Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْجَنَائِزِ

Hadith 2125

بَابُ الْمَشْيِ بِالْجَنَازَةِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهَا

In this book

Current reading

كِتَابُ الْجَنَائِزِ

بَابُ الْمَشْيِ بِالْجَنَازَةِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهَا

Zujajat al-Masabih 2125Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٢٥ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُوْا عَنْ مَسَاوِيْهِمْ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4900 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1019 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: یوں تو ہر شخص کو چاہئے کہ مردوں کی خوبیاں بیان کیا کرے، اور مردوں کی برائیاں بیان کرنے سے رکا رہے، خاص کر مردوں کو جو غسل دینے والے ہیں، اگر ان پر مردہ کی اچھی حالت ظاہر ہو، مثلاً مردہ کی چہرہ پر نور برس رہا ہو، یا مردہ کے پاس سے خاص خوشبو آ رہی ہو، یا بغیر دقت کے مردہ غسل دینے والے کے قابو میں ہو جائے اور غسل دینے والا جو کچھ کرنا چاہے وہ آسانی سے کر سکتا ہو تو اس طرح کی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کرے اور مردہ کی ایسی خوبیاں ظاہر کرنا مستحب ہے، اور اگر غسل دینے والا مردہ کے پاس کوئی برائیاں دیکھے، مثلاً مردہ سے بدبو آ رہی ہے یا مردہ کا چہرہ یا اس کا جسم سیاہ ہو گیا ہو، یا چہرہ کچھ کا کچھ ہو گیا ہے تو ایسی برائیاں دیکھ کر غسل دینے والا کسی پر ظاہر نہ کرے، مردہ کی حالت دیکھنے والا خواہ غسل دینے والا ہو یا اور کوئی اس پر مردہ کی ان برائیوں کو لوگوں پر ظاہر کرنا حرام ہے۔ (یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔)12