Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْجَنَائِزِ

Hadith 2080

بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ مَنْ حَضَرَهُ الْمَوْتُ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْجَنَائِزِ

بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ مَنْ حَضَرَهُ الْمَوْتُ

Zujajat al-Masabih 2080Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۰۸۰ - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رضي الله عنه) قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيَّ ﷺ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، وَلَمَّا يُلْحَدْ فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ، وَفِي يَدِهِ عُوْدُ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «اسْتَعِيذُوْا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعِ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةُ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ، مَعَهُمْ كَفَنُ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ وَحَنُوطُ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَجْلِسُوْا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَيَقُولُ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ. قَالَ: فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السَّقَاءِ، فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوْهَا، فَيَجْعَلُوْهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ. قَالَ: فَيَصْعَدُوْنَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّوْنَ يَعْنِي بِهَا عَلَى مَلَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوْحُ الطَّيِّبُ؟ فَيَقُوْلُوْنَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّوْنَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحُوْنَ لَهُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ، فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوْهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَيَقُوْلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلَّيِّينَ، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ؛ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى. قَالَ: فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُوْلَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُوْلَانِ لَهُ : مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُوْلَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هُوَ رَسُوْلُ اللهِ ، فَيَقُوْلَانِ لَهُ: وَمَا عِلْمُكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ. فَيُنَادِي مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ: أَنْ صَدَقَ عَبْدِي؛ فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوْا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ. قَالَ: فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ. قَالَ: وَيَأْتِيْهُ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ حَسَنُ الثَّيَابِ طَيِّبُ الرِّيحِ، فَيَقُوْلُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوْعَدُ، فَيَقُوْلُ لَهُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ، فَيَقُوْلُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ، فَيَقُولُ: رَبِّ أَقِمُ السَّاعَةَ، رَبِّ أَقِمُ السَّاعَةَ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي. قَالَ: وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعِ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةُ سُوْدُ الْوُجُوهِ، مَعَهُمُ الْمُسُوحُ، فَيَجْلِسُوْنَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَغَضَبٍ، قَالَ: فَتُفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ، فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوْهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوْهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوْحِ وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحٍ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ. فَيَصْعَدُوْنَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّوْنَ بِهَا عَلَى مَلَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوْحُ الْخَبِيثُ؟ فَيَقُوْلُوْنَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَقْبَح أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ، فَلَا يُفْتَحُ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ {لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ} (الأعراف : ٤٠) فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى فَتُطْرَحُ رُوْحُهُ طَرْحًا ثُمَّ قَرَأُ ﴿ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِى بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ} (الحج: (٣١) فَتُعَادُ رُوْحُهُ فِي جَسَدِهِ. وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُوْلَانِ لَهُ : مَنْ رَبِّكَ؟ فَيَقُوْلُ: هَاهُ هَاهُ، لَا أَدْرِي فَيَقُوْلَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهُ هَاهُ، لَا أَدْرِي، فَيَقُوْلَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُوْلُ: هَاهُ هَاهُ، لَا أَدْرِي. فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ كَذَبَ؛ فَافْرِشُوْا لَهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوْا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ. فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُوْمِهَا، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ، وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثَّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُوْلُ : أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوْعَدُ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ. فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ، فَيَقُوْلُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ، فَيَقُولُ: رَبِّ لَا تُقِمُ السَّاعَةَ». وَفِي رِوَايَةٍ نَحْوُهُ. وَزَادَ فِيْهِ: إِذَا خَرَجَ رُوْحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَكُلُّ مَلَكِ فِي السَّمَاءِ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُوْنَ اللَّهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوْحِهِ مِنْ قِبَلِهِمْ. وَتُنْزَعُ نَفَسُهُ يَعْنِي الْكَافِرَ مَعَ الْعُرُوْقِ، فَيَلْعَنَهُ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُوْنَ اللَّهَ أَنْ لَا يُعْرَجَ رُوْحُهُ مِنْ قِبَلِهِمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي سُنَنِهِ، وَالْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ، وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي مُصَنَّفِهِ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَالطَّيَالِسِيُّ وَعَبْدٌ 1 فِي مُسْتَدَيْهِمَا، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي الزُّهْدِ، وَابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ مِنْ طُرُقٍ صَحِيْحَةٍ، وَقَالَ مِيْرَكَ: حَدِيثُ أَحْمَدَ حَدِيْثٌ حَسَنٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4753 (unverified) 99% confidence · Validation similarity: 0.535
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1630 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 1630

