العربية
Typed, pending editorial approval
٦٠١٣ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ(رضي الله عنهما) مَا بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ وَهُمْ 1 يَبْكُونَ، فَقَالَا : مَا يُبْكِيكُمْ؟ فَقَالُوا: ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ ﷺ مِنَّا ، فَدَخَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ للهِ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ وَقَدْ عَصَبَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ يَصْعَدْهُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ؛ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَقَدْ قَضَوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3799 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “they were weeping”: Meaning during his illness. The statement “we remembered the gatherings with the Prophet”: Meaning they feared losing them if Allah decreed his departure. The statement “my inner circle”: Meaning my close companions. In Sharh As-Sunnah: “My confidants” means my trusted ones, as Arabs use “confidant” for the heart or chest, the repository of secrets, just as a container holds clothes. The statement “they have fulfilled their obligations”: Meaning the Ansar fulfilled what was incumbent upon them through their pledge at Aqabah, where they vowed to support the Prophet (ﷺ) in exchange for Paradise, and they fulfilled it. Al-Asqalani said: “What is due to them” refers to their reward and recompense with Allah. “Accept from their good-doers” means if they provide an excuse for their actions, and “overlook their wrongdoers” means if they fail to provide an excuse. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: وهم يبكون أي في أيام مرضه . وقوله: «ذكرنا مجلس النبي ) يعنون نخاف فوته إن قدر الله موته. وقوله: «كرشي» أي بطانتي. وفي شرح السنة»: عيبتي، أي خاصتي، وهو موضع سري والعرب تكنى عن القلب والصدر بالعيبة؛ لأنهما مستودع السرائر كما أن العياب مستودع الثياب. وقوله: وقد قضوا أي أدى الأنصار الذي عليهم أي من الوفاء بما وقع لهم من المبائعة ليلة العقبة، فإنهم بايعوا على أنهم ينصرون النبي ولهم الجنة فوفوا بذلك، ذكره العسقلاني، وبقي الذي لهم أي من الأجر والثواب عند الله تعالى، فأقبلوا من محسنهم أي إن أتوا بعذر فيما صدر عنهم، وتجاوزوا عن مسيئهم أي إن عجزوا عن عذر التقطته من المرقاة».
Note 1
(62) قولہ: وهم يبكون۔ یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض کے زمانہ میں۔ وقولہ: ذكرنا مجلس النبي صلى الله عليه وسلم. ان کی مراد یہ تھی کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ رہنے کا اندیشہ کرتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حیات کو مقدر فرما دیا ہے۔ وقولہ: كرشي. یعنی میرے مخلص۔ اور شرح السنہ میں ہے ”عیبتی“ یعنی میرے خواص، اور وہ راز کا مقام ہے۔ اور عرب دل اور سینہ کو عیبۃ سے کنایہ استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ دونوں رازوں کی حفاظت کے مقام ہیں، جیسا کہ صندوقیں کپڑوں کی حفاظت کا مقام ہیں۔ وقولہ: وقد قضوا. یعنی انصار نے ادا کر دیا الذي عليهم جو کچھ ان پر واجب تھا، یعنی اس عہد وپیمان کے پورا کرنے کو جو (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) عقبہ کی رات ان کے حق ثابت ہوا تھا۔ کیونکہ انہوں نے اس بات کی بیعت کی تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں گے اور ان کے لئے جنت ہوگی، پس انہوں نے اسے پورا کیا۔ اس کو امام عسقلانی نے بیان کیا ہے۔ وبقي الذي لهم۔ یعنی ان کے لئے جو اجر و ثواب ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس باقی ہے۔ فاقبلوا من محسنهم۔ یعنی اگر وہ عذر پیش کریں اس بارے میں جوان سے صادر ہوا ہے تو تم قبول کرو۔ وتجاوزوا عن مسيئهم۔ اور ان میں سے جن سے کوئی نامناسب بات سرزد ہو جائے اور وہ عذر پیش کرنے سے عاجز ہوں تو ان سے درگزر کرو۔ (ماخوذ از مرقات)