English
Abu Ja’far reported: "The Prophet (ﷺ) saw a man from the Nughashi tribe prostrating in gratitude." [Narrated by Al-Daraqutni as a mursal hadith]
In Sharh al-Sunnah, the wording is similar to Al-Masabih.
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۹۳۷ - وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ رَأَى رَجُلًا مِنَ النُّغَاشِيِّيْنَ فَخَرَّ سَاجِدًا. رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ مُرْسَلًا . وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ» لَفْظُ الْمَصَابِيحِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2261
ابوجعفر یعنی حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں، کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک شخص کو دیکھے جو بونا (ناقص الخلقت تھا) اس کو دیکھ کر (اس طرح)
آپ سجدۂ شکر ادا کئے (کہ بونے کو اس کی خبر نہ ہوئی اور آہستہ فرمائے۔ ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي
عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ“) الٰہی میں آپ کا کیا شکر ادا کروں کہ جس بلاء میں اس بونے کو ابتلاء
کئے ہیں مجھے آپ اس سے بچائے ہیں۔ (آہستہ اس لئے کہے تا کہ خبر نہ ہو، اور اس طرح کہنے سے
اس کی دل شکنی نہ ہو۔) اس حدیث کی روایت دارقطنی نے مرسلاً کی ہے اور شرح السنہ میں مصابیح
کے الفاظ سے اس کی روایت کی گئی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
گزشتہ قوموں پر جو دنیوی عذاب آیا تھا، مثلاً کوئی مسخ کئے گئے، کوئی غرق کئے گئے، کسی کو زمین میں دھنسا دیا گیا، کسی پر کچھ دنیوی عذاب آیا، اور کسی پر کچھ، یہ سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیش نظر تھا، اور یہ بھی آپ کو معلوم ہوا کہ کفار دائمی طور پر دوزخ میں رہیں گے، آپ سراپا رحمت تھے، چاہتے تھے کہ اپنی امت پر نہ ویسا دنیوی عذاب آئے نہ اخروی دوزخ کا دائمی عذاب رہے، ہمیشہ امت آپ کے پیش نظر رہتی تھی، اپنی امت کو اس طرح کے دنیوی اور اخروی دائمی عذاب سے بچانے کی فکر رہتی تھی، اس وجہ سے آپ کبھی رات رات بھر روتے رہتے کہ کس طرح میں اپنی امت کو اس طرح کے دنیوی عذاب اور اخروی دائمی عذاب سے بچاؤں؟