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

'Abd

(1) His statement: "'Abd" refers to 'Abd ibn Humaid, the first to write a Tafsir. This is mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: عبد: أراد بقوله: «عبد» عبد بن حميد، أول من كتب في التفسير. كذا في «المرقاة».

Note 1

شرک بہت بری بلا ہے، آسمان کا دروازہ مشرک کے لئے نہ کھلنا کیا کم ذلت ہے، پھر زمین کی طرف پھینک دیا جانا، اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہوگی، راستہ میں فرشتوں سے طرح طرح کی اذیت اٹھاتے ہوئے سجین میں جا گرنا اور وہاں طرح طرح کی ایذاء اٹھاتے رہنا یہ انتہائی ذلت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی جائے گی، اس کافر کی روح کا تعلق اس کے جسد سے یا جسم کے کسی حصہ سے کر دیا جائے گا، پھر منکر و نکیر اس کے پاس موجود ہوں گے اور بٹھا کر سوال کریں گے، بتا تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کافر (حیران ہو گا کہ کیا جواب دوں، جب تک میں دنیا میں رہا، مسلمان جس ذات مبارک کو رب مانتے تھے، میں ان کو جھٹلاتا رہا اب میں کس کو رب کہوں، یہاں بھی اسی طرح کہتا ہوں) میں نہیں جانتا کہ رب کون ہے! پھر منکر و نکیر دریافت کریں گے اچھا یہ بتا کہ تیرا دین کیا تھا (تو یہ کافر مردہ سمجھے گا میرا دین تو کفر و شرک سے بھرا ہوا تھا اگر میں اپنے دین کا نام لوں تو اپنے آپ کو اپنی زبان سے مجرم ٹھہرانا پڑے گا اس لئے) کافر مردہ کہے گا مجھے نہیں معلوم کہ میرا دین کیا تھا، پھر منکر و نکیر دریافت کریں گے کہ تو دنیا میں سنا ہو گا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول ہو کر آئے تھے ان کی نسبت تیرا کیا خیال تھا (تو کافر مردہ خیال کرے گا کہ عالم برزخ میں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بول بالا ہے اگر میں ان کی رسالت کا انکار کروں تو اپنے منہ سے آپ ملزم ٹھہرتا ہوں اس لئے) کہے گا میں نہیں جانتا کہ وہ کون تھے؟ یہ جواب ختم ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پکارے گا کہ اس خبیث کافر کو دنیا میں سب کچھ معلوم تھا، جھٹلاتا ہی رہا، اب بھی باوجود معلوم ہونے کے جھوٹ کہہ رہا ہے، اس جھوٹ کے لئے آگ کا بچھونا بچھا دو (تا کہ اس کو ایک آن بھی آرام نہ ملے) اور دوزخ کی طرف سے ایک دروازہ کھول دو، (تا کہ وہ دوزخ میں اپنا مقام دیکھتا رہتا کہ یہ بھی اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا رہے اور دوزخ کی طرف سے) دروازہ کھلنے سے ناقابل برداشت حرارت اور دوزخ کی آگ کی لو (اور دوزخ کی بدبو) اس کو پہنچتی رہے (تاکہ قبر کے عذاب پر یہ عذاب زیادہ ہو جائے) پھر اس کافر کی قبر ایسی تنگ کی جائے گی کہ جس کے دبوچنے سے کافر کی پسلیاں اِدھر کی اُدھر اور اُدھر کی اِدھر ہو جائیں گی (کافر کے لئے بجائے خود یہ بھی ایک عذاب ہوگا) پھر کافر کیا دیکھے گا کہ اس کے پاس ایک شخص آ رہا ہے نہایت بدشکل (کہ جس کا دیکھنا ہی بجائے خود عذاب ہے) کپڑے بھی اس کے (اس کی صورت کے جیسے) بد نما رہیں گے، اور بدبو اس سے اس قدر آ رہی ہوگی (کہ جس سے دماغ پھٹا جا رہا ہو) ایسا بدشکل شخص آ کر کافر مردہ سے کہے گا طرح طرح کے عذاب کی تجھے خبر دی جاتی ہے (دنیا میں) جس دن سے تجھے ڈرایا جاتا تھا (اور جس کا تو انکار کرتا تھا) دیکھ آج یہ وہی دن ہے، کافر مردہ کہے گا (کہ میں خود عذاب میں ہوں تو اور عذاب کی خبر دینے آیا ہے) تو کون ہے؟ تیری کیا منحوس صورت ہے کہ تیری صورت دیکھنا ہی عذاب معلوم ہوتا ہے، تو وہ بدشکل آنے والا کہے گا تو مجھے نہیں پہچانا، میں تیرا برا عمل ہوں (کم بخت تو نے دنیا میں کیا کیا کفر و شرک میں رہا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا رہا، اگر کوئی کہے کہ تجھے یہ دن دیکھنا ہوگا تو تو اس کو مذاق میں اڑاتا رہا، کبھی اس کو غصہ سے جھڑکتا رہا، کافر مردہ سمجھے گا کہ میرے اعمال مجھے دکھائے گئے ہیں، برے اعمال سے دوزخ ملتی ہے) خدا کرے کہ قیامت نہ آئے (تاکہ بُرے اعمال کے بدلہ میں دوزخ میں جانا نہ پڑے) ایک روایت تو یہاں ختم ہوئی۔

Note 2

اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور اس کی روایت ابوداؤد نے اپنی سنن میں اور حاکم نے اپنی مستدرک میں ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں اور بیہقی نے کتاب عذاب القبر میں اور طیالسی نے اپنی مسند میں اور عبد بن حمید نے اپنی مسند میں اور ہناد بن السری نے کتاب الزہد میں اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صحیح طرق سے اس کی روایت کی ہے اور میرک نے کہا ہے کہ امام احمد کی حدیث حسن ہے۔ روح انسانی عالم ملکوت کی رہنے والی مثل فرشتوں کے ہے جیسے فرشتے ایک ہی وقت میں کئی جگہ دکھائی دے سکتے ہیں اور جیسے ملک الموت ہر مرنے والے کے پاس دکھائی دیتے ہیں، ایسا ہی روح انسانی بھی کئی جگہ دکھائی دے سکتی ہے، مگر جب جسم انسانی میں روح مقید ہوتی ہے تو اس سے یہ صفت نکل جاتی ہے، کئی جگہ نظر نہیں آسکتی ہے مگر اولیاء اللہ کے جسم میں جو روح ہوتی ہے اس روح میں اس کی اصلی صفت پائی جاتی ہے کہ باوجود جسم میں ہونے کے ایک وقت میں کئی جگہ نظر آ سکتی ہے، جیسے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ایک ہی وقت میں سات دعوتوں میں نظر آئے، جسم سے نکلنے کے بعد روح میں اس کی اصلی صفت لوٹ آتی ہے، کچھ اولیاء اللہ کی تخصیص نہیں بلکہ ہر مسلمان کی روح ایک وقت میں کئی جگہ رہ سکتی ہے، اسی لئے روح کا اصلی مقام علیین ہے قبر سے بھی اس کا تعلق رہتا ہے، قبر پر آنے والوں کو پہچانتی اور ان کے سلام کا جواب دیتی ہے، اس جسم خاکی کے ساتھ روح جنت میں نہیں جاسکتی، ہاں قیامت کے بعد جسم خاکی میں ہو کر روح جنت میں داخل ہوگی۔ بغیر جسم خاکی کے اب بھی روح جنت میں جاسکتی ہے، جیسے اس حدیث میں: