العربية
Typed, pending editorial approval
۲۹۸۸ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه)قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ ﷺ لَمَّا أَحْلَلْنَا أَنْ تُحْرِمَ إِذَا تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنَى قَالَ: فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْأَبْطَحِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ : أَنَّ عَائِشَة (رضي الله عنها)قَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَتَنْطَلِقُوْنَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَقِّ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1214 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے حسب ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص میقات سے تمتع کی نیت سے عمرہ کا احرام باندھے اور عمرہ کی ادائی کے بعد احرام کھول دے تو اس کو حج کا احرام باندھنے کے لئے دوبارہ میقات تک جانا ضروری نہیں بلکہ وہ کعبہ اللہ ہی سے حج کا احرام باندھ لے۔ اس کے برخلاف کسی کو نفلی یا قضاء عمرہ ادا کرنا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ تنعیم یا جعرانہ تک جائے اور وہاں سے احرام باندھ کر مکہ معظّمہ حاضر ہو اور عمرہ ادا کرے۔ دوسری بات یہ ہے کہ عورت کو عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد حیض آ جائے تو وہ عمرہ ادا نہ کرے گی، اس لئے کہ وہ طواف کعبہ حالت حیض میں ادا نہیں کر سکتی جو عمرہ کا اہم جزء ہے۔ اس لئے وہ پاکی کا انتظار کرے گی اور پاک ہونے کے بعد عمرہ ادا کرے گی، اور اگر اس کے پاک ہونے تک نویں ذوالحجہ آ جائے تو وہ عمرہ کا احرام توڑ دے گی اس لئے کہ وہ ایام حج میں عمرہ ادا نہیں کر سکتی، اس لئے اب وہ حج کا احرام باندھ لے اور حج کے ارکان جیسے وقوف عرفہ اور رمی جمار وغیرہ ادا کرے۔ البتہ پاک ہونے تک طواف زیارت ملتوی رکھے اور پاک ہونے پر طواف زیارت کر کے حج کے مناسک پورے کرلے اور پھر دوبارہ تنعیم یا جعرانہ جا کر فوت شدہ عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کی قضا کرلے۔