Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كتاب الزكاة

Hadith 2234

كتاب الزكاة

In this book

Current reading

كتاب الزكاة

كتاب الزكاة

Zujajat al-Masabih 2234Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٢٣٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ ﷺ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: «مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللهُ وَرَسُولُهُ. وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُوْنَ خَالِدًا، قَدْ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ. وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَيَّ، وَمِثْلُهَا مَعَهَا»، ثُمَّ قَالَ: «يَا عُمَرُ، أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيْهِ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1468 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 983 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): اس حدیث شریف میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زکات کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: ”فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا“ یعنی حضرت عباسؓ کی دونوں سال کی زکات میں ہی ادا کروں گا، ایک تو سال حال کی، دوسرے سال گزشتہ کی۔ اس بارے میں مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی ضرورت پر حضرت عباس سے دو سال کی پیشگی زکات حاصل فرمائی تھی جیسا کہ بیہقی نے روضہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت کی ہے اور امیر کو اس قسم کا اختیار ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان تفصیلات سے ناواقف تھے، عام حکم کی بناء پر حضرت عباسؓ سے بھی تاکید کے ساتھ زکات کا مطالبہ فرمائے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے فرمایا کہ حضرت عباسؓ کے زکات نہ دینے پر تمہاری شدت خلاف واقعہ ہے۔ تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ میرے چچا ہیں اور باپ کے برابر ہیں۔12 ف(2): اس حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے: ”فَأَغْنَاهُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ“ اللہ اور اللہ کے رسولؐ نے اس کو یعنی ابن جمیل کو غنی بنا دیا۔ اس بارے میں اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ غنی بنا دینا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کی طرف بھی غنی بنانے کی جو نسبت کی گئی ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس، اللہ تعالیٰ کی ذات عالی سے نعمتوں اور برکتوں کے حاصل کرنے کا واسطہ ہے (چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ عطا کرنے والے ہیں، میں تقسیم کرنے والا ہوں)12