اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2610
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو (زکات وصول کرنے کے لئے) عامل بنا کر روانہ فرمایا۔ کسی
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابن جمیل رضی اللہ عنہ، خالد بن الولید رضی اللہ عنہ
اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے زکات ادا نہیں کی ہے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرمائے کہ ابن جمیل کے زکات دینے سے انکار پر حیرت ہے ایک زمانہ میں وہ فقیر تھا اور اب
اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے اس کو دولت مند بنا دیا (تو وہ اس احسان کا یہی بدلہ دے رہا ہے اور کفران
نعمت پر اتر آیا ہے) اب رہے خالد بن الولید تو تم لوگ ان سے زکات طلب کر کے ان پر زیادتی
کر رہے ہو۔ انہوں نے تو اپنی زرہیں (اور دوسرے سامان جنگ تک کو) راہ خدا میں جہاد کے لئے
وقف کر دیا ہے (یہاں تک کہ ان کے پاس کچھ بھی نہ رہا کہ اس کی زکات ادا کرسکیں) اور حضرت
عباس رضی اللہ عنہ کی زکات وہ تو مجھ پر ہے (جو گزشتہ سال ان پر واجب ہوئی تھی) اس کو میں ادا
کروں گا۔ (اب رہی اس سال کی زکات) اس کو بھی میں ہی ادا کروں گا۔ پھر حضور ﷺ ارشاد
فرمائے: اے عمر! کیا تم نہیں جانتے کہ چچا دراصل باپ کے مانند ہوتا ہے (جیسا کہ ایک ہی جڑ کے
دو تنے ہوتے ہیں)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1468 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 983 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زکات کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: ”فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا“ یعنی حضرت عباسؓ کی دونوں سال کی زکات میں ہی ادا کروں گا، ایک تو سال حال کی، دوسرے سال گزشتہ کی۔ اس بارے میں مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی ضرورت پر حضرت عباس سے دو سال کی پیشگی زکات حاصل فرمائی تھی جیسا کہ بیہقی نے روضہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت کی ہے اور امیر کو اس قسم کا اختیار ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان تفصیلات سے ناواقف تھے، عام حکم کی بناء پر حضرت عباسؓ سے بھی تاکید کے ساتھ زکات کا مطالبہ فرمائے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے فرمایا کہ حضرت عباسؓ کے زکات نہ دینے پر تمہاری شدت خلاف واقعہ ہے۔ تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ میرے چچا ہیں اور باپ کے برابر ہیں۔12 ف(2): اس حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے: ”فَأَغْنَاهُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ“ اللہ اور اللہ کے رسولؐ نے اس کو یعنی ابن جمیل کو غنی بنا دیا۔ اس بارے میں اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ غنی بنا دینا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کی طرف بھی غنی بنانے کی جو نسبت کی گئی ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس، اللہ تعالیٰ کی ذات عالی سے نعمتوں اور برکتوں کے حاصل کرنے کا واسطہ ہے (چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ عطا کرنے والے ہیں، میں تقسیم کرنے والا ہوں)12