Hadith 694
Volume 1العربية
Qur’an-related source paragraphs
And the saying of Allah, the Exalted: "And they ask you about menstruation. Say, 'It is harm, so keep away from women during menstruation.'" (Al-Baqarah: 222)
كِتَابُ الطَّهَارَةِ · Chapter 13
27 narrations · In source reading order
العربية
And the saying of Allah, the Exalted: "And they ask you about menstruation. Say, 'It is harm, so keep away from women during menstruation.'" (Al-Baqarah: 222)
العربية
العربية
العربية
العربية
ردالمحتار میں لکھا ہے کہ حیض کی کم سے کم اور زائد سے زائد مدت کے تعین کے متعلق چند صحابہ سے مختلف اسناد کے ذریعہ روایتیں آئی ہیں اور یہ تمام اسناد حسن کے درجہ تک پہنچتی ہیں جس کی تفصیل علامہ کمال اور علامہ عینی رحمہما اللہ نے شرح ہدایہ میں بیان کی ہیں اور جس کی تلخیص ”بحر“ میں بھی کی گئی ہے۔12
العربية
(1) Sahabi (Companion of the Prophet ﷺ).
(۱) صحابي.
العربية
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
العربية
(1) His statement: "Regarding a pregnant woman who sees blood, etc.": Based on these narrations, it is stated in Al-Hidayah that the blood seen by a pregnant woman, whether at the beginning of pregnancy or during childbirth before the child is born, is considered istihadah (irregular bleeding), even if it is prolonged. Imam Al-Shafi'i, however, regarded it as hayd (menstruation), by analogy with nifas (postpartum bleeding), since both originate from the womb. Our stance is that during pregnancy, the mouth of the womb remains closed as per natural practice, and nifas occurs only after it opens upon the child's birth.
(۱) قوله: في الحامل ترى الدم إلخ: لهذه الآثار قال في «الهداية والدم الذي تراه الحامل ابتداء أو حال ولادتها قبل خروج الولد استحاضة، وإن كان ممتدا. وقال الشافعي الله : حيض؛ اعتبارًا بالنفاس؛ إذ هما جميعا من الرحم. ولنا أن بالحبل يَنْسَدُّ فمُ الرَّحِم كذا العادة، والنفاس بعد انفتاحه بخروج الولد.
ف: ان حدیثوں کے پیش نظر صاحب بدایہ نے وضاحت کی ہے کہ وہ خون جس کو حاملہ عورت حمل کے زمانہ میں دیکھے یا زچگی کے وقت بچے کے پیدا ہونے سے پہلے دیکھے وہ استحاضہ کا خون ہوگا اور اگر دوران حمل میں خون زیادہ دنوں تک جاری رہے تو وہ بھی استحاضہ ہی ہوگا، البتہ امام شافعی رحمہ اللہ علیہ نے اس خون کو جو ولادت کے وقت بچے کی پیدائش سے قبل نظر آتا ہے نفاس کا اعتبار کرتے ہوئے حیض قرار دیا ہے کیونکہ امام موصوف کے پاس نفاس کا خون اور وہ خون جو ولادت سے پہلے نظر آتا ہے رحم ہی سے نکلتے ہیں، لیکن احناف کی تحقیق یہ ہے کہ عادۃً حمل کی وجہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے جو بچہ کے پیدا ہونے کے بعد کھلتا ہے، اس لئے ولادت سے پہلے جو خون نظر آئے گا وہ رحم کا خون نہیں ہے بلکہ ایک رگ کے پھٹ جانے کی وجہ سے آ رہا ہے، اس خون کو حیض کا خون کہنا یا نفاس کا خون کہنا مناسب نہیں اور اسی بناء پر ہمارے پاس یہ استحاضہ ہی ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ میں بھی ایسا ہی مذکورہ ہے۔)
العربية
ف: اس حدیث میں ”تَغِيضُ الْأَرْحَامُ“ کا ترجمہ تکملہ مجمع البحار سے لیا گیا ہے۔12
العربية
العربية
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: اس حدیث میں لفظ حروریہ جو مذکور ہے وہ حروراء کی طرف منسوب ہے جو کوفہ کے نواح میں ایک قریہ ہے اور حروراء وہ قریہ ہے جہاں سے فتنہ خارجیت کا آغاز ہوا اور خوارج ایک ایسا فرقہ ہے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی ہے اور اہل سنت و جماعت کے مسلک سے ہٹ کر عقائد اور اعمال میں ایک علیحدہ راستہ اختیار کیا جو آگے چل کر ایک گمراہ فرقہ بن گیا۔ اس حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سائلہ عورت نے جب سوال کیا تو ام المومنین رضی اللہ عنہا کو اندیشہ ہوا کہ ان کا یہ سوال بد اعتقادی کی وجہ سے تو نہیں ہے اس لئے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ تمہارا تعلق حروریہ یعنی فرقہ خوارج سے تو نہیں ہے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ اس لئے بھی دریافت کیا کہ خوارج کی ایک جماعت نے حائضہ پر ایام حیض میں فوت شدہ نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیا ہے جو خلاف اجماع ہے اور جب سائلہ عورت نے جواب دیا کہ میں خارجی نہیں ہوں تو پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جو جواب دیا تھا وہ حدیث میں مذکور ہے۔ (عینی، معجم البلدان اور دائرۃ المعارف بستانی۔)12۔
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: "What is above the waist wrapper (izar)": The jurists have defined it as the area between the navel and the knees, based on common customary practice. This is mentioned in Fath al-Bari.
(۱) قوله : ما فوق الإزار : وحده الفقهاء بما بين السرة والركبة؛ عملا بالعرف الغالب. كذا في «فتح الباري».
اور نیل میں مذکور ہے کہ ابوداؤد کی روایت میں دو راوی صدوق ہیں اور ابوداؤد کے باقی راوی بھی ثقہ ہیں۔
ف: عورت جب حیض کی حالت میں ہو تو اس کے بدن سے استفادہ کے متعلق علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ عورت کی ناف اور ناف کے اوپر کے سارے بدن اور گھٹنا اور گھٹنے کے نیچے پیروں تک کے حصہ سے کپڑا ڈھانکے بغیر عورت کے جسم سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے بلکہ ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ سے بھی کپڑا ڈھانک کر نفع حاصل کیا جا سکتا ہے اگرچہ کہ صرف یعنی حیض کے کپڑے پر خون آ رہا ہو، امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کا قول یہی ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قول جدید میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ (ردالمحتار ومرقات۔)
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His statement: "So I wrapped myself with a waist wrapper, and he would be intimate with me, etc." The meaning is that I tied the izar around my waist. This indicates the permissibility of enjoyment above the izar but not below it. This is the opinion of Abu Hanifa, Malik, and Al-Shafi‘i in his later opinion. Perhaps the saying: "Do everything except intercourse" was a concession, while his (the Prophet's) action was a firm directive to teach the ummah, as it is more cautious. For indeed, whoever grazes near the forbidden pasture is likely to enter it. This is mentioned in Al-Mirqat.
(۱) قوله: فأتزر فيباشرني إلخ والمعنى: فأعقد الإزار في وسطي، وهذا يدل على جواز الاستمتاع بما فوق الإزار دون ما تحته، وبه قال أبو حنيفة ومالك والشافعي في قوله الجديد. ولعل قوله : اصنعوا كل شيء إلا النكاح، كان رخصة، وفعله غزيمة؛ تعليما للأمة، فإنه أحوط، فإن من يرتع حول الحمى يوشك أن يقع فيه، كذا في «المرقاة».
العربية
Mishkat (candidate) 555
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
العربية
Mishkat (candidate) 551
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اور اکثر علماء نے کہا ہے کہ حیض کی حالت میں جماع کرنے والے پر استغفار کے سوا کوئی چیز واجب نہیں ہے اور ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے، واضح رہے کہ جو علماء اس بات کے قائل ہیں کہ حالت حیض میں جماع کرنے سے خیرات واجب نہیں ہوتی، انہوں نے یہ جواب دیا کہ حائضہ سے جماع کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں خیرات کرنے کا جو ذکر ہے وہ استحباب پر محمول ہے چاہے تو خیرات کرے اور چاہے تو نہ کرے، چنانچہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو عمدۃ القاری میں بیان کیا ہے اور اسی طرح عالمگیریہ میں مذکور ہے، البتہ بذل المجہود میں لکھا ہے کہ علماء نے حائضہ سے جماع کرنے سے کفارہ واجب ہونے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے کہ ایسے شخص پر کچھ بھی واجب نہیں ہے بلکہ خیرات دینا مستحب ہے اگر ابتدائی حیض میں جماع کرلیا ہو تو ایک دینار خیرات کرے اور اگر آخری حیض میں جماع کیا ہو تو نصف دینار خیرات کرے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مستحاضہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے رحم سے خون بغیر ایامِ حیض اور نفاس کے جاری رہتا ہے، عورت کے رحم میں ایک رگ ہوتی ہے جس کو ”عاذل“ کہتے ہیں اور اس رگ کے پھٹ جانے سے خون جاری ہوتا ہے تو عورت کو جب اس قسم کا خون جاری ہو تو وہ نماز، روزہ اور تمام عبادتیں بدستور پڑھا کرے اور اس حالت میں صحبت بھی ممنوع نہیں ہے۔ (مرقات 12)۔