Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كتاب الحدود(١)

Hadith 3567

كتاب الحدود(١)

In this book

Current reading

كتاب الحدود(١)

كتاب الحدود(١)

Zujajat al-Masabih 3567Volume 3

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٥٦٧ - وَعَنْ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ فَرَجَمَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ، الرَّجُمُ فِي كِتَابِ اللّهِ حَقُّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ2 مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ،1 أَوْ كَانَ الْحَبَلُ، أَوْ الإِعْتِرَافُ. مُتَّفَقُّ عَلَيْهِ. وَقَالَ أَبُوْ حَنِيْفَةَ وَالشَّافِعِيُّ وَجَمَاهِيْرُ الْعُلَمَاءِ: إِنَّ مُجَرَّدَ الْخَبْلِ لَا يَثْبُتُ بِهِ الْحَدُّ، بَلْ لَا بُدَّ مِنَ الإِعْتِرَافِ أَوْ الْبَيِّنَةِ، وَاسْتَدَلُوْا بِالْأَحَادِيْثِ الْوَارِدَةِ فِي دَرْءِ الْحَدُوْدِ بِالشُّبْهَاتِ. وَرَوَى أَحْمَدُ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رضی اللہ عُنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرْ جَلَدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6830 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1691a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 4

When evidence is established, or there is pregnancy, or confession

(4) The statement: When evidence is established, or there is pregnancy, or confession: This indicates adultery is proven by evidence or confession. Confession was discussed earlier. Evidence requires four witnesses testifying against a man and woman for adultery. The Imam asks them: What is the adultery? How was it? Where did it occur? When? With whom? If they clarify, saying: We saw him penetrate her like a stick in a kohl container, and the judge verifies their integrity publicly and privately, he rules by their testimony. Pregnancy alone is Umar ibn al-Khattab’s view, requiring punishment if she has no husband or master, followed by Malik and his followers. They said: If she is pregnant without a known husband or master, or coercion, she is punished, unless she is a recent stranger claiming it was from a husband or master. They said: Her claim of coercion is not accepted unless she sought help during coercion before pregnancy appeared. Al-Shafi‘i, Abu Hanifa, and most scholars said: No punishment for pregnancy alone, whether she has a husband or master, stranger or not, or claims coercion or remains silent; punishment requires evidence or confession, as punishments are averted by doubts. In sum: This is Umar’s view, and such a statement does not establish this grave matter leading to loss of life. (Gathered from Al-Hidaya, Muslim’s Sharh by al-Nawawi, and Nayl al-Awtar)

Note 2

This footnote could not be resolved in the source.

Note 1

قوله

(١) قوله: إذا قامت البينة أو كان الحبل أو الاعتراف: يستفاد منه عن الزنا يثبت بالبيئة والإقرار، أما الإقرار فمضى بحثه آنفًا، وأما البينة فأن تشهد أربعة من الشهود على رجل وامرأة بالزنا، وإذا شهدوا يسألهم الإمام عن الزناء ما هو؟ وكيف هو؟ وأين زنى؟ ومتى زنى؟ وبمن زنى؟ فإذا بيَّنوا ذلك وقالوا: رأيناه وطئها في فرجها كالميل في المكحلة، وسأل القاضي عنهم، فعدلوا في السر والعلانية حكم بشهادتهم. وأما الحبل وحده فمذهب عمر بن الخطاب وجوب الحد به إذا لم يكن لها زوج ولا سيد، وتابعه مالك وأصحابه، فقالوا: إذا حبلت ولم يعلم لها زوج ولا سيد، ولا عرفنا إكراهها لزمها الحد، إلا أن تكون غريبة طارية، وتدعي أنه من زوج أو سيد، قالوا: ولا تقبل دعواها الإكراه إذا لم تقم بذلك مستغيثة عند الإكراه قبل ظهور الحمل. وقال الشافعي وأبو حنيفة وجماهير العلماء: لا حد عليها بمجرد الحبل، سواء كان لها زوج أو سيد أم لا، سواء الغريبة وغيرها، وسواء ادعت الإكراه أم سكتت، ولا حد عليها مطلقًا إلا ببينة أو اعتراف؛ لأن الحدود تسقط بالشبهات. والحاصل: أن هذا من قول عمر، ومثل ذلك لا يثبت به مثل هذا الأمر العظيم الذي يفضي إلى هلاك النفوس. (الهداية) وشرح (المسلم للنووي و(نيل الأوطار) ملتقط منها.

