Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

Hadith 709

بَابُ الْحَيْضِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

بَابُ الْحَيْضِ

Zujajat al-Masabih 709Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۰۹ - وَعَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْحَائِضِ، تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُوْرِيَّةٌ أَنْتِ؟ قُلْتُ: لَسْتُ بِحَرُوْرِيَّةٍ وَلَكِنَّنِي أَسْأَلُ. قَالَتْ: كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ، فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 335c (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 321 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں لفظ حروریہ جو مذکور ہے وہ حروراء کی طرف منسوب ہے جو کوفہ کے نواح میں ایک قریہ ہے اور حروراء وہ قریہ ہے جہاں سے فتنہ خارجیت کا آغاز ہوا اور خوارج ایک ایسا فرقہ ہے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی ہے اور اہل سنت و جماعت کے مسلک سے ہٹ کر عقائد اور اعمال میں ایک علیحدہ راستہ اختیار کیا جو آگے چل کر ایک گمراہ فرقہ بن گیا۔ اس حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سائلہ عورت نے جب سوال کیا تو ام المومنین رضی اللہ عنہا کو اندیشہ ہوا کہ ان کا یہ سوال بد اعتقادی کی وجہ سے تو نہیں ہے اس لئے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ تمہارا تعلق حروریہ یعنی فرقہ خوارج سے تو نہیں ہے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ اس لئے بھی دریافت کیا کہ خوارج کی ایک جماعت نے حائضہ پر ایام حیض میں فوت شدہ نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیا ہے جو خلاف اجماع ہے اور جب سائلہ عورت نے جواب دیا کہ میں خارجی نہیں ہوں تو پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جو جواب دیا تھا وہ حدیث میں مذکور ہے۔ (عینی، معجم البلدان اور دائرۃ المعارف بستانی۔)12۔