گزشتہ قوموں پر جو دنیوی عذاب آیا تھا، مثلاً کوئی مسخ کئے گئے، کوئی غرق کئے گئے، کسی کو
زمین میں دھنسا دیا گیا، کسی پر کچھ دنیوی عذاب آیا، اور کسی پر کچھ، یہ سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے پیش نظر تھا، اور یہ بھی آپ کو معلوم ہوا کہ کفار دائمی طور پر دوزخ میں رہیں گے، آپ سراپا
رحمت تھے، چاہتے تھے کہ اپنی امت پر نہ ویسا دنیوی عذاب آئے نہ اخروی دوزخ کا دائمی عذاب
رہے، ہمیشہ امت آپ کے پیش نظر رہتی تھی، اپنی امت کو اس طرح کے دنیوی اور اخروی دائمی
عذاب سے بچانے کی فکر رہتی تھی، اس وجہ سے آپ کبھی رات رات بھر روتے رہتے کہ کس طرح میں
اپنی امت کو اس طرح کے دنیوی عذاب اور اخروی دائمی عذاب سے بچاؤں؟
Commentary and footnotes (1)
Note 1
گزشتہ قوموں پر جو دنیوی عذاب آیا تھا، مثلاً کوئی مسخ کئے گئے، کوئی غرق کئے گئے، کسی کو زمین میں دھنسا دیا گیا، کسی پر کچھ دنیوی عذاب آیا، اور کسی پر کچھ، یہ سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیش نظر تھا، اور یہ بھی آپ کو معلوم ہوا کہ کفار دائمی طور پر دوزخ میں رہیں گے، آپ سراپا رحمت تھے، چاہتے تھے کہ اپنی امت پر نہ ویسا دنیوی عذاب آئے نہ اخروی دوزخ کا دائمی عذاب رہے، ہمیشہ امت آپ کے پیش نظر رہتی تھی، اپنی امت کو اس طرح کے دنیوی اور اخروی دائمی عذاب سے بچانے کی فکر رہتی تھی، اس وجہ سے آپ کبھی رات رات بھر روتے رہتے کہ کس طرح میں اپنی امت کو اس طرح کے دنیوی عذاب اور اخروی دائمی عذاب سے بچاؤں؟