Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3150

(اس باب میں محرم کو شکار کرنے کی ممانعت کا بیان ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

(اس باب میں محرم کو شکار کرنے کی ممانعت کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 3150Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3738
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کئے کہ احرام کی حالت میں اگر کوئی شخص ایک ٹڈے کو مار دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ حضرت عمر نے کعب احبار رضی اللہ عنہ سے فرمایا آؤ تا کہ ہم اس مسئلہ پر حکم لگائیں تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا (ایک ٹڈے کو مارنے کا صدقہ) ایک درہم ہوگا۔ (یہ سن کر) حضرت عمر نے کعبؓ سے فرمایا تم کو درہم ہر وقت کہاں سے ملیں گے (حقیقت تو یہ ہے کہ) ایک کھجور ایک ٹڈے مارنے کے معاوضہ میں کافی ہے (یعنی ٹڈا اتنی حیثیت کا نہیں کہ احرام کی حالت میں مارنے پر درہم خیرات کیا جائے بلکہ ایک کھجور ایک ٹڈے کے معاوضہ میں بہت کافی ہے)۔ اس کی روایت امام مالک اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 936 (unverified) 30% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2707 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2707

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ احرام کی حالت میں جو کوئی ٹڈے کو مارے تو جو چاہے خیرات کر دے، اس لئے کہ اس کا شکار دوسرے جانوروں کی طرح نہیں ہے اس لئے شکار کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر ضروری ہے اور ٹڈے کو مارنا یا پکڑنا بغیر کسی تدبیر کے ممکن ہے، اس لئے ٹڈے کا مارنا عام شکار کی تعریف میں داخل نہیں ہے اس لئے احرام کی حالت میں ٹڈے کو مارنے سے کچھ خیرات کر دینا کافی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر حضرت ابن عباس اور حضرت عطاء بن ابی رباح کا یہی قول ہے اور امام اعظم رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔12