English
Anas narrated that a man came to the Prophet ﷺ and said: "O Messenger of Allah, I have committed a sin, so implement the punishment upon me." The Prophet ﷺ did not ask him about it, and when prayer time arrived, the man prayed with the Prophet ﷺ. After the prayer, he stood up and said: "O Messenger of Allah, I have committed a sin, so implement the punishment upon me." The Prophet ﷺ said: "Did you not pray with us?" The man replied: "Yes." The Prophet ﷺ said: "Then Allah has forgiven your sin, or your punishment."
العربية
Typed, pending editorial approval
٧٤٢ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ : جَاءَ رَجَلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ. قَالَ: وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْهُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ ﷺ الصَّلَاةَ قَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ فِي كِتَابَ اللهِ. قَالَ: «أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَإِنَّ اللهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ أَوْ حَدَّكَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 837
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ایسا
گناہ سرزد ہوا ہے جس پر حد جاری ہوتی ہے پس حضور مجھ پر حد جاری فرمائیں، انس رضی اللہ
تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اس کے فعل کے متعلق دریافت نہیں
فرمایا (کہ تم نے کیا کیا ہے؟) اس اثناء میں نماز کا وقت آ گیا تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے ساتھ نماز باجماعت ادا کیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہی شخص اٹھا
اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایسا گناہ کیا ہے جس پر حد جاری ہوتی ہے اس
لئے آپ مجھ پر کتاب اللہ کا حکم جاری فرمائیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے ہمارے
ساتھ نماز باجماعت ادا نہیں کی ہے؟ اس نے جواب دیا ہاں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے گناہ کو معاف کر دیا ہے، یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ بیشک
اللہ تعالیٰ نے تمہاری حد کو بخش دیا ہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6823 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2764 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں سائل سے جس گناہ کے سرزد ہونے کا ذکر ہے، انہوں نے اس کو اپنے خیال میں گناہ کبیرہ سمجھا اور اسی خیال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اس گناہ کی پاداش میں حد جاری کر دی جائے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ وحی معلوم فرما لیا کہ وہ گناہ ایسا نہیں ہے کہ جس پر حد جاری کی جائے اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم صادر فرمایا کہ وہ گناہ نماز باجماعت ادا کرنے کی وجہ سے معاف ہو گیا ہے، اس لئے اب حد جاری کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ (یہ لمعات سے ماخوذ ہے۔12)