Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2080

(جس شخص پر موت کے آثار و علامات ظاہر ہوگئے ہیں اور یقین ہوگیا ہو کہ یہ شخص

In this book

Current reading

Funerals

(جس شخص پر موت کے آثار و علامات ظاہر ہوگئے ہیں اور یقین ہوگیا ہو کہ یہ شخص

Zujajat al-Masabih 2080Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2415Noor 2416
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازہ کے ساتھ گئے اور قبر تک پہونچے، ابھی قبر کھد کر تیار نہیں ہوئی تھی (قبر تیار ہونے کا انتظار تھا) اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہو گئے اور ہم بھی آپ کے اطراف (انتہائی ادب اور سکون سے) بیٹھ گئے (کیا کہوں اس وقت صحابہ کی کیا حالت تھی، رعب و ہیبت سب پر چھائی ہوئی تھی، سب کے سب سر جھکائے ہوئے تھے، کوئی ادھر ادھر نہیں دیکھ رہا تھا، ایسے بے حس و حرکت تھے) معلوم ہو رہا تھا کہ سب کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں (پرندے کی عادت ہے کہ وہ متحرک چیز پر نہیں بیٹھتا ہے، صحابہ بھی ایسے ہی بے حس و حرکت بیٹھے ہوئے تھے، صحابہ کرام کی تو یہ حالت تھی، اور حضور کی حالت مبارک کیا کہوں؟ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ انتہا درجہ کی فکر میں ہیں، جیسے متفکر شخص زمین کریدتا ہے ایسے ہی) حضور کے دست مبارک میں بھی ایک لکڑی تھی، اور آپ اس لکڑی سے زمین کرید رہے تھے، پھر سر مبارک کو اٹھا نے (اور صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہو کر) دو یا تین بار فرمایا اے صاحبو! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو (یہ قبر کسی کے لئے جنت کی کیاری ہے تو کسی کے لئے دوزخ کا گڑھا) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: جب مسلمان دنیا سے جا رہا ہو، اور آخرت اس کے سامنے ہو گئی ہو تو (اس کی شان اور عزت ظاہر کرنے کے لئے) آسمان سے ایسے فرشتے آتے ہیں جن کے چہرے نورانی ہوتے ہیں، اور جو آفتاب کی طرح چمکتے رہتے ہیں اور ان فرشتوں کے ساتھ جنت کا ریشمی کفن ہوتا ہے اور وہ جنت کی خوشبودار چیزیں بھی لاتے ہیں (تاکہ اس کو خوشبو میں بسائیں) پھر یہ فرشتے (کمال ادب سے) کسی قدر فاصلہ سے اس کے قریب بیٹھ جاتے ہیں (اور اس کی روح کے نکلنے کا انتظار کرتے ہیں) پھر ملک الموت اس مرنے والے کے سرہانے آ کر بیٹھتے ہیں، اور (بہت نرمی سے اس مرنے والے کی روح سے) کہتے ہیں، اے پاک روح (دنیا میں تو اللہ کی فرماں بردار رہی) اب نکل آ (دیکھ اس کا صلہ تجھے یہ ملتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہیں (اور طرح طرح کی نعمتیں تیرے لئے تیار ہیں) اور اللہ تعالیٰ نے تیری مغفرت فرما دی ہے (جب سکرات شروع ہوئی تھی تو اس وقت سکرات کی تکلیف اور شدت رہی تاکہ روح پاک وصاف ہو جائے پھر ملک الموت سے یہ خوش خبری سن کر) روح خوش خوش جسم سے ایسے جدا نکلتی ہے جیسے مشکیزہ سے پانی کا قطرہ آسانی سے نکلتا ہے، جسم سے نکلی ہوئی یہ روح ملک الموت کے ہاتھ میں بہت دیر تک نہیں رہتی ہے، آسمان سے آئے ہوئے فرشتے (جو اس روح کے اشتیاق میں تھے) پلک جھپکنے تک اس روح کو لے کر (نہایت ادب سے) جنت کا کفن پہناتے ہیں اور جنت کی خوشبو لگاتے ہیں، پھر اس روح سے ایسی خوشبو مہکتی ہے کہ زمین پر تو ایسی خوشبو کبھی نہیں پائی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر ارشاد فرمائے کہ پھر فرشتے اس روح کو لئے