Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ · Chapter 34

بَابُ الْقَصْدِ فِي الْعَمَلِ

13 narrations · In source reading order

Hadith 1622

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٢٢ - عَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لَا يَصُوْمَ مِنْهُ شَيْئًا، وَيَصُوْمُ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لَا يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا، وَكَانَ لَا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلَّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "And be moderate in your pace." (Luqman, 31:19)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1141 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1623

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٢٣ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6464 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 783b (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1624

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٢٤ - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «مَنْ آوَى إِلَى فِرَاشِهِ ظَاهِرًا وَذَكَرَ اللهَ حَتَّى يُدْرِكَهُ النُّعَاسُ، لَمْ يَتَقَلَّبْ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ يَسْأَلُ اللهَ فِيْهَا خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ». ذَكَرَهُ النَّوَوِيُّ فِي كِتَابِ الْأَذْكَارِ» بِرِوَايَةِ ابْنِ السِّنِّي.

Hadith 1625

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٢٥ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُوْنَ؛ فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوْا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 43 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1626

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٢٦ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، وَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1150 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 784a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

۔ اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو شخص اوراد و وظائف و نوافل افراط سے پڑھ رہا ہو، یعنی اکثر اوقات کثرت سے پڑھا کرتا ہے اگرچہ یہ محمود ہے مگر یہ خیال رہے کہ کہیں تھک کر یا بیزار ہو کر چھوڑ نہ دے، اس لئے اعتدال کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح کوئی شخص اوراد و وظائف و نوافل میں تفریط کر رہا ہے یعنی اس کے نہ اوراد ہیں نہ وظائف ہیں اور نہ نوافل ہیں تو ایسے شخص کو ابھارا جاتا ہے کہ تیری یہ تفریط مناسب نہیں تجھے اعتدال سے اوراد و وظائف و نوافل قائم کرنا چاہئے۔ ایک دن آنے والا ہے کہ جس دن اوراد و وظائف و نوافل پڑھنے والوں کو جو درجات ملیں گے ان کو دیکھ کر یہ پچھتائے گا اور اس وقت پچھتانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ اب وقت ہے کہ تو اوراد و وظائف و نوافل اعتدال کے ساتھ جاری کر تو اعتدال کا جو ارشاد ہوا ہے وہ افراط کرنے والے اور تفریط کرنے والے دونوں کے لئے ہے۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Hadith 1627

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٢٧ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ، حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ؛ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 212 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 786 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1244 (unverified) 82% confidence

Mishkat (candidate) 1244

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس حدیث شریف کے ترجمہ سے پہلے یہ ضروری بات سن لیجئے: ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگوں کو مشقت میں ڈالنے والی) عبادت کا بے حد شوق تھا اس لئے ان کو اس افراط سے ہٹا کر اعتدال پر لایا گیا ہے لیکن اس زمانہ میں معمولی سے معمولی عبادات بھی مشکل معلوم ہورہی ہیں اس لئے ان کو بھی تفریط سے ہٹا کر اعتدال پر لایا جا رہا ہے، اس تمہید کے بعد حدیث شریف کو سنئے:)

Hadith 1628

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٢٨ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : «إِنَّ الدِّيْنَ يُسْرُ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 39 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1246 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 1246

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1629

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٢٩ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبَّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ، فَيَقَوْلُ اللهُ: لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ عَنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ وَمِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي. وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيْلِ اللهِ فَانْهَزَمَ مَعَ أَصْحَابِهِ، فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الإِنْهِزَامِ وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّى هُرِيْقَ دَمُهُ، فَيَقَوْلُ اللهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ؛ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي، حَتَّى هُرِيْقَ دَمُهُ. رَوَاهُ صَاحِبُ الْمَصَابِيحِ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ».
Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اللہ تعالیٰ بہت بڑے قدر دان ہیں، ان کی قدر دانی کی ایک چھوٹی مثال وہ ہے۔ جس کو)

Hadith 1630

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٣٠ - وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيْمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 747 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1631

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٣١ - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «صَلَّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِي: «فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَمُسْتَلْقِيًا1 {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} (البقرة: ٢٨٦).
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1117 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1248 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1248

