Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كتاب الزكاة

Hadith 2403

بَابُ فَضْلُ الصَّدَقَةِ

In this book

Current reading

كتاب الزكاة

بَابُ فَضْلُ الصَّدَقَةِ

Zujajat al-Masabih 2403Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٠٣ - وَعَنْ رَابِطَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَكَانَتْ امْرَأَةٌ صَنْعَاءَ 1، وَلَيْسَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَالٌ، فَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْهَا، فَقَالَتْ: لَقَدْ شَغَلْتَنِي وَاللَّهِ أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ بِشَيْءٍ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرُ أَنْ تَفْعَلِي، فَسَأَلَتْ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ هِيَ وَهُمْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبِيْعُ مِنْهَا، وَلَيْسَ لِوَلَدِي وَلَا لِزَوْجِيْ شَيْءٌ، فَشَغَلُوْنِي، فَلَا أَتَصَدَّقُ، فَهَلْ لِي فِيْهِمْ أَجْرُ؟ فَقَالَ: لَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ، فَأَنْفِقِي عَلَيْهِمْ». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.
Commentary and footnotes (3)

Note 1

A woman from Sana’a

(1) The statement: "A woman from Sana’a" etc. In Sharh Ma’ani al-Athar, it is said: "This indicates that the charity mentioned was voluntary and not obligatory. Rabitah was Zainab, the wife of ‘Abdullah ibn Mas’ud. It is not known that ‘Abdullah had another wife during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The evidence that this charity was voluntary is her statement: 'I was a skilled woman, and I used to sell from my work and spend on ‘Abdullah.' The response of the Messenger of Allah (ﷺ) in this hadith and the previous one was in answer to her question. In this hadith of Rabitah, it is mentioned: 'I used to spend from that on ‘Abdullah and his children.' It is unanimously agreed that a woman cannot spend her Zakat on her children. Since what she spent on her children was not from Zakat, similarly, what she spent on her husband was also not from Zakat."

Note 1

قوله

(۱) قوله: امرأة صنعاء إلخ : وقال في شرح معاني الآثار»: ففي هذا الحديث أن تلك الصدقة مما لم يكن فيه زكاة، ورابطة هذه هي زينب امرأة عبد الله لا تعلم أن عبد الله كانت له امرأة غيرها في زمن رسول الله ﷺ. والدليل على أن تلك الصدقة كانت تطوعًا كما ذكرنا قولها: «كنت امرأة صنعاء، أصنع بيدي فأبيع من ذلك، فأنفق على عبد الله»، فكان قول رسول الله ﷺ الذي في هذا الحديث وفي الحديث الأول جوابا لسؤالها هذا. وفي حديث رابطة هذا: كنت أنفق من ذلك على عبد الله على ولده مني. وقد أجمعوا على أنه لا يجوز للمرأة أن تنفق على ولدها من زكاتها، فلما كان ما أنفقت على ولدها ليس من الزكاة، فكذلك ما أنفقت على زوجها ليس هو أيضًا من الزكاة.

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رائطہ رضی اللہ عنہا اپنی روزانہ کی کمائی سے اپنے شوہر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور اپنی اولاد پر خرچ کیا کرتی تھیں۔ واضح ہو کہ حضرت رائطہؓ کا ان پر خرچ کرنا مد زکات سے نہ تھا اس کی دلیل شرح معانی الآثار میں اس طرح مذکور ہے کہ خود حضرت رائطہؓ فرماتی ہیں کہ میں ایک ہنرمند عورت ہوں اور اپنی دستکاری سے (روزانہ) جو کچھ بناتی ہوں اور اس کی آمدنی کو حضرت ابن مسعود پر خرچ کرتی ہوں۔ (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی روز مرہ کی آمدنی کو ہر روز خرچ کر دیا کرتی تھیں، اس لئے مال پر سال کے نہ گزرنے کی وجہ سے زکات کے نصاب کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ لہذا معلوم ہوا کہ ان کا خرچ مد زکات سے نہ تھا) چنانچہ حضرت رابطہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور بچوں پر خرچ کرنا ثواب کا موجب ہے یا نہیں۔ اس سوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال نفل خیرات کے ثواب سے متعلق تھا نہ کہ زکات سے۔ حضرت رابطہ کا خرچ مد زکات سے نہ ہونے پر شرح معانی الآثار میں دوسری دلیل یہ ہے کہ عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی زکات کے مال کو اپنے بچوں پر خرچ کرے، چونکہ حضرت رابطہؓ جس مال کو اپنے بچوں پر خرچ کیا کرتی تھیں، اسی مال میں سے اپنے شوہر پر بھی خرچ کیا کرتی تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ وہ مال جس کو بچوں پر خرچ کرتی تھیں وہ مد زکات میں سے نہ تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو مال حضرت رابطہؓ اپنے شوہر پر خرچ کرتی تھیں وہ بھی مد زکات سے نہ تھا۔12