ہوئے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں راستے میں فرشتوں کی جس جماعت پر سے اس روح کو لے کر یہ فرشتے گزرتے ہیں تو وہ فرشتے پوچھتے ہیں کہ یہ کس شخص کی پاک روح ہے تو ساتھ والے فرشتے (بڑی تعظیم سے) جواب دیتے ہیں اور جس نام اور جس صفت سے دنیا میں یہ تعظیم سے پکارا جاتا تھا اس نام اور اس صفت کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہیں پھر (اسی تعظیم کے ساتھ) روح کو لے جانے والے فرشتے اس روح کو لئے ہوئے آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں اور اس روح کے لئے آسمان کا دروازہ کھلواتے ہیں تو آسمان دنیا کے دروازے کے دربان اس دنیا سے آئی ہوئی روح اور اس کے ساتھ والے فرشتوں کے لئے دروازہ کھول دیتے ہیں (اسی عزت کے ساتھ) اس کو ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پہنچاتے ہیں، ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کے ساتھ ساتھ جلو میں چلتے ہیں (تاکہ اس کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا رہے) اسی طرح سارے آسمانوں سے گزرتے ہوئے اس روح کو ساتویں آسمان تک پہنچاتے ہیں (ساتویں آسمان میں اللہ تعالیٰ کی خاص تجلیات ہوتی رہتی ہیں، ان تجلیات سے) ارشاد ہوتا ہے اس (فرماں بردار مسلمان) کی روح کو علّیین میں لے جاؤ، علّیین میں اس کا نامہ اعمال رکھو اور اس روح کا اصلی مقام علّیین کو بناؤ اور اس روح کا تعلق قبر سے اور اس کے جسم سے (ایسا) رکھو (جیسے آفتاب آسمانوں میں ہے اور اس کا تعلق زمین سے اس طرح ہے کہ زمین پر روشنی اور گرمی پہنچاتا ہے، یا یوں سمجھئے کہ سونے والے کی روح جسم میں ہے اور ہر جگہ سیر کر آتی ہے، ایسے ہی مسلمان کی روح رہتی تو علّیین میں ہے مگر اس کا تعلق قبر سے اور جسم سے ایسا ہوتا ہے کہ قبر آنے والے کو یہ روح پہچان لیتی ہے، قبر سے اور جسم سے ایسا تعلق اس لئے رکھو) کہ میں انسان کو خاک سے پیدا کیا ہوں اور انسان کے جسم کو اگرچہ خاک میں ملا دیا ہوں پھر خاک ہی سے قیامت کے دن اس کو اٹھاؤں گا (کیوں کہ جب میں انسان کو خاک سے پیدا کر کے اس کی روح کا تعلق خاک سے رکھ کر اس کو چلتا پھرتا انسان بنایا تھا اور جیسا کہ قیامت میں اس کی روح کا خاکی جسم سے تعلق رکھ کر اس کو میدان قیامت میں لا کھڑا کروں گا، ایسا ہی قبر میں بھی) اس کے خاکی جسم کے ساتھ روح کا تعلق رکھو (تاکہ قبر پر آنے والوں کو پہچان سکے اور منکر و نکیر جب آئیں تو ان کو جواب دے سکے) جب اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل ہو جائے گی اور خاکی جسم سے روح کا تعلق ہو جائے گا تو منکر و نکیر دو فرشتے اس کو آ کر بٹھائیں گے اور اس سے دریافت کریں گے ”مَنْ رَبُّكَ؟“ اچھا یہ تو بتاؤ کہ تمہارا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا میرا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس کے سوائے میرا کوئی رب نہیں ہے، پھر منکر و نکیر دریافت کریں گے کہ تمہارا دین کیا ہے؟ (تم کس دین پر رہے ہو تو) یہ کہے گا کہ اللہ کا دین یعنی اسلام میرا دین تھا اور میں اسلام پر رہا تھا پھر اس کی قبر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف تک ایک راستہ ہو جائے گا پھر اس سے منکر ونکیر دریافت کریں گے اچھا کہو یہ صاحب کون ہیں، کیا یہ وہی ہیں جو تمہارے پاس پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے؟ (تو اس شخص پر نور ایمان سے واضح ہو جائے گا اور) وہ کہے گا (روحی فداہ! میری جان آپ پر سے قربان) یہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، یہی میرے رسول اور نبی ہیں، پھر منکر ونکیر اس سے دریافت کریں گے کیسے تم کو معلوم ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول اور نبی ہیں؟ تو مسلمان مردہ جواب دے گا، آفتاب آمد، دلیل آفتاب، آفتاب کے ہونے پر خود آفتاب دلیل ہے، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نبی اور رسول ہونا آفتاب کی طرح بالکل واضح اور ظاہر ہے اور رسول اور نبیوں کے نبی ہونے پر جو پاکیزہ اوصاف دلیل تھے وہ سب پاکیزہ اوصاف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پائے گئے، اس عقلی دلیل سے مجھے یقین ہو گیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول اور نبی ہیں اور پیغمبروں کو معجزات دئے گئے، کسی کو دو اور کسی کو چار، حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام جیسے جلیل القدر نبی کو نو معجزات دئے گئے تھے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساڑھے چار ہزار معجزے دئے گئے تھے، اس سے بھی ثابت ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول اور نبی ہیں یہ دوسری عقلی دلیل ہے، ایسا ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول اور نبی ہونے پر نقلی دلیل بھی ہے) ہم مسلمانوں کو قرآن دیا گیا (اور بہت تاکید سے فرمایا گیا کہ اگر کسی سے ہو سکے تو اس کی چھوٹی سورۃ کے جیسا بنا کر لاؤ، باوجود عرب فصیح اور بلیغ ہونے کے قرآن کے چھوٹے سورہ کے جیسا سورۃ بنانے سے عاجز ہو گئے، کوئی نہ بنا سکا) اس سے میں سمجھا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے) کسی بشر کا کلام نہیں اور قرآن میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول اور نبی کہا گیا ہے، اس نقلی دلیل سے) میں سمجھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقیناً نبی اور رسول ہیں پھر (جب مسلمان مردہ یہ کہہ چکے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی اس طرح قدر افزائی کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اس طرح ندا کی جائے گی کہ میرا بندہ سچ کہا اس کا صلہ اس کو دیا جائے (کہ عالم برزخ میں جہاں اس کا مقام ہے) وہاں جنت کا اس کے لئے فرش بچھایا جائے اور اس کو جنت کا لباس پہنایا جائے کہ وہ جنت میں جانے سے پہلے جنت کی نعمتوں کا لطف اٹھاتا رہے اور جنت کی طرف سے اس کے لئے ایک دروازہ کھولا جائے (تاکہ وہ جنت میں اپنے مقام کو دیکھ کر بیحد مسرور رہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی ارشاد فرمائے ہیں، کہ جنت کی طرف سے دروازہ کھلنے سے جنت کی ہوا اور جنت کی خوشبو اس کو آتی رہے گی، جس سے یہ بے حد محظوظ ہوتا رہے گا، تنگی مقام بھی ایک قسم کی تکلیف کا باعث ہوتا ہے) مسلمان مردے کے لئے (جب ہر طرح کا قبر میں آرام اور راحت جمع کر دی گئی ہے تو جہاں تک) اس کی نگاہ پہنچتی ہے، قبر میں (وہاں تک) اس کا مقام وسیع کر دیا جاتا ہے (تاکہ وسعت مقام کی وجہ سے وہ راحت حاصل کرتا رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمان مردہ پھر کیا دیکھتا ہے کہ اس کے پاس ایک شخص آ رہا ہے، کیا کہوں اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، ایسا حسین کہ کہیں دیکھنے میں نہیں آیا اور اس کا لباس بھی نہایت پاکیزہ اور صاف و ستھرا رہے گا اور اس سے نہایت خوشبو مہک رہی ہوگی، ایسا شخص آ کر مسلمان مردہ سے کہے گا، تم کو خوش خبری دیتا ہوں کہ تمہارے لئے ہر قسم کی راحت اور نعمت تیار ہے جس سے تم نہایت مسرور ہوں گے، کچھ تم کو خبر بھی ہے، یہ وہی دن ہے جس کی تم کو دنیا میں خبر دی گئی تھی، مسلمان مردہ اس آنے والے خوبصورت شخص سے پوچھے گا، صاحب! تم کون ہو؟ کیا چہرہ ہے تمہارا! جس سے بے حد مسرت حاصل ہو رہی ہے تم کو دیکھنے ہی سے طرح طرح کے خیر و برکات حاصل ہو رہے ہیں، وہ خوبصورت شخص جواب دے گا (تم مجھے نہیں پہچانتے؟) میں تمہارا نیک عمل ہوں (اس صورت میں متمثل ہو کر آیا ہوں تاکہ تم کو خوش خبری دوں) مسلمان مردہ جب سنے کہ یہ خود اس کے ہی نیک عمل ہیں (تو اس کو ایک امید بندھے گی اور اس کو یاد آ جائے گا کہ نیک اعمال سے جنت ملتی ہے، میرے نیک اعمال جب ایسے ہیں تو اب مجھے امید ہو رہی ہے جنت ملنے کی، اس لئے) دعا کرے گا، الہی! جلدی قیامت قائم کیجئے تاکہ مجھے میرے نیک اعمال کا بدلہ جنت ملے اور مجھے میرے اہل یعنی حور و غلمان ملیں اور مال یعنی جنت کے راحت و آرام کا سامان ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کافر کے لئے دنیا چھوڑنے کا اور آخرت کی طرف چلنے کا وقت آتا ہے (اور سکرات شروع ہو جاتی ہے) تو اس کے پاس آسمان سے (عذاب کے) فرشتے آتے ہیں، ان کے سیاہ چہروں سے ہیبت اور خوف طاری ہوتا ہے اور یہ اپنے ساتھ ٹاٹ لیتے ہوئے آتے ہیں (اس مرنے والے کافر پر اللہ تعالیٰ بہت غضبناک رہتے ہیں، اس لئے فرشتوں کو اس سے نفرت رہتی ہے اور) اسی لئے آ کر وہ دور بیٹھے رہتے ہیں (اور اس کی روح نکلنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں) پھر ملک الموت آ جاتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ کر یہ کہتے ہیں (کہ تو کفر و شرک کر کے دنیا میں کیا بری زندگی کیا، اس کے اثر سے تیری روح خبیث ہوگئی ہے اب) اپنے جسم سے نکل (اے خبیث روح) دیکھ کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر کس قدر غضبناک ہیں، اس بری خبر کے سننے سے روح کو جسم سے نکلنا بہت ناگوار ہوتا ہے، وہ جسم سے نکلنا نہیں چاہتی ہے اور جسم میں چھپتی پھرتی ہے تو) ملک الموت اس روح کو جسم سے بہت سختی کے ساتھ اس طرح کھینچ کر نکالتے ہیں جیسے کانٹے دار چیز کو تر کپڑے سے نکالا جائے تو کپڑا تار تار ہو جاتا ہے (ایسے ہی روح کو سختی کے ساتھ نکالنے کی وجہ سے جسم کو ناقابل برداشت تکلیف ہوتی ہے) جو فرشتے روح نکلنے کے منتظر تھے وہ ملک الموت کے ہاتھ میں اس روح کو ایک پلک مارنے کے برابر (تھوڑی دیر) بھی نہیں رہنے دیتے ہیں، فوراً ملک الموت کے ہاتھ سے لے کر (ذلت و اہانت ظاہر کرنے کے لئے) ٹاٹ میں لپیٹتے ہیں، اس وقت اس روح سے ایسی بدبو پھیلتی ہے جیسے سڑے ہوئے مردار سے بدبو نکل کر دماغ کو پریشان کر دیتی ہے روئے زمین پر ایسی بدبو کسی میں نہیں ہوگی، جیسی بدبو اس روح میں ہوتی ہے اس بدبودار روح کو لئے ہوئے فرشتے آسمان پر چڑھتے ہیں، زمین و آسمان کے بیچ میں جہاں جہاں فرشتوں کی جماعت ملتی ہے، اس خبیث روح کی بدبو سے متاثر ہو کر یہ کہتے ہیں کہ یہ کس خبیث کی روح ہے؟ تو ساتھ والے فرشتے اس کافر کا نام بہت بری صفت کے ساتھ اس طرح لیتے ہیں جیسے دنیا میں کسی برے آدمی کا ذکر لوگ بری صفت سے کرتے ہیں، اور فرشتے کہتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے (کہ جس نے اپنی ساری عمر کفر و شرک میں گزاری ہے) اس ذلت اور اہانت کے ساتھ) یہ روح ہر مقام سے گزرتی ہوئی آسمان دنیا تک پہنچائی جاتی ہے آسمان دنیا کا دروازہ کھلایا جاتا ہے مگر آسمان کے دروازے کے دربان دروازہ نہیں کھولتے ہیں (یہ اس روح کی انتہائی ذلت اور اہانت کا سبب ہوتا ہے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ارشاد فرما کر اس کی تائید میں الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ“۔ (سورہ اعراف، پ:8، ع:5، آیت نمبر:40) کفار کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جائے گا اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے، کفار کا جنت میں جانا ایسے ہی محال (ناممکن) ہے جیسے اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا (نہ تو اونٹ سوئی کے ناکے میں گزر سکتا ہے اور نہ کفار جنت میں داخل ہو سکتے ہیں۔) پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ اس خبیث کا نامہ اعمال سجین میں رکھو اور سجین ہی کو اس خبیث روح کا مقام بناؤ جو زمین کے سب سے نچلے طبقہ میں ہے (تاکہ وہ وہاں طرح طرح کے عذاب بھٹکتی رہے) اس حکم کی تعمیل میں آسمان کے دروازے کے پاس سے اس کافر کی روح کو (نہایت ذلت کے ساتھ زمین کی طرف) پھینک دیا جائے گا (اور عین میں اس کا اصلی مقام بنا کر اس کافر کی روح کا تعلق قبر سے یا اس کے جسم کے کسی حصہ سے جہاں کہیں ہو، کر دیا جائے گا، تا کہ منکر و نکیر اس سے سوال کر سکیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ارشاد فرما کر اس کی تائید میں یہ آیت تلاوت فرمائے: فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ“. (سورہ حج، پ:17، ع:4، آیت نمبر:31) اور دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے اور دوسری روایت میں اس طرح زیادہ ہے کہ جب مسلمان کی روح (اس کے جسم سے) نکلتی ہے تو آسمان اور زمین کے درمیان میں جو ملائکہ ہیں وہ سب اس مسلمان مردہ کے لئے رحمت نازل ہونے کی دعاء کرتے ہیں اور (جیسے جیسے مسلمان کی روح آسمانوں کی طرف چڑھتی جاتی ہے آسمانوں کے دروازے (اس کی شان و شوکت دکھانے کے لئے جلدی جلدی) کھلتے جاتے ہیں (اور مسلمان کی روح تمام آسمانوں سے گزر جاتی ہے) (اس مسلمان کی روح کو فرشتے ایسی متبرک سمجھتے ہیں کہ) ہر آسمان کے دروازوں کے فرشتے دعاء کرتے ہیں کہ اس متبرک روح کو ہمارے دروازہ سے گزار دیئے (تاکہ ہم اس روح سے برکت حاصل کریں) اور کافر مردہ کی روح کو (عالم ملکوت سے کچھ تعلق ہی نہیں تھا، دنیا ہی میں رات دن پھنسی ہوئی تھی تو اس کو دنیا چھوڑنا بڑا دشوار ہوگا، اس لئے روح تو جسم میں رہنا چاہے گی اور فرشتے اس کو کھینچا جائیں گے اس کشاکشی میں) فرشتے (اس سختی کے ساتھ اس روح کو کھینچیں گے کہ جسم کی رگیں تار تار ہو جائیں گی (یہ بھی اس کافر کی روح کے لئے ایک عذاب بنے گا) جب اس سختی سے روح نکالی جاتی ہے تو زمین اور آسمان کے درمیان میں جو فرشتے ہیں وہ سب اس کافر کی روح پر لعنت بھیجتے ہیں اور آسمان دنیا کے ہر دروازہ کے فرشتے لعنت بھیجتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ الٰہی! اس خبیث روح کو ہمارے پاس سے نہ گزاریئے (تا کہ اس کی خباثت ہم پر اثر نہ کرے، فرشتوں کی دعا قبول ہوتی ہے اور) اس کے لئے آسمان دنیا کے تمام دروازے بند کر دئے جاتے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4753 (unverified) 99% confidence · Validation similarity: 0.535
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1630 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 1630

