Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1626

بَابُ الْقَصْدِ فِي الْعَمَلِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْقَصْدِ فِي الْعَمَلِ

Zujajat al-Masabih 1626Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٢٦ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، وَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1150 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 784a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

۔ اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو شخص اوراد و وظائف و نوافل افراط سے پڑھ رہا ہو، یعنی اکثر اوقات کثرت سے پڑھا کرتا ہے اگرچہ یہ محمود ہے مگر یہ خیال رہے کہ کہیں تھک کر یا بیزار ہو کر چھوڑ نہ دے، اس لئے اعتدال کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح کوئی شخص اوراد و وظائف و نوافل میں تفریط کر رہا ہے یعنی اس کے نہ اوراد ہیں نہ وظائف ہیں اور نہ نوافل ہیں تو ایسے شخص کو ابھارا جاتا ہے کہ تیری یہ تفریط مناسب نہیں تجھے اعتدال سے اوراد و وظائف و نوافل قائم کرنا چاہئے۔ ایک دن آنے والا ہے کہ جس دن اوراد و وظائف و نوافل پڑھنے والوں کو جو درجات ملیں گے ان کو دیکھ کر یہ پچھتائے گا اور اس وقت پچھتانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ اب وقت ہے کہ تو اوراد و وظائف و نوافل اعتدال کے ساتھ جاری کر تو اعتدال کا جو ارشاد ہوا ہے وہ افراط کرنے والے اور تفریط کرنے والے دونوں کے لئے ہے۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)