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) The ruling on lying on one's back is that it is preferable in our school of thought over lying on one's side. The hadith of Imran is not a general proof, as it was addressed to him specifically due to his illness (hemorrhoids), which prevented him from lying on his back. Therefore, it is not a general ruling for the Ummah. Preference is given to the meaning, which is that lying on one's back allows one to face the Qiblah, fulfilling the obligation, unlike lying on one's side. For example, if one prostrates while lying on their back, it is directed toward the Qiblah, whereas lying on one's side would not face the Qiblah. This is mentioned in Al-Maraqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فمستلقيا واعلم أن الاستلقاء في مذهبنا أفضل من الاضطجاع، ولا ينتهض حديث عمران حجة على العموم؛ فإنه خطاب له، وكان مرضه البواسير، وهو يمنع الاستلقاء، فلا يكون خطابه خطابا للأمة، فوجب الترجيحبالمعنى، وهو أن المستلقي تقع إشارته إلى جهة القبلة، وبه يتأدى الفرض، بخلاف الآخر. ألا ترى أنه لو حققه مستلقيا كان سجودا وركوعا إلى القبلة، ولو أتمه على جنب كان إلى غير جهتها. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: صدر کی دونوں حدیثوں سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا ہو، اس کے بارے میں ایک حدیث میں کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔ اور دوسری حدیث میں چت لیٹ کر نماز پڑھنے کا حنفی مذہب میں دونوں طرح سے نماز پڑھنا جائز ہے، چاہیں تو کروٹ لیٹ کر نماز پڑھیں، یا چت لیٹ کر، مگر چت لیٹ کر نماز پڑھنا افضل ہے، افضل ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم خاص عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو ان کے چت لیٹنے پر قادر نہ ہونے سے دیا گیا تھا چونکہ وہ بواسیر کے مرض کا شکار تھے اور چت لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم عام طور پر دیا گیا ہے، عمران رضی اللہ عنہ کے لئے جو چیز افضل قرار دی گئی ہے اس کو سب بیماروں کے لئے افضل قرار دینا مناسب نہیں بلکہ چت لیٹ کر نماز پڑھنے کو ترجیح دے کر افضل قرار دینا چاہئے، اس لئے کہ چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لئے اشارہ کا موقع آتا ہے تو قبلہ کی طرف ہی رخ رہتا ہے، اور کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے میں جب رکوع اور سجدہ کے لئے اشارہ کا موقع آتا ہے تو قبلہ سے رخ ہٹ جاتا ہے، حالانکہ نماز میں استقبال قبلہ فرض ہے، چونکہ کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبلہ کی جہت باقی نہیں رہتی، اور چت لیٹ کر نماز پڑھنے میں قبلہ کی جہت باقی رہتی ہے، اسی لئے چت لیٹ کر نماز پڑھنا کروٹ لیٹ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور یہی مذہب حنفی ہے (مرقات)۔

Hadith 1632

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٣٢ - وَعَنْهُ : أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا قَالَ: «إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا2 فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1115 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

(2) Al-Khattabi said: This refers to a sick person who is obligated to pray and could force himself to stand but with difficulty. Thus, his reward is doubled if he prays sitting, as an encouragement, even though praying lying down is permissible. Similarly, if he forces himself to stand despite the difficulty, his reward is doubled compared to praying sitting. This is mentioned in Majma' al-Bihar. In Al-Maraqat, it is stated: Is it permissible to pray voluntary prayers lying down when one is capable of standing or sitting? According to Abu Hanifah, it is not permissible. It is said that this hadith refers to an obligated sick person who could stand or sit but with difficulty and increased illness.

Note 2

قوله

(۲) قوله: ومن صلى نائما إلخ: قال الخطابي: إن المراد به المريض المفترض الذي يمكنه أن يتحامل فيقدر مع مشقة، فجعل أجره ضعف أجره إذا صلى نائما؛ ترغيبا له في القعود مع جواز صلاته نائما، وكذا جعل صلاته إذا تحامل وقام مع مشقة، ضعف صلاته إذا صلى قاعدا، كذا في مجمع البحار»، وقال في «المرقاة: وهل يجوز أن يصلي التطوع نائما مع القدرة على القيام أو القعود؟ فمذهب أبي حنيفة أنه لا يجوز، فقيل: هذا الحديث في حق المفترض المريض الذي أمكنه القيام أو القعود مع شدة وزيادة في المرض.

Hadith 1633

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٣٣ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو (رضي الله عنهما) قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ»، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو ؟ قُلْتُ : حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَّكَ قُلْتَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلَاةِ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا؟ قَالَ: «أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 735a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1634

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٣٤ - وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ: لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ، فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «أَقِمْ الصَّلَاةَ يَا بِلَالُ، أَرِحْنَا بِهَا». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4985 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1253 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1253

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہے بلکہ میرا مطلب یہ تھا کہ نماز شروع ہوجاتی، دنیا کے مشاغل سے بچ جاتے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ راز و نیاز کرنے میں راحت حاصل ہوتی۔ یہ میرا مطلب تھا لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ غلط سمجھا ہے، میں جس لحاظ سے کہا تھا اسی لحاظ سے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اکثر فرمایا ہے۔ بلال! نماز کی تکبیر کہو! نماز شروع ہوجائے تو ہم کو نماز میں اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرنے میں راحت ملتی ہے (اسی وجہ سے حضور نے فرمایا ہے کہ نماز میں مجھے جو لطف ملتا ہے اس سے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، خزانہ کے ان صاحب نے جو کہا تھا اس سے ان کی مراد یہی ہے کہ لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ مناسب نہیں۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)