Note 2

قوله

(٢) قوله: إذا أحصن: يعني الزاني والزانية قد يكون محصنا. وقد يكون غير محصن، وحد الزنا للمحصن رجمه، ولغيرالمحصن جلده مائة وسطا بسوط لا ثمرة له، ولا جمع بين جلد ورجم، وهو قول الشافعي؛ لأنه لم يجمع. وهذا على وجه القطع في ماعز والغامدية وصاحبة العسيف، وتظاهرت الطرق عنه ﷺ أنه بعد سؤاله عن الإحصان وتلقينه الرجوع لم يزد على الأمر بالرجم، فقال: (اذهبوا به فارجموه، وقال: (اغد يا أنيس إلى امرأة هذا، فإن اعترفت فارجمها)، ولم يقل: فاجلدها ثم ارجمها. وقال في باقي الحديث: فاعترفت فأمر بها رسول الله ﷺ فرجمت، وكذا في الغامدية والجهينية، إن كانت غيرها لم يزد على الأمر برجمها وتكرر ولم يزد أحد على ذلك، فقطعنا بأنه لم يكن غيرالرجم. فقوله ﷺ: خذوا عني إلى قوله: الثيب جلد مائة ورجم أو رمي بالحجارة يجب قطعًا كونه منسوخًا، وإن لم يعلم خصوص الناسخ. وأما جلد على شُراحَةَ في رجمها، فإما لأنه لم يثبت عنده إحصنها إلا بعد جلدها أو رأي لا يقاوم إجماع الصحابة، وما ذكر من القطع عن رسول الله ﷺ. ثم لا يجمع في البكر بين الحد والنفي. والشافعي يجمع بينهما. وقد مضى بحث النفي آنفًا. وشرائط إحصان الرجم سبعة: (الحرية والتكلف): عقل وبلوغ (والإسلام والوطء) وكونه (بنكاح صحيح) حال الدخول، وكونهما (بصفة الإحصان)) المذكورة وقت الوطء. فإحصان كل منهما شرط لصيرورة الآخر محصنا، فلو نكح أَمَةً أو الحرةُ عبدًا فلا إحصان إلا أن يطأها بعد العتق، فيحصل الإحصان به لا بما قبله، حتى لو زنى ذمي بمسلمة ثم أسلم لا يرجم، بل يجلد. وبقي شرط آخر ذكره ابن كمال، وهو أن لا يبطل إحصانهما بالارتداد، فلو ارتد ثم أسلما لم يعد إلا بالدخول بعده ولو بطل بجنون أو عته عاد بالإفاقة. وقيل: بالوطء بعده.واعلم أنه لا يجب بقاء النكاح لبقائه أي الإحصان، فلو نكح في عمره مَرَّةً ثم طلق، وبقي مجرّدًا وزنى رجم. فإن لم يكن حُرَّا أو لم يكن مسلما أو لم يكن عاقلًا بالغًا أو لم يقع منه وطء مع امرأته، أو كان واقعًا، ولكن بنكاح فاسد فهو داخل في غير المحصن، فحكمه الجلد هذا عندنا. وعند الشافعي الإسلام ليس بشرط للإحصان. ولنا قوله علیہ السلام : (من أشرك بالله فليس بمحصن). التقطته من (التفسيرات الأحمدية) وشرح (الوقاية) و(المرقاة) و(الدر المختار).

