے) اور ابوداؤد نے یہ اضافہ کیا ہے کہ پھر گھر سے نکلتے تھے اور لوگوں کو فجر کے فرض پڑھاتے۔ اور ترمذی کی روایت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیٹھ کر تہجد پڑھتے تو بیٹھ کر ہی قرأت فرماتے تھے اور جب سورہ کی تقریباً (30یا40) آیتوں کی قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہوجاتے اور کھڑے کھڑے بقیہ آیات پڑھ کر (قیام سے ہی) رکوع کو جاتے اور سجدہ فرماتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 730a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He would pray in my house

(1) His statement: "He would pray in my house" – It is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar: "The preferred place for voluntary prayers (other than Taraweeh) is one's home, unless there is a fear of being preoccupied and missing them. The most correct opinion is that what is most humble and sincere is superior."

Note 1

قوله

(۱) قوله : كان يصلي في بيتي: قال في الدر المختار»، والأفضل في النفل غير التراويح المنزل إلا لخوف شغل عنها، والأصح أفضلية ما كان أخشع وأخلص.

Note 1

ف(1): اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصر سے پہلے اور عشاء سے پہلے کی سنتیں سنت مؤکدہ نہیں ہیں لیکن ان کے پڑھنے میں بڑا ثواب ہے، چنانچہ عصر کے پہلے کی چار رکعت سنتوں کے پڑھنے والے کے بارے میں یہ مذکور ہے کہ ان کو پابندی سے پڑھنے والے کا خاتمہ بالخیر ہوگا ان کی اور فضیلتیں آگے آرہی ہیں۔ ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنتیں گھر میں ادا فرمایا کرتے تھے، درمختار میں لکھا ہے کہ تراویح تو مسجد ہی میں ادا کرنا چاہئے اور اسی طرح معتکف کو بھی سنتیں مسجد ہی میں ادا کرنا چاہئے۔ البتہ تراویح کے سوا جملہ سنتوں کے بارے میں افضل یہ ہے کہ گھر میں ادا کی جائیں، ہاں (اگر گھر میں مشغولیت کی وجہ سنتوں کا ادا کرنا دشوار ہے تو سنتوں کو مسجد میں ادا کرنا چاہئے، اور صحیح ترین قول یہ ہے کہ خواہ مسجد میں ہو یا گھر میں جہاں کہیں زیادہ خشوع اور زیادہ اخلاص پیدا ہو وہیں سنتوں کو ادا کرنا چاہئے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ مرقات میں فرماتے ہیں کہ ابن الملک نے کہا ہے کہ اس حدیث سے سنتوں کا گھر میں ادا کرنا مستحب معلوم ہوتا ہے لیکن علماء سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ ہمارے زمانہ میں سنن مؤکدہ کی ادائی مسجدوں میں ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کو اس کا علم ہو، اور انہیں عمل کرنے کی ترغیب ہوسکے۔