العربية
Typed, pending editorial approval
٣١٥٠ - وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ فَسَأَلَهُ عَنْ جَرَادَاتٍ قَتَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمُ، فَقَالَ عُمَرُ لِكَعْبٍ: تَعَالَ حَتَّى نَحْكُمَ، فَقَالَ كَعْبٌ: دِرْهَمْ، فَقَالَ عُمَرُ لِكَعْبٍ: إِنَّكَ لَتَجِدُ [الدَّرَاهِمَ] لَتَمْرَةٌ خَيْرٌ مِنْ جَرَادَةٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Muwatta Malik 936 (unverified) 30% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2707 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 2707
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ احرام کی حالت میں جو کوئی ٹڈے کو مارے تو جو چاہے خیرات کر دے، اس لئے کہ اس کا شکار دوسرے جانوروں کی طرح نہیں ہے اس لئے شکار کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر ضروری ہے اور ٹڈے کو مارنا یا پکڑنا بغیر کسی تدبیر کے ممکن ہے، اس لئے ٹڈے کا مارنا عام شکار کی تعریف میں داخل نہیں ہے اس لئے احرام کی حالت میں ٹڈے کو مارنے سے کچھ خیرات کر دینا کافی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر حضرت ابن عباس اور حضرت عطاء بن ابی رباح کا یہی قول ہے اور امام اعظم رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔12