العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢٤٢ - عن عَليَّ قَالَ: نَهَى1 النَّبِيُّ ﷺ عَنْ ضَرْبِ الدُّفِّ وَلَعْبِ الضَّنْجِ وَضَرْبِ الزِّمَارَةِ. رَوَاهُ الْخَطِيبُ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَلْعَبَانِ بِدُفٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ. وَنَقَلَ الشَّيْخُ الْأَجَلْ السَّهروَرْدِي عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ الدُّفُّ مِنْ سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ. وَقَالَ التَّوْرَبُشْتِيْ: إِنَّ الدُّفَّ حَرَامٌ عَلَى قَوْلِ أَكْثَرِ الْمَشَايِخِ، وَمَا وَرَدَ مِنْ ضَرْبِ الدُّفُّ فِي الْعُرْسِ كِنَايَةُ عَنِ الْإِعْلَانِ لَا حَقِيقَتُهُ، أَوْ يُسْتَدَلُّ بِحَدِيْثِ عَلِيَّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَجَازَهُمْ ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَعَهُمْ ؛ لِأَنَّ ضَرْبَ الدُّفْ مَا ثَبَتَ فِي نِكَاحِ النَّبِيِّ ﷺ وَلَا فِي نِكَاحِ أَصْحَابِهِ عُمُوْمًا، وَلَوْ ثَبَتَ سُنَّةً جَارِيَةً مَا تَرَكُوهُ قَطُّ ؛ لِشَغَفِهِمْ عَلَى اتَّبَاعِ سُنَّةِ النَّبِيِّ ﷺ
وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: «أَعْلِنُوْا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ2 فِي الْمَسَاجِدِ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 892b (unverified) 65% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) The statement: "The Prophet (ﷺ) prohibited beating the tambourine": Therefore, the Hanafis explicitly stated that the tambourine is also forbidden, which is the apparent narration. In "Radd al-Muhtar," it is said: Listening to the beating of the tambourine, pipe, and similar is forbidden. In "Sharh al-Wiqayah": Listening to the beating of the tambourine, pipe, singing, and the like is forbidden. Abu al-Makarim said: Amusement like beating the tambourine and pipe is disliked (prohibited). In "Fatawa al-Bayhaqi": Singing, listening to it, beating the tambourine, and all types of entertainment are forbidden, as in "Fatawa al-Aziziyyah." In "Al-Nihayah": Singing, the lute, the harp, the tambourine, and similar are forbidden, as stated in "Ma la Budd Minhu." Ibn Hajar al-Makki, the Shafi‘i, said in his book "Kaff ar-Ru‘a ‘an Muharramat al-Lahw wa as-Sama‘," Section Four on the tambourine: The relied-upon opinion in our school is that it is permissible without dislike at weddings and circumcisions, and abandoning it is better. Likewise, its ruling outside these occasions is permissible according to the sounder opinion. In "Al-Minhaj" and others: A group of our companions said it is forbidden outside these occasions. Shaykh As-Sahrawardi, the Shafi‘i, said in "‘Awarif al-Ma‘arif": As for the tambourine and flute, although there is leniency in the Shafi‘i school, it is preferable to abandon them and take the safer path to avoid disagreement. The details are mentioned in "Imdad al-Fatawa," Part Five, for those who wish to refer to it, as it is valuable in its field. In "Al-Bahr," quoting "Adh-Dhakhirah": Beating the tambourine at weddings is disputed, as stated in "Radd al-Muhtar." In "Tafsir al-Ahmadiyyah" under the verse: And of the people is he who buys the amusement of speech [Luqman: 6], it is mentioned in "Fatawa al-Hammadiyyah" and "‘Awarif": Mujahid said that the verse: And incite whoever you can among them with your voice [Al-Isra: 64] indicates the prohibition of singing, as it is addressed to Iblis, cursed be he, meaning: Stir whomever you can of the children of Adam with your voice, which is the voice of singing, pipes, tambourines, and the like. The complete discussion will come, God willing, in the Chapter on Explanation and Poetry, so refer to it, as it is also valuable in its field, and I have not seen anything better than it.
Note 2
(2) The statement: "Hold it in mosques": Ibn al-Humam said: It is recommended to conduct the marriage contract in the mosque, as it is an act of worship, and on Friday, as in "Al-Marqah."
Note 1
(۱) قوله : نهى النبي ﷺ عن ضرب الدف: لذلك صرحت الحنفية بأن الدف أيضًا حرام، وهو ظاهر الرواية وقال في رد المحتار: استماع ضرب الدف والمزمار وغير ذلك حرام، وفي شرح النقاية: أما الاستماع فكاستماع ضرب الدف والمزمار والغناء وغير ذلك حرام، وقال أبو المكارم كره (تحريما) لهو كضرب الدف والمزمار، وفي فتاوى البيهقي: التغني واستماعه وضرب الدف وجميع أنواع الملاهي حرام. كذا في الفتاوى العزيزية»، وفي «النهاية»: التغني والطنبور والبربط والدف وما يشبه ذلك حرام، كما قال في ما لا بُدَّ منه، وقال ابن الحجر المكي الشافعي في كتابه كف الرعاع عن محرمات اللهو والسماع القسم الرابع في الدف المعتمد من مذهبنا أنه حلال بلا كراهة في عرس وختان وتركه أفضل، وهكذا حكمه في غيرهما، فيكون مباحًا أيضًا على الأصح، وفي المنهاج» وغيره: وقال جمع من أصحابنا: إنه في غيرهما حرام، وقال الشيخ السهروردي الشافعي في عوارف المعارف»: فأما الدف والشبابة وإن كان فيهما في مذهب الشافعي فسحة، الأولى تركها، والأخذ بالأحوط والخروج من الخلاف ، والتفصيل مذكور في إمداد الفتاوى الحصة الخامسة من شاء الاطلاع عليه فليرجع إليه، فإنه نفيس في بابه، وفي «البحر» عن «الذخيرة: ضرب الدف في العرس مختلف فيه. قاله في رد المحتار»، وقال في التفسيرات الأحمدية تحت قوله تعالى: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ (لقمان: (٦) الآية : ذكر في فتاوى الحمادية» و«العوارف»: أنه قال مجاهد: إن قوله تعالى: ﴿وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ (الإسراء: (٦٤) تدل على حرمة التغني؛ وذلك لأن قوله: ﴿وَاسْتَفْزِزْ} خطاب لإبليس عليه اللعنة، ومعناه وحرّك من استطعت من بني آدم بصوتك، وهو صوت التغني والمزامير والدف وغير ذلك. وسيأتي إن شاء الله تعالى تمام الكلام عليه في باب البيان والشعر، فارجع إليه، فإنه أيضًا نفيس في بابه، وما رأيت أحسن منه.
Note 2
(۲) قوله : واجعلوه في المساجد قال ابن الهمام: يستحب مباشرة عقد النكاح في المسجد؛ لكونه عبادة وكونه في يوم الجمعة. كذا في «المرقاة».
Note 1
اور شیخ اجل حضرت شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے نقل فرمایا ہے کہ دف بجانا مسلمانوں کا طریقہ نہیں۔ اور علامہ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ دف بجانا اکثر مشائخ فقہاء کے قول کے مطابق حرام ہے اور شادی کے موقع پر دف بجانے کا جو جواز آیا ہے اس سے اعلان مراد ہے نہ کہ حقیقۃً دف بجانا امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو (نکاح کے موقع پر دف بجانے کی) اجازت دی تھی پھر منع فرما دیا اس لئے کہ عام طور پر دف کا بجانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی نکاح میں ثابت ہے اور نہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نکاح میں اور اگر یہ سنت جاریہ ثابت ہوتی تو صحابہ کرام اس کو ترک نہ فرماتے اس لئے کہ ان حضرات کرام کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کا شغف تھا۔
Note 2
