العربية
Typed, pending editorial approval
٤٥٤٦ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «لَا يَسْتَلْقِيَنَّ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى».
وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ (رضي الله عنه) قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَلْقِيًّا وَاضِعًا إِحْدَى قَدَمَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى.
وَقَالَ عَلِيٌّ الْقَارِي رَحِمَهُ اللهُ الْبَارِيْ: وَجْهُ الْجَمْعِ بَيْنَ حَدِيْثِ جَابِرٍ وَعَبَّادِ: أَنَّ وَضْعَ إِحْدَى الرِجْلَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى قَدْ يَكُوْنُ عَلَى نَوْعَيْنِ: أَنْ تَكُوْنَ رِجْلَاهُ مَمْدُوْدَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا فَوْقَ الْأُخْرَى، وَلَا بَأْسَ بِهَذَا؛ فَإِنَّهُ لَا يَنْكَشَفُ مِنَ الْعَوْرَةِ بِهَذِهِ الْهَيْئَةِ، وَأَنْ يَكُوْنَ نَاصِبًا سَاقَ إِحْدَى الرِّجْلَيْنِ وَيَضَعُ الرِّجْلَ الْأُخْرَى عَلَى الرُّكْبَةِ الْمَنْصُوْبَةِ، وَعَلَى هَذَا فَإِنَّ لَمْ يَكُنْ انْكِشَافُ الْعَوْرَةِ بِأَنْ يَكُوْنَ عَلَيْهِ سَرَاوِيْلٌ أَوْ يَكُوْنَ إِزَارُهُ أَوْ ذَيْلُهُ طَوِيْلَيْنِ جَازَ، وَإِلَّا فَلَا. وَقَالَ بَعْضُ عُلَمَائِنَا: وَإِنَّمَا أُطْلِقَ النَّهْيُ؛ لِأَنَّ الْغَالِبَ فِيهِمْ الاتَّزَارُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 475 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2099a (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2100 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ملا علی قاری رحمہ اللہ الباری نے فرمایا: سیدنا جابر اور سیدنا عباد کی حدیث میں تطبیق یہ ہے کہ دو پاؤں میں سے ایک کو دوسرے پاؤں پر رکھنا بھی دو قسم کا ہوتا ہے: (1) ایک یہ ہے کہ اس کے دونوں پاؤں دراز ہوں اور دو میں سے ایک پاؤں دوسرے پاؤں کے اوپر ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس صورت میں ستر کا حصہ نہیں کھلتا، (2) اور دوسری قسم یہ ہے کہ وہ دونوں پاؤں میں سے ایک پاؤں کی پنڈلی کو کھڑا کرے اور دوسرا پاؤں کھڑے کئے ہوئے گھٹنے پر رکھے اس صورت میں اگر ستر کا حصہ نہ کھلتا ہو اس طرح سے کہ اس پر پائجامہ ہو یا اس کا تہبند یا اس کا دامن دونوں لمبے ہوں تو یہ جائز ہے ورنہ جائز نہیں ہے۔ اور ہمارے بعض علماء نے کہا: اس کی نہی و ممانعت اس لئے مطلق بیان کی گئی ہے کہ انہیں اکثر تہبند ہوتی تھی۔