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

'Abd

(1) His statement: "'Abd" refers to 'Abd ibn Humaid, the first to write a Tafsir. This is mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: عبد: أراد بقوله: «عبد» عبد بن حميد، أول من كتب في التفسير. كذا في «المرقاة».

Note 1

شرک بہت بری بلا ہے، آسمان کا دروازہ مشرک کے لئے نہ کھلنا کیا کم ذلت ہے، پھر زمین کی طرف پھینک دیا جانا، اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہوگی، راستہ میں فرشتوں سے طرح طرح کی اذیت اٹھاتے ہوئے سجین میں جا گرنا اور وہاں طرح طرح کی ایذاء اٹھاتے رہنا یہ انتہائی ذلت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی جائے گی، اس کافر کی روح کا تعلق اس کے جسد سے یا جسم کے کسی حصہ سے کر دیا جائے گا، پھر منکر و نکیر اس کے پاس موجود ہوں گے اور بٹھا کر سوال کریں گے، بتا تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کافر (حیران ہو گا کہ کیا جواب دوں، جب تک میں دنیا میں رہا، مسلمان جس ذات مبارک کو رب مانتے تھے، میں ان کو جھٹلاتا رہا اب میں کس کو رب کہوں، یہاں بھی اسی طرح کہتا ہوں) میں نہیں جانتا کہ رب کون ہے! پھر منکر و نکیر دریافت کریں گے اچھا یہ بتا کہ تیرا دین کیا تھا (تو یہ کافر مردہ سمجھے گا میرا دین تو کفر و شرک سے بھرا ہوا تھا اگر میں اپنے دین کا نام لوں تو اپنے آپ کو اپنی زبان سے مجرم ٹھہرانا پڑے گا اس لئے) کافر مردہ کہے گا مجھے نہیں معلوم کہ میرا دین کیا تھا، پھر منکر و نکیر دریافت کریں گے کہ تو دنیا میں سنا ہو گا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول ہو کر آئے تھے ان کی نسبت تیرا کیا خیال تھا (تو کافر مردہ خیال کرے گا کہ عالم برزخ میں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بول بالا ہے اگر میں ان کی رسالت کا انکار کروں تو اپنے منہ سے آپ ملزم ٹھہرتا ہوں اس لئے) کہے گا میں نہیں جانتا کہ وہ کون تھے؟ یہ جواب ختم ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پکارے گا کہ اس خبیث کافر کو دنیا میں سب کچھ معلوم تھا، جھٹلاتا ہی رہا، اب بھی باوجود معلوم ہونے کے جھوٹ کہہ رہا ہے، اس جھوٹ کے لئے آگ کا بچھونا بچھا دو (تا کہ اس کو ایک آن بھی آرام نہ ملے) اور دوزخ کی طرف سے ایک دروازہ کھول دو، (تا کہ وہ دوزخ میں اپنا مقام دیکھتا رہتا کہ یہ بھی اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا رہے اور دوزخ کی طرف سے) دروازہ کھلنے سے ناقابل برداشت حرارت اور دوزخ کی آگ کی لو (اور دوزخ کی بدبو) اس کو پہنچتی رہے (تاکہ قبر کے عذاب پر یہ عذاب زیادہ ہو جائے) پھر اس کافر کی قبر ایسی تنگ کی جائے گی کہ جس کے دبوچنے سے کافر کی پسلیاں اِدھر کی اُدھر اور اُدھر کی اِدھر ہو جائیں گی (کافر کے لئے بجائے خود یہ بھی ایک عذاب ہوگا) پھر کافر کیا دیکھے گا کہ اس کے پاس ایک شخص آ رہا ہے نہایت بدشکل (کہ جس کا دیکھنا ہی بجائے خود عذاب ہے) کپڑے بھی اس کے (اس کی صورت کے جیسے) بد نما رہیں گے، اور بدبو اس سے اس قدر آ رہی ہوگی (کہ جس سے دماغ پھٹا جا رہا ہو) ایسا بدشکل شخص آ کر کافر مردہ سے کہے گا طرح طرح کے عذاب کی تجھے خبر دی جاتی ہے (دنیا میں) جس دن سے تجھے ڈرایا جاتا تھا (اور جس کا تو انکار کرتا تھا) دیکھ آج یہ وہی دن ہے، کافر مردہ کہے گا (کہ میں خود عذاب میں ہوں تو اور عذاب کی خبر دینے آیا ہے) تو کون ہے؟ تیری کیا منحوس صورت ہے کہ تیری صورت دیکھنا ہی عذاب معلوم ہوتا ہے، تو وہ بدشکل آنے والا کہے گا تو مجھے نہیں پہچانا، میں تیرا برا عمل ہوں (کم بخت تو نے دنیا میں کیا کیا کفر و شرک میں رہا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا رہا، اگر کوئی کہے کہ تجھے یہ دن دیکھنا ہوگا تو تو اس کو مذاق میں اڑاتا رہا، کبھی اس کو غصہ سے جھڑکتا رہا، کافر مردہ سمجھے گا کہ میرے اعمال مجھے دکھائے گئے ہیں، برے اعمال سے دوزخ ملتی ہے) خدا کرے کہ قیامت نہ آئے (تاکہ بُرے اعمال کے بدلہ میں دوزخ میں جانا نہ پڑے) ایک روایت تو یہاں ختم ہوئی۔