ف(1): علامہ ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ عقد نکاح مسجد میں منعقد کیا جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح عبادت ہے اور بہتر یہ ہے کہ عقد نکاح جمعہ کے دن ہو۔ ف(2): صدر کی حدیث شریف جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں ارشاد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دف بجانے سے منع فرمایا ہے اسی وجہ سے احناف نے صراحت کی ہے کہ دف بھی حرام ہے اور یہ ظاہر الروایۃ ہے اور رد المحتار میں لکھا ہے کہ دف کی آواز اور مزمار کا سننا حرام ہے اور شرح نقایہ میں لکھا کہ دف کی آواز اور مزمار اور گانوں کا سننا یہ سب حرام ہیں اور علامہ ابوالبقاء کرمانی نے فرمایا ہے کہ دف کا بجانا اور مزمار کا سننا یہ از قسم لہو اور لعب ہیں جو مکروہ تحریمی ہے اور فتاویٰ بیہقی میں ہے کہ گانا گانا اور گانوں کو سننا اور دف بجانا اور اسی قسم کے دوسرے لہو اور لعب کی چیزیں یہ سب حرام ہیں۔ فتاویٰ عزیزیہ میں بھی مذکور ہے اور شامی میں لکھا ہے کہ گانا، طنبور، بربط اور دف اور اس قسم کے گانے بجانے سب حرام ہیں ”مَا لَا بُدَّ مِنْهُ“ میں مولانا ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ اور علامہ ابن حجر مکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”كف الرعاع في محرمات اللهو والسماع“ میں فرمایا ہے: چھٹی قسم دف کے بیان میں ہمارے مذہب میں قول معتمد علیہ یہ ہے کہ دف کا بجانا شادی اور ختنہ کے موقع پر بلا کراہت جائز ہے لیکن اس کا ترک کرنا افضل ہے اور ان دو موقعوں کے سوا دوسری تقریبات (جیسے عید کے دن، کسی غائب کی آمد پر، ولیمہ، عقیقہ، لڑکے کی پیدائش اور حفظ قرآن کے ختم پر) فتاویٰ عزیزیہ میں بھی اس کا یہی حکم ہوگا اس طرح صحیح ترین قول اباحت اور جواز پر ہوگا اور منہاج اور شوافع کی دوسری کتابوں میں یہ مذکور ہے کہ ہمارے تمام اصحاب شوافع نے فرمایا ہے کہ شادی اور ختنہ کی تقریب کے سوا دوسری تقریبات میں دف کا بجانا حرام ہے اور شیخ سہروردی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے عوارف المعارف میں فرمایا ہے کہ دف اور گانا اگرچہ کہ شادی اور ختنہ میں مذہب شافعی میں اجازت ہے مگر اس کا ترک کرنا اولیٰ ہے اور یہی احتیاط کا پہلو ہے اور اس میں اختلاف سے حفاظت ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل امداد الفتاویٰ کے پانچویں حصہ میں مذکور ہے جو اس مسئلہ میں تفصیل سے واقف ہونا چاہے اس کو دیکھے اس لئے کہ اس مسئلہ میں بڑی عمدہ تحریر ہے اور بحر میں ذخیرہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ شادی میں دف بجانے کے بارے میں اختلاف ہے جیسا کہ درالمختار میں مذکور ہے۔ اور تفسیرات احمدیہ میں آیت شریفہ ”وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ“ (سورۂ لقمان، پ:21، ع:1، آیت نمبر:6) کی تفسیر میں لکھا ہے کہ فتاویٰ حمادیہ اور عوارف میں مذکور ہے کہ حضرت بہاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ آیت شریفہ ”وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ“ (سورۂ بنی اسرائیل، پ:15، ع:7، آیت نمبر:64) ((اور تو اپنی آواز سے جس جس کو بہکا سکتا ہے بہکا)) گانے کی حرمت پر دلیل ہے اس لئے کہ لفظ ”اسْتَفْزِزْ“ سے ابلیس لعنتہ اللہ علیہ کو خطاب فرمایا ہے جس کے معنی ہیں جہاں تک تجھ سے ہو سکے انسانوں کو اپنی آواز سے (برائیوں کی) ترغیب دے یہ آواز ہے گانوں مزامیر اور دف وغیرہ کی۔ اھ اس مسئلہ میں تمام تر تفصیل ان شاء اللہ اس کتاب کے باب البیان والشعر میں آئے گی اس کو دیکھئے اس لئے کہ یہ اس مسئلہ میں بڑی عمدہ تحریر ہے اور اس سے بہتر میں نے کہیں نہیں دیکھی۔