Note 1

...... کردو اور یہ نہیں فرمایا کہ تم کوڑے لگاؤ اور پھر رجم کرو۔ حدیث شریف کے باقی حصے میں یہ ہے کہ وہ اعتراف کرلی اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم فرمایا تو اس کو رجم کیا گیا۔ اسی طرح غامدیہ اور اس کے علاوہ جہینہ کے بارے میں (جو غامدیہ کے سوا ہے) رجم کے حکم کے سوا آپ نے کوئی اضافہ نہیں فرمایا۔ اور اس طرح کا واقعہ بار بار ہوا لیکن کسی نے بھی اس پر اضافہ نہیں کیا اس لئے ہم یہ بات قطعی سمجھتے ہیں کہ رجم کے سوا کوئی اور حکم نہیں ہے۔ حضور علیہ والہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد گرامی ”خذوا عنى الى قوله الثيب بالثيب جلد مائة و رجم او رمى بالحجارة“ اس کا منسوخ ہونا قطعی ہے اگرچیکہ اس کے ناسخ کی خصوصیت معلوم نہ ہو۔ اب رہا سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شراحہ کو رجم اور کوڑے لگانا۔ یا تو اس لئے ہے کہ اس کا شادی شدہ ہونا ان کے پاس کوڑے لگانے کے بعد ہی ثابت ہوا۔ یا یہ ان کی رائے ہے جو اجماع صحابہ کے مقابل میں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو قطعی طور پر مروی ہے کہ ثم لا يجمع في البكر بين الحدود والنفي غیر شادی شدہ کے لئے حد اور جلا وطنی دونوں کو جمع نہیں کیا جائے گا۔ اس کے مقابل میں نہیں آ سکتی۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ان دونوں کو جمع کرتے ہیں۔ جلا وطنی کی بحث ابھی ابھی گزر چکی ہے۔ شادی شدہ کے رجم کی سات شرطیں ہیں۔ 1- آزادی 2- عاقل ہونا 3- بالغ ہونا 4- اسلام 5 - وطی کا متحقق 6- حالت دخول میں اس کا نکاح صحیح ہونا 7- دونوں کا وطی کے وقت شادی شدہ ہونا۔ ان میں ہر ایک کا احصان دوسرے کو محصن قرار دینے کے لئے شرط ہے پس اگر باندی سے نکاح کیا یا آزاد عورت غلام سے نکاح کی تو آزادی کے بعد وطی کرنے تک وہ محصن نہیں ہوگا۔ کہ آزادی کے بعد وطی کرنے سے یہاں تک کہ کوئی ہی احصان ثابت ہوگا۔ آزادی سے پہلے احصان نہیں کہلاتا۔ یہاں تک کہ کوئی ذمی کسی مسلمان خاتون سے زنا کرے پھر وہ مسلمان ہو جائے تو اس کو رجم نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ کوڑے لگائے جائیں گے۔ ایک اور شرط باقی رہ گئی جس کو ابن کمال نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ دونوں کا احصان مرتد ہونے سے باطل ہوگا۔ اگر وہ دونوں مرتد ہو جائیں پھر دونوں اسلام قبول کرلیں تو دخول کے بغیر احصان عود نہیں کرے گا۔ اور اگر احصان باطل ہو جائے دیوانگی یا پاگل پن کی وجہ سے تو افاقہ ہونے کے بعد لوٹ کر آئے گا اور کہا گیا ہے کہ اس کے بعد وطی کرنے سے عود کرے گا۔ اور یاد رکھو کہ احصان کے باقی رہنے کے لئے نکاح کا باقی رہنا ضروری نہیں ہے۔ اگر زندگی میں ایک مرتبہ ہی شادی کی یا پھر طلاق دے دے یا اور بغیر شادی کے یا پھر زنا کیا تو رجم کردیا جائے گا۔ پس اگر وہ آزاد نہیں ہے یا مسلمان نہیں ہے یا عاقل و بالغ نہیں ہے یا اس سے اپنی بیوی کے ساتھ وطی نہیں ہوئی۔ یا وطی ہوئی لیکن نکاح فاسد کے ساتھ تو یہ آدمی غیر محصن ہے۔ اس کی حد کا حکم کوڑے لگانا ہے۔ یہ ہمارے پاس ہے۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس احصان کے لئے اسلام کا ہونا شرط نہیں ہے۔ اور ہماری دلیل حضور علیہ والہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد: من اشرك بالله فليس بمحصن جو آدمی شرک کرے وہ محصن نہیں ہے۔ (ماخوذ از تفسیرات احمدیہ شرح وقایہ، مرقات، درمختار) حضرت امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور جمہور علماء رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ محض حمل سے حد ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کا اعتراف کرنا یا گواہی کا قائم ہونا ضروری ہے۔ اور ان حضرات نے ان احادیث شریفہ سے استدلال کیا ہے جو شبہات کی بناء پر حدود کو دفع کرنے کے بارے میں آئی ہیں۔