العربية
Typed, pending editorial approval
٧٤٢ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ : جَاءَ رَجَلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ. قَالَ: وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْهُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ ﷺ الصَّلَاةَ قَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ فِي كِتَابَ اللهِ. قَالَ: «أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَإِنَّ اللهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ أَوْ حَدَّكَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6823 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2764 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں سائل سے جس گناہ کے سرزد ہونے کا ذکر ہے، انہوں نے اس کو اپنے خیال میں گناہ کبیرہ سمجھا اور اسی خیال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اس گناہ کی پاداش میں حد جاری کر دی جائے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ وحی معلوم فرما لیا کہ وہ گناہ ایسا نہیں ہے کہ جس پر حد جاری کی جائے اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم صادر فرمایا کہ وہ گناہ نماز باجماعت ادا کرنے کی وجہ سے معاف ہو گیا ہے، اس لئے اب حد جاری کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ (یہ لمعات سے ماخوذ ہے۔12)