Note 2

اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور اس کی روایت ابوداؤد نے اپنی سنن میں اور حاکم نے اپنی مستدرک میں ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں اور بیہقی نے کتاب عذاب القبر میں اور طیالسی نے اپنی مسند میں اور عبد بن حمید نے اپنی مسند میں اور ہناد بن السری نے کتاب الزہد میں اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صحیح طرق سے اس کی روایت کی ہے اور میرک نے کہا ہے کہ امام احمد کی حدیث حسن ہے۔ روح انسانی عالم ملکوت کی رہنے والی مثل فرشتوں کے ہے جیسے فرشتے ایک ہی وقت میں کئی جگہ دکھائی دے سکتے ہیں اور جیسے ملک الموت ہر مرنے والے کے پاس دکھائی دیتے ہیں، ایسا ہی روح انسانی بھی کئی جگہ دکھائی دے سکتی ہے، مگر جب جسم انسانی میں روح مقید ہوتی ہے تو اس سے یہ صفت نکل جاتی ہے، کئی جگہ نظر نہیں آسکتی ہے مگر اولیاء اللہ کے جسم میں جو روح ہوتی ہے اس روح میں اس کی اصلی صفت پائی جاتی ہے کہ باوجود جسم میں ہونے کے ایک وقت میں کئی جگہ نظر آ سکتی ہے، جیسے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ایک ہی وقت میں سات دعوتوں میں نظر آئے، جسم سے نکلنے کے بعد روح میں اس کی اصلی صفت لوٹ آتی ہے، کچھ اولیاء اللہ کی تخصیص نہیں بلکہ ہر مسلمان کی روح ایک وقت میں کئی جگہ رہ سکتی ہے، اسی لئے روح کا اصلی مقام علیین ہے قبر سے بھی اس کا تعلق رہتا ہے، قبر پر آنے والوں کو پہچانتی اور ان کے سلام کا جواب دیتی ہے، اس جسم خاکی کے ساتھ روح جنت میں نہیں جاسکتی، ہاں قیامت کے بعد جسم خاکی میں ہو کر روح جنت میں داخل ہوگی۔ بغیر جسم خاکی کے اب بھی روح جنت میں جاسکتی ہے، جیسے اس حدیث میں: